ووٹ اور ووٹر کا جھگڑا

کئی دنوں سے سن رہا ہوں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ووٹ کو غزت دو اور کچھ لوگ کہتے کہ ووٹر کو غزت دو. میرے خیال میں ‏ووٹر صرف ووٹ دے سکتا ہے۔ ووٹ کے تقدس کو یقینی بنانا لیڈر کا کام ہوتا ہے۔لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ بغض لیڈر تو خود رو رہے ہیں اور کہتے پھرتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا. میرا کیا قصور تھا. لیڈر کا کام رونا نہیں لیڈر کا کام ہمارے حق کیلئے لڑنا ہے۔ یہاں لیڈروں کے اپنے رولے ختم نہیں ہوتے۔یہ رولے عوام کی نہیں آپکی اپنی وجہ سے ہیں۔ بندوق ہمارے کندھے پر کیوں۔ کیوں ہر وقت تنقید کرتے ہو. اگر اداروں کو آذادانہ کام کرنے دوگے تو کام چلے گا. ورنہ گردن سے سریا نکالنا بڑا آسان کام ہوتا ہے. اللہ کی زات بہت بڑی ہے. جب چاہے گرفت میں لے لیں. جہاں حاکم ہی چور اور ڈاکو ہو تو قوم کس کے سامنے فریاد کرے گی. اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان میں عدلیہ جاگ رہی ہے ورنہ اب تک ہر آدمی یہ سوال کرتا کہ مجھے کیوں بیھج ڈالا. جسکا اپنا علاج لندن میں اور قوم کی بیٹی بچہ پروٹوکول کے نام بند چوراہے پر رکشہ میں جنم دیتی ہو. وہاں انصاف کون دےگا. جس اسلامی ملک میں پارلیمنٹیرین کے کمروں سے انکے اپنے جسمات کے سائز کے مطابق شراب کی بوتلیں نکلتی ہوں. وہاں اسلامی قوانین کا تخفظ کون کرےگا. الزام زمینی اور خلائی مخلوق پر کیوں لگاتے ہو. قوم سے معافی مانگ کر اللہ کے سامنے سجدہ کرکے پھر سے نئی زندگی کا آغاز کیوں نہی کرتے. پھر کہتے ہو مجھے کیوں نکالا. دشمنوں کو بھائی اور بھائیوں کو دشمن بنالیتے ہو اور ہر راز کو دشمن کے خوالہ کرتے ہو. پہر کہتے ہو مجھے کیوں نکالا . ووٹ اور ووٹر کی تضحیک کرکے پھر کہتے ہو مجھے کیوں نکالا. اب صبر کرو الکشن کے بعد کہوگے کہ مجھے کیوں اندر ڈالا. ووٹ کی غزت ووٹر خود کرواتا ہے. جب نااہل کو اہل بناکر حاکم بناؤگے تو ووٹر اور ووٹ کی غزت نہی ہوگی. لہذا سوچ سمجھ کے بعد ووٹ دینا ہوگا ورنہ پھر خود بھی کہوگے کہ میں نے ووٹ کیوں ڈالا اور نااہل کو حاکم کیوں بنا ڈالا.
تخریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبرپختونخواہ

اپنا تبصرہ بھیجیں