331

یوم آذادی اور پاکستانی معیشت

یومِ آذادی کے موقعہ پر یاد آیا کہ پاکستان معاشی لحاظ سے کب آذاد ہوگا. پاکستان کی آبادی 20 کروڑ 70 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اسکی ٹوٹل معیشت جی ڈی پی صرف 306 بلین ڈالرز ہے جو کہ عالمی رینکنگ میں 42 ویں نمبر پر آتی ہے جب کہ کراچی جتنا ایک چھوٹا سا ملک سنگاپور دنیا کی 37 ویں بڑی معیشت ہے. ہمارے ہمسائے میں موجود انڈیا 2239 بلین ڈالر ز کے ساتھ چھٹی اور چائنا 12.40 ٹریلین ڈالر کے ساتھ دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ پاکستان کی فی کس آمدنی 1629 ڈالر ہے اس لحاظ سے ہر پاکستانی کی آمدنی 146 ممالک کی فی کس آمدنی سے کم ہے جبکہ بنگلہ دیش اور انڈیا جس کی غربت کے قصے ہمارے یہاں زبان زد عام ہیں بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی پاکستان کے برابر اور انڈیا کی 1852 ڈالر کے ساتھ پاکستان سے زیادہ ہے
ہم مقروض قوم ہیں. ہم کب قرض کی زنجیروں سے آذادی حاصل کرینگے. کچکول تھوڑنے والوں نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیا ہے. قوم کے بچے بچے کو گروی رکھا ہے. انسان اس وقت تک آذاد نہی ہوتا جب تک اسکا قرضہ نہ اترے. ملک کے ہر سمجھدار بھائی و بہن کو اس غذاب سے جان چھڑانے کے لیے وزیر خزانہ اور حکومت وقت کو تجویز دینی چاہئیے. اپنے اخراجات کو کم کرنے, سادگی اپنانے اور وزیروں کے تنخواہوں پر پچاس فیصد کٹوتی ہونی چاہئیے. اگر دنیا میں غیرتمند قوموں کی طرخ سر اٹھا کر جینا چاہتے ہو تو ہر ادمی کو ٹکس ادا کرنا ہوگا. حکومت کو چاہئیے کہ اداروں کو اس چیز کا پابند بنائے کہ ٹکس سے حاصل شدہ پیسوں کو جائیز طریقے سے حرچ کرے. خود بھی چوری نہ کرے اور دوسروں کو بھی چوری نہ کرنے دیں.
تحریر
بخت روم شاہ بونیری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں