309

مایوسیوں کے سائے تلے زندہ رہنا اور خواب کوہ ہمالیہ کی طرح بلند و بالا

مایوسیوں کے سائے تلے زندہ رہنا اور خواب کوہ ہمالیہ کی طرخ بلند و بالا.

دانائی کا تعلق بالوں کے سفیدی سے نہیں, عقل اور تجربے سے ہے. دل سیاہ ہو تو ڈاڑھی کے سفید بالوں کی کیا وقعت! ” مولانا جلال الدین رومی”
سیاست کو خدمت اور عبادت سمجتا رہا لیکن اندر سے تو بہت ہی بدبودار نظر آتا ہے. یہاں اس سیاسی منڈی میں تو انسان بکتے ہیں اور خریدار بولیاں لگاتے رہتے ہیں. ضمیروں کا سودا کرنا پڑتا ہے. اگر اپ خق کی بات کرینگیں تو لوگ اپکو ناقصالعقل اور ناکام انسان سمجھ لینگے. اور اگر صبخ شام ضمیروں کے سوداگر کے ہاں کے ساتھ ہاں ملاینگیں تو اپکو سو قتل معاف.
سیاستدان عوام کو بیوقوف سمجھ کر مداری کی طرخ ڈُگڈُگی بجاتے رہتے ہیں. عین انتخابات کے دور میں کچھ نغرے ایجاد کیے جاتے ہیں اور جسکی وجہ سے ووٹ وصول کرکے عوام کو پانچ سالوں تک اس دلدل میں چھوڑ کر خود مخلات اور ایوانوں میں بیٹھ جاتے ہیں.
نئے اور پرانے نغرے.
۱. کل بھی بھٹو زندہ تھا اور آج بھٹو زندہ ہے.
۲. شیر آیا شیر آیا.
۳. اسلامی نظام زندہ باد.
۴. لر اور بر. خپلہ خاورا او خپل اختیار.
۵. نیا پاکستان
۶. مہاجر زندہ باد.
۷. جئے سندھ وغیرہ وغیرہ

میں تو کہتا ہوں کہ عوام کو ان نغروں کا پتہ ہونا چاہئے.
۱. کل بھی عوام بیوقوف تھی اور آج بھی عوام بیوقوف ہے.
۲. عوام ہمیشہ بھوکی رہیگی.
۳. عریبوں کے بچے ہمیشہ سڑکوں پر پیدا ہونگے.
۴. خکمرانوں کا علاج اور تعلیم لندن میں اور غریب کا کھنڈر میں.
۵. امیروں کے لئے منرل واٹر اور ووٹر کے لیئے گٹر ملا پانی.
۶. سائیکل چور جیل میں اور کھربوں چور لینڈ کروزروں میں.
میرے دوستو, بھائیو تبدیلی کے لئے تیار ہو جاؤ. صرف آنگھوٹوں کا نشان صرف بلے پر. کامیابی صرف ایک مہر کے فاصلے پر. سب کو کئی بار آزمالیا ہے اب آخری بار خان کو ازمالیں.

سندیافتہ صادق اور آمین.
نڈر اور قوم کا ہمدرد
اعلیٰ تعلیمیافتہ
قوم کا ہیرو

تخریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبرپختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں