342

ملکی تاریخ میں دو عظیم شہید لیڈران اور زندہ شہید کے نام خط

۱. شھید زولفقار علی بھٹو.
۲. زندہ شھید عمران خان
دونوں لیڈروں کے سیاسی اور ذاتی زندگی میں مماثلت.
۱. سیاست کا آغاز اور انجام ایک جیسا.
کارکنوں کو سیاسی شعور اور مستقبل کے خواب دینا.
۳. عوام میں مقبول اور بام عروج پر پہچننا.
۳. جلسوں اور جلوسوں میں عوام الناس کو اپنے طرف کھینچنا.
۴. عوام اور ملک کے ساتھ محلص رہنا.
۵. خارجہ پالیسی کی مماثلت وعیرہ وعرہ.
خیر مجھے بھٹو صاحب کے اقتدار کے عروج والے دن یاد تو نہی لیکن زوال ضرور یاد ہے. انکا زوال 1976 میں اس بات پر ہوا تھا کہ انھوں نے عوام اور کارکنوں سے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہی کیں. انکے اردگرد خوشامدی ٹولہ انکو اپنے کارکنوں سے دور رکھتے تھے. اور جب انھوں نے احتجاج کیا تو اپنے بنائے ہوئے فورس سے ڈھنڈے مروائے اور طاقت کے ذریعہ ہمیشہ کے لئے خاموش کردیئے. اور آخر کار پھانسی پر چڑھا دیئے گئے اور اپنے کارکنوں میں ہہی غلط فہمی چھوڑ گئے کہ کل بھی بھٹو زندہ تھا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے. جرم یہ تھا کہ سیاسی شعور دینے کے بعد کارکنوں کو طاقت سے دبایا اور انکے رائے کا اخترام نہی کیا. اب مستقبل کے دوسرے سیاسی شھید بھی وہی غلطی دھرانے جا رہے ہیں. کارکنوں کو کہا کہ اگر میں بھی کوئی غلط کام کروں تو میرے خلاف بھی اواز بلند کریں. ہر وقت انصاف اور میرٹ کو سامنے رکھا جائیگا. اقتدار عریب اور متوسط طبقے کے نوجونوں, باہمت اور با صلاحیت لوگوں کے خوالہ کیا جائیگا. لیکن ٹکٹوں کے تقسیم کے دوران نظریاتی اور مخلص لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا. اور تقریباَ ہر جگہ لوگ سراپا اختجاج ہیں لیکن خوشامد ٹولہ انکو ہر وقت سب اچھا کی رپورٹ دے رہے ہیں. یہی خال رہا تو ملکی سطح پر پی ٹی آئی کو بہت بڑی شکست کا سامنا کرنا ہوگا. اور کے پی کے میں عموماَ اور خصوصاَ ملاکنڈ ڈویزن کے ضلع بونیر میں ایک غبرتناک شکست ہوگئ. جسکا ذمدار مخمود خان اور پرویز خٹک ہوگا. پرویز خٹک نے 8 اکتوبر 2017 کو بونیر کے عوام کے ساتھ جو وعدے کیئے تھے وہ سارے جھوٹ نکلے اور کچھ بھی نہی کیا. اور پھر ٹکٹوں کے تقسیم کے دوران نظریاتی لوگوں کو اگنور کیا گیا. جس کی وجہ سے ضلع بونیر کی اکثریتی کارکن ناراض ہوکر آج شام نظریاتی کارکن معین دین باچہ کے ڈیرے پر افطاری کے دعوت پر مدعو ہوکر اپنا اختجاج رکارڈ کرائینگے. جو عمران خان کے لیئے سیاسی خودکشی کا زریعہ بنےگا. میں مانتا ہوں کہ سب لوگوں کو ٹکٹ نہی دیا جاسکتا تھا. لیکن جسکو دیا وہ خوش اور جسکو نہ ملا وہ ناراض بن کر پارٹی کے لیئے خودکش بمبار بن گیا اور ہر سیٹ پر متوازی نظریاتی کارکن الیکشن میں آذاد حیثیت پر قسمت ازمائی ضرور کرےگا جو پارٹی کے لیئے خوش آئیند بات نہی. اگر ایسا کرنا بھی تھا تو اپنے کارکنوں میں پچھلے بائیس سالوں میں صبر, برداشت اور قربانی کا مادہ پیدا کرنے کی کوشش ضرور کرنا چاہئے تھا. جو ماضی میں نہ ہوسکا. جسکی وجہ سے پی ٹی آئی کا ووٹ تقسیم ہوجائیگا اور ہر جگہ شکست ہمارہ مقدر بن جائےگا. اور جیتی ہوئی بازی کو خوشامیدی ٹولے کے غیر منصفانہ فیصلوں کی وجہ سے ہار میں تبدیل ہو جائیگی.. جسکی وجہ سے ہم پاکستانی جس کو اپنا مسیخا سمجھ رہے تھے وہ سیاست میں زندہ شھید کے نام سے پھچانے جانے لگینگے.عمران خان سے درخواست ہے کہ ان خوشامدی ٹولے کو سختی سے ڈانٹے اور ناراض کارکنوں کو راضی کرے. یہ ایک ہی طریقے سے ہوسکتا ہے کہ ان خوشامدی ناخداؤں کے گردنوں میں سے سریا نکال کر دوبارہ ناراض کارکنوں کے پاس بیجھیں اور ان سے معافی مانگیں اور انکے ساتھ مستقبل میں کہیں اور ایڈجسٹ کرنے کے وعدے کیئے جائیں ورنہ الیکشن کے بعد یہ نہ کہنا کہ دھاندلی ہوئی ہے. موجودہ صورت خال میں شکست اپکا مقدر بن گیا ہے.
تحریر و تجزیہ
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی ضلع بونیر خیبرپختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں