438

پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت

کچھ لوگ ملکی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات کے نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں. اور خلف نہ اٹھانے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں. الیکشن اور کھیل میں ہار جیت ہوتی ہے. لیکن اچھے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کے اندر برداشت کا مادہ زیادہ ہوتا ہے. برداشت میانہ روی ، رواداری، تحمل مزاجی, معاف کر دینا اور انصاف کرنے کو کہتے ہیں اور یہ وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و چین کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ جن معاشروں میں ان خوبیوں کی کمی ہوتی ہے وہاں بے چینی، شدت پسندی، جارحانہ پن, غصہ، تشدد، لاقانونیت اور بہت سی دیگر برائیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں. معاشرے کا ہر فرد نفسا نفسی میں مبتلا نظر آتا ہے، یہ نفسانفسی معاشرے کی اجتماعی روح کے خلاف ہوتا ہے اور اسے گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے.
بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں بھی گزشتہ کئی سالوں سے عدم برداشت کے رجحان میں خوفناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے افراد کی اکثریت کی قوت برداشت ختم ہو چکی ہے اور رواداری جیسی اعلیٰ صفت معاشرے سے عنقا ہو چکی ہے ۔ ہر فرد دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے کھانے کو دوڑتا ہے، بے صبری ، بے چینی اور غصہ ہر کسی کے ماتھے پر دھرا دکھائی دیتا ہے. ہمیں ہر خالت میں برداشت کرنا چاہئیے. خاص کر ملکی معاملات کو چلانے میں. لوگوں نے زیادہ تر پرانے سیاستدانوں کو مسترد کر دیا ہے کیونکہ خان صاحب نے عوام کی دلوں کی ترجمانی کی ہے اور یہی ایک نقطہ ہے جس پر نتائج مکمل طور پر پہلے سے مختلف نظر آ رہے ہیں. اور اگر خان صاحب نے پانچ سالوں میں اپنے وعدوں کو نبھایا تو 2023 کے الیکشن میں صرف ایک ہی پارٹی رہیگی. جسکا نام پی ٹی آئی ہے.
تخریر و تجزیہ
صوبیدارمیجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں