تعلیم نسواں اور ضلع بونیر

ہر قوم کی تعمیر و ترقی کا انحصار اس کی تعلیم پر ہوتا ہے۔ تعلیم ہی قوم کے احساس وشعور کو نکھارتی ہے اور نئی نسل کو زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کسی صفت و کمال سے وہ دل کی صفائی, فراخی اور وسعت حاصل نہیں کرسکتا جو علم کی بدولت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
حدیث مبارک میں ہے کہ :
حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ معلم کائنات سرکار دو عالمﷺ نے ارشاد فرمایا:
طالب العلم فریضتہ علی کل مسلم
یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مردو عورت) پر فرض ہے۔
معلوم ہوا کہ مرد کی طرح عورت پر بھی علم کا حصول فرض ہے
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ضلع بونیر کی ابادی 9 لاکھ ہے. اور پاکستان میں خواتین کی ابادی 52 % ہے. ضلع بونیر میں اس ابادی کے لیے صرف ایک ڈگری کالج ہے. اس کے علاوہ نہ کوئی ڈگری کالج اور نہ کوئی وومن یونیورسٹی. ملک کے باقی شہروں اور ضلعوں کی طرح اس علاقے کی خواتین کا بھی حق بنتا ہے کہ یہاں ہر حلقہ (پی کے 20, 21 اور 22) میں ایک ایک گرلز ڈگری کالج ہو اور ضلع کے سطح پر سواڑی کے مقام پر ایک وومن یونیورسٹی ہو. میں اپنے ضلع کے تمام صوبائی و قومی اسمبلی کے نمائیندوں, وزیراعلیٰ اور وزیراعظم عمران خان سے درخواست کرتا ہوں کہ اس مسئلہ کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ یہاں کے مستقبل کے معماروں کو یکساں تعلیم مل جائے. بچے کی سب سے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے. ماں تعلیمیافتہ ہوگی تو بچہ بھی تعلیم یافتہ ہوگا. قوم تعلیافتہ ہوگی تو ملک بھی مضبوط ہوگا.
تخریر و تجزیہ
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبرپختونخواہ

اپنا تبصرہ بھیجیں