396

ضلع بونیر ایک پسماندہ علاقہ ہے

خیبر پختونخواہ کے اضلاع میں سے ایک پسماندہ ضلع بونیر بھی ہے. سیاسی طور پر یہ پی ٹی آئی کا گھڑ ہے. صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت سے بونیر کے عوام نے بہت سارے توقعات وابستہ کرلیے ہیں. اس ضلع کے مندرجہ ذیل مسائل ہیں. امید ہے کہ ہمارے نمائیندے اس پر ضرور توجہ دینگے.
۱. بونیر میں میڈیکل کالج، وومن یونیورسٹی، کیڈٹ کالج کی اشد ضرورت ہے.

۲. بونیر کے مختلف علاقوں میں قائم تقریبا ٌ500 ماربل فیکٹریوں نے بونیر کے انفراسٹکچر اور ماحول کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ ماربل فیکٹریوں سے خارج ہونے والا گندہ اور آلودہ پانی نے بونیر کے واحد ذرائیع پانی برندوں کے پانی کو ناقابل استعمال بنادیا ہے.

۳. بونیر ضلع میں سوئی گیس نہ ہونے کی وجہ سے بونیر کے جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں. لہذا سوئی گیس کی اشد ضرورت ہے.

۴. سیاختی مقامات پر توجہ دینا. بونیر کے مذہبی مقامات پیر بابا، دیوانہ بابا اور شلبانڈی باباکے علاوہ مختلف علاقوں ایلم، مہابنڑ، کلیل، چغرزی، گوکند اور دیگر جگہوں پر سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں جس پر توجہ دے کر ملک بھر کے سیاحوں کی توجہ یہاں مبذول کر ائی جاسکتی.
۵. پینے کا صاف پانی.
۶. لوڈشیڈنگ.
۷. موٹر وے تک رسائی اور مختلف مقامات پر سرنگ بنانا (کڑاکڑ, امبیلہ اور شہیدے سر)
۹. سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکل ایکوپمنٹ اور دوائیوں کی فراہمی.
۱۰. پٹوار کے نظام کو کمپیوٹرائیز کرنا.
تخریر.
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی وسماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں