کرتار پور راہداری نئی تاریخ رقم، پاکستان اب کیا کرنے جارہا ہے؟

کرتار پور راہداری نئی تاریخ رقم

آج بابا گورونانک کے 550ویں یوم پیدائش پر کرتارپور
راہداری کا افتتاح کر دیا گیا۔

اس منصوبے میں گورداوارے کا رقبہ 42 ایکڑ سے بڑھا 823 ایکڑ کیا گیا ہے۔
گوردوارہ کیمپس کے لیے پاکستان نے 400 ایکڑ زمین فراہم کی۔
لنگر ہال میں 2000 افراد کے لیے کھانے کی گنجائش ہوگی۔

10،000 سکھ یاتریوں کے قیام کا بندوبست ہوگا۔
بارڈر ٹرمینل پر 126 کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔
ایمرجنسی ہیلتھ سنٹر کا قیام اور خصوصی حفاظتی بندوبست اس کے علاؤہ ہیں۔

Sikhs in kartarpur sahab Pakistan
سکھ یاتری

بھارت کی سرحد سے یہاں تک 4.5 کلومیٹر کی روڈ تعمیر کی گئی ہے جب کہ کل 7 کلومیٹر کی روڈ بنائی گئی ہے۔
سیلاب سے بچاؤ کے لیے 2.8 کلومیڑ کا ایک بند تعمیر کیا گیا ہے اور دریائے راوی پر 800 میٹر پل تعمیر کیا گیا ہے۔
اور یہ سب کچھ دس ماہ کی مدت میں مکمل کیا گیا۔
5000 سکھ یاتری روز آیا کرینگے۔

افتتاحی تقریب میں سکھوں کے ممتاز راہنماؤوں نے شرکت کی۔

نوجوت سنگھ سدھو، من موہن سنگھ، انڈین پنجاب کے چیف منسٹر اور انڈین سکھوں کے بڑے مذہبی راہنماؤوں کے علاوہ مشہور انڈین اداکار سنی دیول بھی شامل تھے جو عمران خان کی تقریر پر تالیاں بجاتے نظر آئے۔
اس کے علاوہ ہزاروں سکھ یاتریوں نے تقریب میں شرکت کی۔

نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ پاکستان نے چودہ کروڑ سکھوں کے دل جیتے ہیں اور ہم پاکستان کا یہ احسان کبھی نہیں بھولیں گے۔ پاکستان ہمارے بابا جی کا گھر ہے۔
عمران خان کو نوجوت سنگھ سدھو نے دور جدید کا سکندر اعظم قرار دیا جس نے لوگوں کے دل جیتے ہیں۔ نوجوت سنگھ سدھو نے یہ بھی کہا کہ سکھ قوم پاکستان کو جہاں لے کر جائیگی یہ آپ لوگوں کی سوچ ہے۔

Kartarpur corridor high quality images
کرتارپور راہدری

انڈین مذہبی راہنما نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم بھی ایک رب کو مانتے ہیں اور جو ایک رب کو چھوڑ دے وہ سور سے بھی بدتر ہے اور یہ کہ ہم کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم کے خلاف ہیں۔

جواباً عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم اللہ کو رب العالمین اور رسول اللہ کو رحمت اللعالمین مانتے ہیں۔ اسلام سب کے لیے رحمت ہے۔ یہ بھی کہا جواباً انڈیا بھی کشمیر سے کرفیو اٹھا کر ایسی ہی دریا دلی کا ثبوت دے۔

کرتار پور راہداری کو انڈیا نے بہ امر مجبوری تسلیم کیا ہے ورنہ سکھوں کی بغاوت انڈیا میں اور تیز ہوجاتی۔
تاہم انڈین دفاعی ماہرین سمیت پوری دنیا کے تجزیہ کار اس راہداری کو پاکستان کی انڈیا کے خلاف بہت بڑی فتح قرار دے رہے ہیں۔

ذرا اس کی وجوہات سمجھنے کوشش کریں۔

Kartarpur sahab building
کرتارپور صاحب سرح چادر

سکھوں کی دنیا بھر میں آبادی 14 کروڑ ہے اور بہت مالدار کمیونٹی ہے۔ انڈیا کے علاوہ کینیڈا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں سکھوں کا بے پناہ اثر رسوخ ہے۔

سکھ انڈیا کی کل آبادی کا دو تین فیصد ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ انڈیا کی کل ملکی پیداور میں سکھوں کا حصہ 26 فیصد ہے؟؟

انڈین پنجاب کی 70 فیصد آبادی سکھ ہے اور انڈین پنجاب پورے انڈیا کی معاشی رگ ہے۔
صرف اس سے اندازہ لگائیں کہ انڈین پنجاب پورے انڈیا کی کل ضرورت کا 74 فیصد گندم اور 48 فیصد چاول پیدا کرتا ہے۔ یوں انڈیا کی سوا ارب آبادی کی خوراک کا انحصار انڈین پنجاب یا دوسرے الفاظ میں سکھوں پر ہے۔
اسی انڈین پنجاب سے انڈیا کو کشمیر جانے کا راستہ ملتا ہے۔ اور اسی انڈین پنجاب میں اس وقت خالصتان کی تحریک زوروں پر ہے۔

Imran khan opens kartarpur corridor
عمران تالیاں بجاتے ہوئے خوشگوار موڈ میں

انڈین آرمی کا 20 فیصد سکھوں پر مشتمل ہے۔ خاص طور پر ائر فورس میں ان کی بڑی تعداد ہے۔
انڈین آرمی آفیسرز میں آج بھی ہندؤوں سے زیادہ تعداد سکھوں کی ہے جن میں جرنیل بھی شامل ہیں۔

انہی سکھوں کے مذہبی راہنما آج یہ نعرہ لگا رہے ہیں کہ پاکستان ہمارے بابا گورونانک کا گھر ہے۔ پاکستان پر حملہ کرنا ایسا ہی ہے جیسا بابا نانک کے گھر پر حملہ کیا جائے۔ پاکستان ہمارے لیے مکہ و مدینہ جیسا ہے۔

یہ چیز انڈیا کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ انہیں خدشہ ہے پاکستان اور سکھوں میں بڑھتے تعلقات کی وجہ سے سکھ عین حالت جنگ میں بغاوت کر سکتے ہیں یا صرف متذبذب بھی ہوگئے تو انڈین آرمی کا کیا بنے گا؟؟

خیال رہے کہ انڈین سکھوں میں یہ بات پھیل رہی ہے کہ انڈیا نے ہمارے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر حملہ کر کے اس کو برباد کیا تھا جب کہ پاکستان نے ہمارے مقدس مقام کو عزت دی اور ہمیں جانے کا راستہ دیا۔

نوجوت سنگھ اور عمران خان
نوجوت سنگھ اور عمران خوشگوار ماحول میں

دلچسپ بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لیے پاکستان کے بعد دنیا میں سب سے بڑی آواز سکھوں کی ہے۔

آج ہی کے دن انڈیا نے ایک اور بلنڈر کر دیا وہ یہ کہ غصے میں آکر بابری مسجد ہندؤوں کو سونپ دی۔
یہ انڈیا نے انڈین مسلمانوں میں ایک اور چنگاری پھینک دی ہے جو کسی بھی دن شعلہ بن سکتی ہے۔

کرتار پور کی بدولت ماہانہ 3 ملین اور سالانہ 36 ملین ڈالر پاکستان کو سکھ زائرین سے فیس کی مد میں وصول ہونگے۔

Imran khan kartarpur corridor opening ceremony 2019
کرتارپور راہدری کا افتتاح عمران خان نے کیا

اپنا تبصرہ بھیجیں