376

پاکستان کی تبدیلی بذریعہ ووٹ

جمھوریت میں طاقت کا سرچشمہ ہمیشہ عوام ہوتا ہے. لیکن بد قسمتی سے امیدواروں کے چناؤ کے دوران ہم نہ تو انکے تعلیمی معیار کو دیکھتے ہیں اور نہ انکے انتظامی مہارت (ایڈمنسڑیٹیو سکلز) کو. اگر ایسا ہوتا تو ہمارے بہت سارے مسائل خود بخود حل ہوجاتے. ہم تو صرف چناؤ کا معیار برادری, تعلقات اور پیسہ کو سمجھتے ہیں. امیدوار کے ماضی کو بھی دیکھنا چاہئے. چناؤ ہمیشہ بے داغ ماضی والے کا کرناچاہئے. یہ امیدواران اقتدار کے خاطر ہر دفعہ ایک نئی سیاسی گٹھ جوڑ کو پسند کرتے ہیں. انکو عوام کے مسائل سے کوئی غرض نہی انکو پیسے سے بھی عرض نہی ہوتا. پیسہ انہوں نے کافی جمع کردیا ہے. لوٹ مار کے پیسے سے بڑے مگرمچوں نے بیرونی ملک اور چھوٹوں نے بیرونِ شہر جائیدادیں خریدلی ہیں. یہ لوگ صرف پروٹوکول چاہتے ہیں. کہ سرکاری نبمر پلیٹ کی گاڑیاں انکے اگے اور پیچھے ہارن بجاتی ہوئی چلتی ہوں. اور ایسے لوگوں کے سپورٹرز بھی سمگلرز, ڈاکو اور قاتل گروپ سے تعلق رکھتے ہیں. جب اقتدار میں آجائیں تو انکو علاقائی یا قومی مسائل کے حل سے کوئی عرض نہی. کیونکہ انکے مشیر بھی یہی کرپٹ مافیا کے لوگ ہوتے ہیں. جن سے خدمت نامی چیز کی کوئی توقع نہی. عوام ہر پانچ سال کے بعد بکتے ہیں ان مافیا کے ہاتھوں. جب معاشرے میں بے انصافیاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں تو پھر مختلف تنظیموں کا وجود بننا شروع ہوجاتاہے. پوچھنے والا کوئی نہ ہو تو عوام مایوس ہوکر انتقام کے آگ کی تپش محسوس کرتے ہوئے انصاف کے لیے کسی بھی پرہشر گروپ کو جوائن کرنے میں اپنی عافیت سمجھتی ہے. اور الزام اداروں پر لگاتے ہیں. یہ سب کچھ کون کرتا ہے. اسکے ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیں. انکو ہم نے حاکم بنایا ہوتا ہے. کیوں کسی ظالم کے ہاں انصاف تلاش کر نے کی کوشش کرتے ہو.? کیا پوری زندگی غلام ابن غلام ہی رہوگے? دنیا میں ہر روز سیاسی, معاشی, تعلیمی اور جعرافیائی تبدیلیاں آرہی ہیں. اپنے اپ کو دنیا کا حصہ سمجھے. تبدیلی کے لئے تیار ہوجاؤ ورنہ یہ ظالم اپکی اولادوں کو مقروض بناکر گروی رکھ دینگیں. تبدیلی قبول کرنا بذات خود ایک چیلنج ہوتا ہے. اور اسکے لیے تیار ہوجاؤ. ووٹ صرف ایماندار کو دیا جانا چاہئے. الیکشن کے دوران صرف بلے پر ٹھپہ. بلہ یاد رکھیں.
تحریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمعہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں