پاکستان میں سیاسی سوچ

جوں جوں انتخابات نزدیک ہوتے جا رہے ہیں تو محتلف پارٹیوں کے ورکرز ایک دوسروں کی سابقہ حکومتوں پر اعتراضات کرنےمیں تیزی بھی دیکھائی دے رہے ہیں. پی ٹی آئی والے پنجاب حکومت پر اور مسلم لیگ نون کے پی حکومت پر. مسلم لیگ ن کو اپنی کارکردگی دیکھانے کے لیے پاکستان میں پورے 30 سال ملے تھے. کافی سارا کام کیا ہے لیکن ملک کو ساتھ ساتھ لوٹا بھی ہے. آج ڈالر کی قیمت 128.75 روپے ہے. ملک قرضوں کے بوج تلے ڈوبا ہوا ہے. مہنگائی کا سورج دن بدن چھڑتا جا رہا ہے. پی ٹی آئی کو کے پی میں صرف 5 سال ملے ہیں. انھوں نے بڑی کوشش کی ہے صوبے کو ٹھیک کرنے کی. لیکن دھشتگردی سے تباہ خال علاقہ اتنا جلدی کہاں اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکتا ہے.
افسوس کی بات یہ ہے کہ نون لیگ والے ملک کو ٹھیک کرنے کی بات نہی کرتے. کبھی عمران خان اور کبھی فوج پر الزامات لگاتے ہیں. اگر پاکستانی سیاستدان ملک کے اتنے خیر خواہ ہیں تو اپنے بیٹوں کو برطانیہ کے شاھی خاندان کی طرح فوج کی نوکری کیوں لازمی نہی کرتے. میں تو یہی کہونگا کہ ہر سیاستدان کا بیٹا لازمی طور پر فوج میں پانچ سال کی نوکری کرے. تاکہ انکو بھی پتہ چلے کہ سبز ہلالی پرچم میں لپٹے ہوئے شہید کی کیا قدر ہوتی ہے. ہر سیاستدان آج فوج پر اغتراض کرتا ہے کہ فوج 80% بجٹ کھاتی ہے تو بھرتی کرو اپنے اولادوں کو انجوائے کرواو یہ بجٹ انکو.
خدا کے لئے اغتراضات چھوڑو ایک ہوکر ملک کی خدمت کرو.

تحریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تغمہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبرپختونخواہ

اپنا تبصرہ بھیجیں