368

جی حضوری کا کلچر

ویسے تو انسان بہت ضعیف پیدا ہوا ہے. ( اور انسان کو بہت کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ القران).
انسان میں اللہ تعالیٰ نے بہت ساری خوبیاں بھی رکھی ہیں. محنت سے بہت سارے کام کرلیتا ہے. اور اللہ کے حصوصی کرم سے اپنے اپکو کافی بلندیوں تک لیے جاتا ہے. زمانہ طالب علمی میں حاضری کے دوران “حاضر جناب” کا لفظ استعمال کرتے کرتے جوانی میں “یس سر” تک پہنچ جاتا ہے. لیکن دورانِ ملازمت یا سیاست “یس مین” بن جاتا ہے. اور پھر خریدار ان یس مینوں کے ٹولے کو خرید کر اپنے مرضی سے استعمال کرتے ہیں. اس دوران یہ لوگ ہر جائیز اور ناجائیز کام کو بخوبی سرانجام دیتے ہیں. بس جی حضور والا ٹولے کا کام صرف بوس کو خوش کرنا ہوتا ہے. ہمیں اس کلچر کو ختم کرنا ہوگا. ہمیں جائیز اور ناجائیز کا فرق کرنا ہوگا. ہر صورت میں مخب وطن ہونا پڑیگا. بین الاقوامی طور پر جب ہم امریکہ کے لیے یس مین تھے تو ہمارے لیے 75 کروڑ ڈالر سے ایک ارب ڈالر تک کی امداد دی جاتی تھی. لیکن جب ہم نے یس مین بننے سے انکار کیا تو اب یہ امداد 15 کروڑ ڈالر رہ گی ہے. موجودہ حکومت سے توقع ہے کہ بین الاقوامی برداری کے ساتھ جی حضور والا کہنے کے بجائے برابری کے تعلقات رکھنے کی کوششیں کریں.
تحریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں