332

جمہوریت اور ڈکٹیٹر شپ میں فرق

ہر سیاسی کارکن کو ان دو الفاظوں کے معنیٰ کا پتہ ہوتا ہے “جمہوریت کی تعریف یعنی Definition کے حوالے سے دیکھا جائے تو پولیٹیکل سائنس کی کتابوں میں ابراہم لنکن کے الفاظ میں اسے کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ لوگوں کی حکومت, لوگوں کے لئے اور لوگوں کے زریعے.” اور ڈکٹیٹر شپ اسکے متضاد کو کہا جاتا ہے. یعنی فرد واحد کی حکومت.
اب اگر ہم اس تعریف کے مطابق ضلع بونیر کے پی ٹی آئی کو جانچے اور جائیزہ لیں تو ییاں پر جمہوریت کم اور ڈکٹیٹر شپ زیادہ نظر آتا ہے. کوئی بھی فیصلہ کارکنوں کے مرضی کے مطابق نہی ہوتا. فیصلے صرف ریجن کے صدر محمود خان یا ضلع کے صدر ریاض کرتے ہیں. دونوں جنگل کے بادشاہ ہیں سیاہ کرے یا سفید کرے, یا پھر انڈے دے یا بچے دے. مرضی انکی اپنی. پہلے تو ضلعی کابینہ میں منظور نظر لوگوں کو غیر جمہوری طریقے سے عہدے دیئے گئے ہیں. اور جن کو عہدے دیئے تو پھر انکو اختیار نہی دیا گیا ہے. برائے نام عہدے ہیں. جو بھی فیصلہ کرنا ہو تو اوپر سے نازل ہوتا ہے. کارکن کے رائے کو فیصلے شامل نہی کیا جاتا ہے. ایک موقع پر محمود خان نے کہا تھا کہ میں سیکشن کے زریعے آیا ہوں اور میں کابینہ کو بھی سلیکشن کے زریعے بناونگا. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم کارکن کم اور انکے غلام زیادہ ہیں. امیدواروں کے چناو کے سلسلہ میں کسی بھی ورکر کو اعتماد میں نہی لیاگیاہے. ٹوٹلی ڈکٹیٹر شپ ہے. صدر اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ ہر بات پر مشاورت کرے. یہاں پر اپنی مرضی چلتی ہے. محمود خان اور ریاض نے پورے ضلع کو یرغمال بنایا ہوا ہے. پارٹی میں جزا اور سزا, دسپلن, مشاورت, ہم اھنگی, بردباری, سنجیدگی نام کی کوئی چیز نظر نہی آرہی ہے. کارکن دن بدن مایوسی کے طرف جاریے ہیں. مستقبل تاریک نظر ارہا ہے. جو وعدے کیئے گیئے تھے کہ ہر کام جمہوری انداز میں ہوگا لیکن فی الخال کوئی چیز نظر نہی آرہی. ریاض خان ریجنل صدر مخمود خان کے ہر بات پر یس سر کہتا رہا. جسکے پس پردہ انکا اپنا ایجنڈا تھا یعنی ٹکٹ کی حصولی. اور انکو مل گیا ہے. پارٹی کی کامیابی اور نا کامی سے انکو کوئی غرض نہی. مکمل طور پر ناکام اور ناقص نظام چلایا گیا ہے. اور جس کا رزلٹ انکو الیکشن 2018 میں ملےگا. ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو میری یہ باتیں اس موقع پر اچھی نہی لگینگی. لیکن وقت کا انتظار کریں. تاریخ کسی کو معاف نہی کرتا. خان صاحب سے درخواست ہے کہ ان دونوں کو جتنا جلدی ہوسکے تو چلتا کتے ہوئے پارٹی کے معملات سے بے دخل کیا جائے اور عبوری کابینہ کا اعلان کیا جائے جب تک انٹراپارٹی الیکشن نہ ہوجائے.

تجزیہ اور تحریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبرپختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں