گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائینگے

شہید زولفقار علی بھٹو کا تاریخی فقرہ یاد آرہا ہے “گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائینگے” آج الحمداللہ ہم 28 مئی 1998 سے دنیا کے ان سات ملکوں کی صف میں کھڑے ہیں جن کے پاس یہ جوہری قوت موجود ہے. یہ ہماری مستقبل کی ضمانت ہے اور بلاشبہ ہمیں اس پر فحر ہے. لیکن جب میں دوسری طرف دیکھتا ہوں کہ ملک کے شوشل میڈیا پر عوام ایک دوسرے کے لیے جو قابل اغتراض زبان استعمال کرتے ہیں یعنی گالم گلوچ اور وہ الفاظ جو مجھے یہاں دُھرانے میں شرم آتی ہے. تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم بہت کمزور ملک سے تعلق رکھتے ہیں اور کسی بھی وقت کسی بھی حادثہ کا شکار ہوسکتے ہیں.
خاصکر نوجوان نسل جب سوشل میڈیا پر بحث کے دوران جو زبان اور الفاظ استعمال کرتے ہیں تو مستقبل تاریک نظر آتا ہے. سیاست ہو یا زندگی کا اور کوئی شعبہ اختلاف رائے قدرتی آمر ہے. بلکہ میں یہی کہونگا کہ اختلاف رائے خُسن گفتگو ہوتا ہے لیکن نازیبا الفاظ کا استعمال ممنوع ہونا چائیے. دنیا کی دوسری اقوام ہمارے متعلق کیا سوچے گی?
خاصکر پاکستانی سیاستدانوں کو چاہئے کہ اپنے نوجوان نسل میں اس بیماری کو شجرے ممنوعہ قرار دے. جب بھی کوئی بات کرتا ہے تو مخالف پارٹی کے لوگ توپوں کے منہ اس طرف کرکے ایک لمبی لڑائی کا آغاز کردیتے ہیں. اور جنگ بندی اس وقت ہوتی ہے جب ان کے پاس تمام غیر اخلاقی الفاظ کا خاتمہ ہوجائے. اور اسمیں خطرناک بات یہ ہوتی ہے کہ اس جنگ میں انکے بڑوں کی آشیرباد بھی حاصل ہوتی ہے. تمام لوگوں (بشمول تمام سیاسی پارٹی والوں) سے درخواست ہے کہ اپنے اپنے شیروں کو قابو میں رکھیں تاکہ خالات قابو میں رہیں. اور اپنے ملکی اداروں پر تنقید کے دوران اختیاط سے کام لیں.
تحریر
صوبیدار میجر ریٹائرڈ
بخت روم شاہ تمغہ خدمت
سیاسی و سماجی کارکن بونیر خیبر پختونخواہ

اپنا تبصرہ بھیجیں