313

حوصلہ شکنی سے حوصلہ افزائی تک کا سفر

جناب ایک دور تھا جب عمران خان صاحب اور انکی ٹیم جب پبلک میں سیاست اور ملکی خالات تبدیل کرنے کی بات کرتے تھے تو غلام اور بیمار ذھن والے لوگ فرمایا کرتے تھے کہ بلی کے خواب میں چھیچڑے والی مثال دیا کرتے تھھے لیکن شاعر نے کیا خوب کہا تھا.
سنو اے ساکنانِ خطۂ پستی
ندا کیا آ رہی ہے آسماں سے
کہ آزادی کا ایک لمحہ بہتر ہے
غلامی حیاتِ جاوداں سے
آج عمران خان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کا خلف لینے کے لیے تیار.
یہاں پھر مرد قلندر شاعرِ مشرق نے خوب فرمایا تھا شائید یہ الفاظ ٹائیگرز کے لیے تھے.
تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیئے
آج کل لوگ حوصلہ افزائی کرتے ہیں لیکن 22 سال بعد کامیابی نصیب ہوئی ہے. ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئیے اور ملکِ خداداد کے ہر شخص سے مشورہ لیکر حکومت کرنی چاہیئے. لوگوں کی حکومت, لوگوں کے زریغے اور لوگوں کے لیے.
تحریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں