سوشل میڈیا فیک آئی ڈیز اور بیان

فیسبک کے آنے کے بعد اب ہر انسان کی سوشل میڈیا تک رسائی بہت آسان ہو چکی ہے. ہر ادمی اپنی بات یا مواد کو بآسانی اپلوڈ کرکے کسی کے نام کے ساتھ منسوب کرسکتا ہے. اس سے فائدہ بھی ہوتا ہے لیکن بغض آوقات نقصان بھی کافی سارا ہوتا ہے. جو بغض اوقات کسی کی توہین یا بے غزتی کا باعث بن جاتا ہے. تحقیق کے بعد پتہ چلتا ہے کہ آئی ڈی تو فیک ہے. یہاں انسان بے بس ہوجاتا ہے. اکثر لوگ کچھ دنوں کے بعد معلوم ہونے پر تردید یا مغزرت پیش کرتے ہیں لیکن بےسود. کیونکہ وہ پیغام اُس وقت تک پوری دنیا میں پھیل چکا ہوتا ہے. اب تک ضلع بونیر میں فیک آئی ڈیز کے زریغے گاؤں کلپانی سے تاج محمد (تاج پی ٹی آئی) اور انغانپور گاؤں سے اقبال حسین صاحب شکار ہوچکے ہیں. اور بغض لوگ تو ویڈیوز اور بیانات کو ایڈٹ کرکے دوسروں کی توہین بھی کرتے ہیں.
لہذا میں سامعین و ناظرین, پڑھنے والوں اور لکھنے والوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس قسم کے مواد پر زرہ ٹھنڈے دماغ سے کمنٹس دیا کریں. تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو.
ویسے تو پاکستان میں سائیبر کرائم کا قانون بھی تو بن چکا ہے. اور اس پرعمل درآمد بھی ہورہا ہے. لیکن میرا ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ فیک آئی ڈیز رکھنے اور بنانے والوں کے خلاف سختی سے کاروائی کی جائے.
تحریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اپنا تبصرہ بھیجیں