واہ رے واہ پاکستانی سیاستدانوں کی تقاریر

مہذب اور جمھوریت پسند ممالک میں جب بھی الیکشن کمپئین یا سیاسی تقاریر ہوتے ہیں تو منشور اور ترقیاتی کاموں کا ذکر ہوتا ہے. لیکن میرے وطن میں جب بھی بات ہوتی ہے تو ایک دوسرے پر کیچھڑ اچھالتے ہیں. اکثر اوقات بیانات میں ذاتی اور نجی زندگی پر تنقید ہوتی ہے. اور بہت ہی غیر اخلاقی انداز میں. کیا ہم اپنے آنے والے نسلوں کو یہی تربیت اور سبق دینگے. کیا ہم کمنٹس میں ایک دوسرے کو گالیاں دینگے. ہمارے پاس ملک کو تعمیر کرنے کے لیے کوئی ایجنڈا نہی?
۱. غربت ختم ہوگئ
۲.دہشتگردی ختم ہوگئ
۳. لوڈشیڈنگ ختم ہوگئ
۴. صحت کے مسائل حل ہوگئے
۵. تعلیم, ابادی, بیماری, لاء اینڈ آرڈر کے مسائل ختم ہوگئے
۶.کیا روٹی, کپڑا اور مکان سب کو مل گئے
۷. کیا شرعی قانون لاگو ہوگیا ہے
۸. کیا ہمارے تمام مسائل ہوگئے
جواب اگر نہی میں ہے تو ان مسائل کو کمپئین میں اجاگر کریں. اور کارکن اسکے حل کے لیے کمنٹس کیا کریں بجائے گالیاں دینے کے. براہ کرم شمولیتی پروگراموں میں درجنوں لوگوں سے تقاریر کروانے کے بجائے حلقے کے صدر, جنرل سیکڑی, ضلعی صدر, ضلعی سیکڑی اور مہمان خصوصی سے تقاریر کروائیں جائیں. اور بہتر یہ ہوگا کہ منشور پر بات کی جائے. تنقید سے گریز کیا جائے.
تحریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبرپختونخوا

اپنا تبصرہ بھیجیں