لال مسجد تنازعہ – مکمل کہانی

عبدالعزیز کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں موصوف گھاس کھا کر بتا رہے تھے کہ ہم بھوکے ہیں اور گھاس کھا لینگے لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ صحابہ نے بھی یہی قربانیاں دی تھی۔

اس بدبخت انسان کو شائد علم نہیں کہ صحابہ کی قربانیاں اسلام کے لیے تھیں کسی پلاٹ کے حصول کے لیے نہیں۔
ہاں البتہ جہاں تک ہم جیسے گنانہگاروں کی بات ہے تو دو ارب روپے کا پلاٹ ملنے کی امید ہو تو ہم بھی گھاس کھا لینگے۔

اس معاملے پر مزید بات کرنے سے پہلے آپ کو کچھ پس منظر بتاتے ہیں۔

عبدالرشید اور عبدالعزیز کے والد مفتی عبداللہ سرکاری مولوی تھے۔ ان کے لیے سی ڈی اے نے محکمہ اوقاف کے نام پر 206 مربع گز زمین الاٹ کی تھی لال مسجد سے ملحقہ۔ لیکن موصوف نے جگہ خالی دیکھ کر 9533 مربع گز زمین پر قبضہ کر لیا اور فائر برگیڈ کی بھی کافی زمین دبا لی۔

اس پر اپنی عالیشان کی رہائش گاہیں اور مدرسہ بنوا لیا اور اس کو جامعہ حفصہ کا نام دے دیا۔
ان کی موت کے بعد ان کے ہونہار بیٹوں نے یہ قبضہ برقرار رکھا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ یہی دونوں بھائی اسلام آباد کے دل جی سیوں میں بھی جامعہ حفصہ کے نام سے ایک بہت بڑا مدرسہ چلا رہے ہیں جس کے لیے وہ کم از کم تیس کنال کی زمین پر قبضہ کیے ہوئے ہیں جس کی موجودہ مالیت تقریباً تین ارب روپے ہے۔

اس مدرسے کے ارد گرد آباد لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پجھلے دس سال سے اس مدرسے کا تعمیری کام زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ واللہ اعلم اندر کون سی ایسی تعمیرات ہورہی ہیں اور ان گھاس کھانے والوں کے پاس اس کے لیے اتنے فنڈز کہاں سے آرہے ہیں؟؟

بہرحال انتظامیہ نے مدرسہ کے نام پر قبضہ کی گئی زمین واگزار کرانے کا فیصلہ کیا جس پر دونوں بھائیوں نے مدرسے کی بچیوں کی مدد سے ریاست کی رٹ کو چلینج کرتے ہوئے مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا۔

نہ صرف یہ بلکہ اپنے تعلقات استعمال کر کے وزیرستان سے تربیت یافتہ دہشت گرد لاکر مدرسہ میں بیٹھا دیئے۔
نفاذ شریعت کے نعرے لگائے، فوج کو کافر و مرتد اور واجب القتل قرار دیا اور ملک بھر میں خود کش حملوں کی دھمکیاں دیں۔
اس کے بعد یہ فرمایا کہ میں روز حضورﷺ کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ تم کو کامیابی ملے گی۔
پھر عین آپریشن کے وقت برقعہ پہن کر فرار ہونے کی کوشش میں پکڑا گیا۔
باقی لال مسجد آپریشن کی تفصیل میں پہلے لکھ چکا ہوں۔

وہ پاکستان کی تاریخ کا واحد آپریشن تھا جس میں سب سے زیادہ ایس ایس جی کمانڈوز کی شہادتیں ہوئیں۔
عبدالعزیز کا بھائی مارا گیا، یہ خود پکڑا گیا اور 2009ء میں اس کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے کم از کم ستائس کیسز میں رہا کر دیا۔ ان کیسز میں دہشت گردی، اغواء اور قتل سمیت دیگر سنگین نوعیت کی دفعات شامل تھیں۔
(البتہ عبدالعزیز نے فوج کے اس وقت کے چیف مشرف کے خلاف جو ایف آئی آر کاٹی اس پر سخت ایکشن لیا)

اس وقت لال مسجد انتظامیہ یعنی عبدالعزیز اور اسکا خاندان ( جس کو یہ شہداء فاؤنڈیشن کا نام دیتے ہیں ) اور سی ڈی اے انتظامیہ میں معاہدہ ہوا جس میں سی ڈی اے نے جگہ خالی کروانے کے عوض اسلام آباد کے ایچ الیون سیکٹر میں ان کو بیس کنال زمین دینے کا وعدہ کیا جس کی مالیت تقریباً دو ارب روپے بنتی ہے۔

سپریم کورٹ نے کچھ عرصہ پہلے وہ معاہدہ اس بنیاد پر کلعدم قرار دے دیا کہ جب ان کے والد کو محکمہ اوقات کے نام 206 مربع گز زمین الاٹ ہوئی تھی اور باقی قبضہ ناجائز تھا تو پھر آپ کیسے اس ناجائز قبضے کو ختم کرانے کے لیے اس سے بھی بڑی زمین دے رہے ہیں؟؟
اگر دینی ہے تو 206 مربع گز زمین ہی دیں۔

جس پر سی ڈی اے نے ان کو ایچ الیون میں الاٹ کی گئی زمین خالی کرانے کا نوٹس دیا اور تھرنول میں تقریباً دس مرلہ زمین دینے کا وعدہ کیا۔ اس پر عبدالعزیز بھڑک اٹھا۔

اس نے فرمائش کی کہ اس کو اسلام آباد کے اندر اتنی ہی بڑی زمین چاہئے اور ساتھ میں وہ رقم بھی جو وہ ایچ الیون والی زمین پر خرچ کر چکے ہیں جو کہ ساڑھے تین کروڑ روپے ہیں۔
(ایک سال میں ساڑھے تین کروڑ روپے صرف ایک مدرسے پر خرچ کرنے والا یہ شخص گھاس کیسے کھا رہا تھا اور اتنے بھاری فنڈز آتے کہاں سے ہیں؟؟ )

سی ڈی اے نے یہ فرمائش پوری کرنے سے معذوری ظاہر کی تو موصوف جی سیون مسجد سے سو یا ڈیڑھ سو لڑکیوں کی ڈنڈا بردار فوج لے کر دوبارہ لال مسجد پر میں گھس گئے اور اس پر قبضہ کر لیا۔ مسجد کے سرکاری ملازمین کو بھگا دیا۔

وہاں کے سرکاری خطیب کو غازی عبدالرشید کے بیٹے ہارون رشید غازی نے اپنے مسلح ساتھیوں کی مدد سے مسجد سے نکال دیا بصورت دیگر قتل کرنے کی دھمکیاں دیں۔
عبدالعزیز نے زبردستی منبر پر قبضہ کر لیا۔
ام حسان نے منبر پر چڑھ کر پولیس اور مسجد کے سرکاری خطیب

کو مرتد اور واجب القتل قرار دیا۔
حالات خراب ہوتے دیکھ کر پولیس پہنچ گئی۔ مسجد کو گھیر لیا۔
پولیس دیکھ کر جامعہ حفصہ کی سوشل میڈیا ٹیم نے سوشل میڈیا پر جہاد اور نفاذ اسلام کے ترانے پبلش کرنے شروع کیے۔
لڑکیوں نے باہر نکل کر “الجہاد الجہاد” کے نعرے لگائے۔ ساتھ ساتھ یہ ڈھنڈورا بھی کہ ریاست لال مسجد کے پرانے آپریشن کو دوبارہ دہرانا چاہتی ہے اور لال مسجد میں اندر مظلوم بچیاں گھری ہوئی اور محصور ہیں اور مسلمانوں کو پکار رہی ہیں۔

انتظامیہ بات کرنے گئی تو عبدالعزیز نے اپنے نئے مطالبات کی فہرست پیش کی۔ جس میں پہلا یہ کہ وہ تاحیات لال مسجد کے سرکاری خطیب رہیں گے۔ حالانکہ وہ 2004ء میں ریٹائرڈ ہوچکے ہیں۔ یا ان کے سگے بھتیجے کو اسی مسجد کا سرکاری خطیب مقرر کیا جائے اور مجھے ان کا سرپرست مقرر کیا جائے ( سرکاری ملازمت اور کنٹرول)
زمین محکمہ اوقات کے بجائے ڈائرکٹ میرے یا ام حسان کے نام پر متنقل کی جائے۔
ساڑے تین کروڑ روپے دئیے جائیں۔
اور ظاہر ہے وہ بیس کنال یا کم از کم دو ارب روپے کی مالیت کی زمین تو مانگ رہی رہے ہیں۔

بصورت دیگر اسلام پھر خطرے میں ہے!!!!

گھاس کھانے والا یہ ارب پتی ڈرامے باز اس سارے تنازعے کو کفر و اسلام کی جنگ کی طرح پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ عوام کو دھوکہ دے سکے اور ان کی حمایت حاصل کر سکے۔

لال مسجد میں کوئی بچیاں محصور نہیں ہیں۔ بلکہ انتظامیہ کی خواہش ہے کہ وہ بچیاں مسجد سے نکلیں اور واپس جامعہ حفصہ یعنی جی سیون جائیں۔ لیکن عبدالعزیز نامی یہ بدبخت اور اسکی فتنہ پرور بیوی نے ان بچیوں کو وہیں پر روک رکھا ہے اور اپنی ڈھال بنایا ہوا ہے۔

محض اپنی لالچ اور ہوس پوری کرنے کے لیے یہ ملا اسلام اور مدرسے کی برین واشڈ بچیوں کو استعمال کر رہا ہے۔
اور عوام کو حال یہ ہے کہ اس کو گھاس کھاتے دیکھ کر کھانا دینے پہنچ گئے۔

عبدالعزیز اور اسکی بیوی اعلانیہ داعش کی بیعت کر چکے ہیں جس کو مجاہدین سمیت پوری دنیا دہشت گرد تنظیم تسلیم کر چکی ہے اور ام حسان نے 2014ء میں اس وقت ان کی بعیت کی ویڈیو جاری کی تھی جب داعش کی ظلم کی داستانیں زبان زدعام ہوچکی تھیں اور ان کے بہت سے حامی بھی ان سے متنفر ہوچکے تھے۔

جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا آرڈر حکومت نہیں مان رہی انہوں کچھ پتہ ہی نہیں۔
درحقیقت عبدالعزیز اور ام حسان ( نام نہاد شہداء فاؤنڈیشن ) سپریم کورٹ کا آرڈر نہیں مان رہیں۔

اس خاندان نے پہلے بھی پورے پاکستان میں ایسی آگ لگائی تھی کہ ہزاروں جانیں چلی گئی تھیں۔
پھر پاکستان کی عدالتوں نے اس اعلانیہ اور ثابت شدہ دہشت گرد خاندان کو چھوڑ دیا۔
اب وہ دوبارہ اپنی پرانی حرکتوں پر آگیا ہے۔

عدلیہ کو چاہئے کہ سوموٹو لے کر اس خاندان کی گرفتاری کا حکم دے اور ان کو دہشت گردی کی دفعات میں سزائیں سنائے۔
عوام سے اپیل ہے کہ محض اس داعشی خاندان کی ڈھال بنانے کے لیے اپنی بچیاں ان کے مدرسے میں نہ بھیجیں اور نہ ہی انکو چندے دیا کریں تاکہ کل یہ آپ کے قتل کے فتوے جاری نہ کرسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں