آئی ایس آئی کا حصہ کیسے بنیں؟ مکمل تفصیلات

آئی ایس آئی کا حصہ کیسے بنیں؟

یہ سوال میرے خیال میں ایک ایسا سوال ہے جو آج اب تک مجھ سے سب سے ذیادہ پُوچھا گیا ہے بلکہ پُوچھا جاتا ہے۔

جب بھی ہمارے سامنے آئی ایس آئی کا نام آتا ہے تو ہمارے ذہن میں ایک فلم سی چل پڑتی ہے جیسے آپ نےجیمز بانڈ مُوویز دیکھی ہوں گی کہ ایک ایجنٹ ہے اسکی بڑی دہشت ہے اسکے پاس بڑی پاور ہے ،کسی کو مارتا پھرتا ہے کبھی ایک ملک کبھی دُوسرے ملک، کام کا کام اور عیش کی عیش، دولت کے انبار ہیں، دُنیا جہاں کی بہترین گاڑیاں ہیں، سب کچھ اس کے پاس ہے اور بس لائف فٹ ہے اسکی واہ واہ ہورہی ہے اور دنیا اسکے کارناموں پہ حیران ہے.

نہیں پیارے ایسا نہیں ہے وہ مووی ہے ایک اسکرپٹڈ اور مکمل طور پر محفوظ ماحول میں بنائی گئی لیکن حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا.

حقیقی زندگی میں سب کچھ اس کے برعکس ہوتا ہےیہاں نہ ٹھاٹھ باٹ ہے، نہ دکھاوا ،نہ واہ واہ نہ شوبازی کچھ بھی نہیں ہے.

میں جب کبھی کسی گمنام سپاہی سے متعلق لکھتا ہوں تو اسکے بعد انباکس میں اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ہم کیسے جوائن کریں آئی ایس آئی۔

مجھے لکھنے میں شاید چند گھنٹے اور آپکو پڑھنے میں چند منٹ لگتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں حقیقت بڑی تلخ اور بڑی کربناک ہے۔جو لکھنے والے اور پڑنے والوں کے رُونگھٹےکھڑے کردےسوچیں تو جس پہ گزرتی ہے اس کا کیا حال ہوتا ہوگا۔

ہم مووی میں دیکھتے ہیں کہ ایک ایجنٹ بڑی شاندار گاڑی سے بہترین سُوٹ ، بُوٹ میں ملبوس اترتا ہے آگے پیچھے اُسکے گارڈ ہوتے ہیں واہ کمال ہے لائف ہوتو ایسی۔ لیکن رُکیے بھئی وہ مووی ہے ہُوش کی دُنیا میں آئیےحقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہوتا حقیقت کا یہ عالم ہے کہ آپکی ہستی مستی جب تک خاک نہ ہوجائے آپ کٌندن نہیں بن سکتے۔

کہیں یہ فقیر، کہیں ملنگ گندے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس ایسی حالت میں ملیں گے کہ ان کو دیکھ کر آپکو گھن آئے گی، مکھیاں انکے اُوپر بھنبھنارہی ہونگی، سڑک کنارے کبھی کچرے کے ڈھیر پر، کبھی کیچڑ میں لت پت، کہیں سبزی فروش تو کہیں تپتی دھوپ میں منوں وزن اپنے کاندھوں پہ اٹھائے، کہیں مسجد کے باہر بھیک مانگتے تو کہیں دردر کی ٹویکریں کھاتے لوگوں کی گالیاں اورطعنے سہتے، نہ گرمی کی خبر نہ سردی کا ہوش، بھوک پیاس کی شدت، تپتی ہو، ٹھٹھرتی زمین پرجلتے جسم، کہیں گلیوں میں کُوڑا چنتے، کہیں دن بھر کاندھے پہ سامان اٹھائے گلی گلی پھرتے، یہ جاگتے ہیں انکا چین نہیں ان کا آرام نہیں، کب کھاتے ہیں کب پیتے ہیں کس کے بیٹے ہیں کس کے بھائی ہیں کس کے باپ ہیں کس کے سرکا تاج ہیں کچھ خبر نہیں.

یہ اپنے ملک میں بھی عیش وعشرت کی زندگی تیاگ دیتےہیں ، معلوم نہیں کب سے یہ لوگ اپنے گھروں کے پاس ہوتے ہوئے بھی اپنے گھراپنےوالدین سےدور، اپنے بہن بھائی، بچوں سے دُور ہوتے ہیں کیا کبھی آپ نے سُوچا عید کے دن جب ساری دُنیا کے مسلمان نئے کپڑے پہن کراپنی اپنی فیملز کے ساتھ عید کی خوشیاں منانےمیں مگن ہوتے ہیں تو دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بذاتِ خود اور جن کا خاندان ہماری ان خوشیوں کی وجہ بنتے ہیں جس وقت ہم اپنے والدین کے گلے لگ کرعید منارہے ہوتے ہیں وہاں اس پاک وطن کی دھرتی پہ کچھ بچے کچھ والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بچے عید کے دن بھی اپنے والد کی راہ تکتے اور آنکھوں میں آنسو لیے عید گزارتے ہیں۔

وہ ماں عید کا دن بھی دروازے کو تکتے گزاردیتی ہےکہ شاید اس کا لاڈلہ بیٹا عید کے دن اسے گلے لگالے، وہ باپ جو عید کا دن اس حسرت سے گزار دیتا ہےکہ کاش عید کے دن تو اس کا بیٹا آکے اُس کاسینہ ٹھنڈا کردیتا.
بہن بھائی دستِ شفقت کے منتظرمگر وہ بیٹا دور کہیں اپنی عید کی خوشیاں ہماری خوشیوں پہ قربان کرکے عید کے دن بھی گلیوں کی خاک چھان کر اپنے بچوں کی یاد میں بس دل ہی دل میں یہ سُوچ کراپنی ساری حسرتیں دبالیتا ہے کہ ایک اُسکے بچے اپنے باپ، اسکے والدین عید کے دن اپنے ایک بیٹے سے محروم رہیں گے لیکن پاک وطن کے کروڑوں لوگ اپنی اولادوں اپنے بچوں کے ساتھ عید منائیں گے،عید گزر جاتی ہے ہم خوشیاں منا کرشکر ادا کرتے ہیں کہ عید بڑی اچھی گزری کیسے اچھی گزری کبھی نہیں سُوچتے کسی نے ہماری عید کو خوبصوررت اور پرسکون بنا نے کے اپنی عید قربان کی اپنے گھروالوں کی عید اور خوشیاں قربان کیں۔

ایسے بھی دیوانے ہیں کہ جب ہم اس پاک دھرتی پر خوشی سے قہقہہ لگاتے ہیں وہاں دشمن کے عقوبت خانے ہمارے اس قہقہے کی قیمت اس پاک وطن کے بیٹے سے وصول کرتے ہیں اور عقوبت خانے اس قیمت سے لرز اٹھتے ہیں.

جن کی مائیں جن کی سہاگن انکے منتظر ہیں وہ بیٹے وہ سہاگ کہیں کسی تاریک کوٹھڑی میں لت پت پڑا تڑپ رہا ہوتا ہے تاکہ اسکے وطن کی ماؤں کی گود ہری بھری رہے، وطن کی بہنوں بیٹیوں کا سہاگ سلامت رہے۔
کتنے ہی پاک وطن کے عظیم بیٹے ہیں جن کا آج نام ونشان تک نہیں ، جو عقوبت خانوں میں زندہ ہیں انکا حال صرف اللہ جانتا ہے۔ یہ وہ عظیم لوگ ہیں جنکی قبروں کے نشان تک نہیں ملتے کس گلی، کس نگر، کس کوچے میں زندگی کی آخری شام ہو جائے یہ نہیں جانتے۔

اپنے گھروں کو دُوبارہ دیکھ بھی پائیں گے یا نہیں یہ نہیں جانتے۔ایسے کئی بیٹے آج کے دن بھی اس پاک دھرتی پہ قربان ہوئے ہونگے لیکن ہم نہیں جانتے، ہزاروں والدین ایسے ہونگےجنہیں اپنے بیٹوں کا آخری دیدار بھی نہیں نصیب نہیں ہوا ہوگا، ہزاروں بچے آج بھی اس کشمکش میں بڑے ہورہے ہونگے کہ وہ سکول کالج کے فارم میں خود کو باپ کے زیرِ کفالت لکھیں یا یتیم ۔ یہ آئی ایس آئی کی داستان ہے۔جو طاقت ورکےساتھ بڑی درناک و دلخراش بھی ہے۔

آئی ایس آئی نام سننے میں بڑا دلکش اور بڑا پرکشش لگتا ہےلیکن یہ ایک درد ایک کرب اور لازوالی قربانیوں پر کھڑا ایک ایسا قلعہ ہے جس کے محافظوں کی کوئی پہچان کوئی نام نہیں کسی کو علم نہیں ،ان پہ کیا گزرتی ہے کوئی نہیں جانتا ، وہ ہر درد، ہر جدائی سہہ کر اپنے عزم پر قائم رہتے ہیں تب ہی یہ قلعہ اپنی پوری آب وتاب سے قائم اودائم اور اپنے زیرِ سایہ سرزمین کا محافظ ہے۔

آج تک 70 سال گزرنے کو ہیں لیکن کسی شخص نے نہیں دیکھا کہ آئی ایس آئی میں کام کرنے والے کیسے ہیں کون ہیں؟ہوسکتا ہےکہ آپکا کوئی دُوست ،رشتہ دار بھی آئی ایس آئی کا حصہ ہولیکن آپ کبھی نہیں جان پائیں گے۔

ان ساری ساری باتوں کا نچوڑ ایک ہی بات نکلتی ہے کہ آئی ایس آئی ایک ایسی خوشبو ہے کہ جس سے سارا جہاں تو معطر ہے لیکن ہم دیکھ نہیں سکتے اس خوشبو کا وجود نہیں بالکل ایسے ہی ائی ایس آئی ہے۔

نہ نام نہ دکھاوا نہ شہرت نہ واہ واہ نہ تمغے نہ ایوارڈز نہیں کچھ بھی نہیں۔ ہر شعبہ میں آپکا نام بنتا ہے آپکی قابلیت کے چرچے ہوتے ہیں آپکو تمغوں سے نوازا جاتاہےلیکن آئی ایس آئی میں ایسا نہیں ہے یہاں بس کام ہے اور خاموشی ہے۔

آئی ایس آئی کی موجودگی کا علم اسکی آواز سے نہیں دشمن کے شورہوتا ہے۔ اس ساری تحریرکا مقصد اب شاید آپکے سامنے واضح ہوجائے کہ آئی ایس آئی میں موجود افراد بھی کسی کو نہیں بتاسکتے، کس کو نہیں جتاسکتے، کسی پہ دھونس یا دکھاوانہیں کرسکتے کہ میں آئی ایس آئی ہوں یہ ہوں وہ ہوں، نہیں یہ سب آئی ایس آئی میں نہیں چلتا.

توکیا 22 کروڑ عوام ساری کی ساری آئی ایس آئی میں جانے کی خواہش کرے تو اب کیا کیا جائے؟ اس کا بڑا آسان سا حل ہےآئی ایس آئی کا مقصد بھی دکھاوا اور نام کمانا نہیں صرف اسلام اور پاکستان ہےتو یہ سب کرنے کے لیے آئی ایس آئی میں جاناضروری ہے کیا؟

نہیں بالکل نہیں اگر کوئی خوش قسمت آئی ایس آئی کے ادارے کاحصہ بن بھی جاتا ہے تو آپ کیوں مایوس کے ہم نہیں جاسکتے اللہ کے بندو آپ جس شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں آپ اگر اسی میں رہ کر بھی اپنے ملک کےکام آئیں تو آپ کا مقصد بھی وہی ہوا جو آئی ایس آئی کا مقصد ہے۔سُوشل میڈیا پہ ہیں تو دشمن کے پروپگنڈہ کا جواب دیں.

پاکستان کے خلاف، اسلام کے خلاف، پاک فوج کے خلاف چلنے والی آئی ڈیز، گروپس اور پیجز کو رپورٹ کرکے بند کروائیں تاکہ پاکستان کے خلاف نظریا تی جنگ کا بھی توڑ کیا جاسکے۔ دشمن کو شکست دی جاسکے۔

آج کل فزیکل جنگ سے ذیادہ مشکل جنگ نفسیاتی جنگ ہے۔ آئی ایس آئی کامقصد بھی پاکستان کی خدمت ہےاپنے لوگوں کی خدمت ہے یہی بیڑہ آپ بھی اٹھا لیں کے جب تک آئی ایس آئی میں نہیں جاپاتا تب تک ہی سہی۔

اگر آئی ایس آئی میں نہیں جاسکا تو یہیں بیٹھ کے اپنے شعبے میں بیٹھ کے ایمانداری سے اس ملک کی خدمت کریں۔اگر طالبعلم ہیں، کہیں جاب کرتے ہیں فیلڈ میں کام کرتے ہیں تو سُوشل میڈیا کی جنگ تو ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ سُوشل میڈیا پر آپ کا نام نہیں ہوگا شاید دُنیا آپکانام نہیں جان پائے گی، آپکی واہ واہ نہیں ہوگی،لیکن آپکا کام وہی ہوگا جو آئی ایس آئی کا ہے، آپکا مقام وہی ہوگا جو آئی ایس آئی کا ہے۔

دشمن یہی کہےگا کہ ہمارا پروپگنڈہ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے نام بنایا ہے۔ پاکستان کی خدمت و حفاظت کے لیے ضروری نہیں کہ ہم آئی ایس آئی ہی جوائن کرنے کا انتظار کریں.

آئی ایس آئی جوائن کریں میں آپکو اس بات سے بالکل منع نہیں کررہا نہ ہی مایوس کررہا ہوں آئی ایس آئی والے بھی ہمارے جیسے ہی انسان ہیں ہم سے ہی اٹھ کرگئے ہیں اور آئی ایس آئی کو جوائن کرنے کا طریقہ تو آپکو کسی بھی ڈیفنس فورم پر مل جائے آپ گوگل کریں ہزاروں جگہ شاید مل جائےمگر آپکو یہ کوئی نہیں کہے گا کہ آپ جہاں بھی ہوں آپ آئی ایس آئی کا حصہ ہیں۔

واللہ کل جب غزوہِ ہند کے شہیدوں اور غازیوں کا نام پکارا جائے گا تو ان لوگوں کا بھی نام آئے گا جنہوں نے مجاہدوں کے حوصلے بڑھائے تھے، ان پر بھونکنے والی زبانیں بند کی تھیں۔

غزوہِ ہند کے لیے راہ ہموار کی تھی یہ سب کچھ آئی ایس آئی ہی کا کام تو ہے جو آپ کہیں بھی بیٹھ کرکرسکتے ہیں وہ بھی اپنی فیملی کے ساتھ خوش باش ہوکر۔میں کسی کو مایوس نہیں کررہا بلکہ ان دوستوں کو ایک موٹیویشن دے رہا ہوں جن کا مقصدشہرت نہیں، واہ واہ نہیں صرف پاکستان ہے کہ وہ بھی وہی کام کریں جو آئی ایس آئی کررہی ہے ان شاءاللہ انکے نتائج بھی ویسے ہی پاکستان کو فائدہ پہنچائیں گے جیسے آئی ایس آئی کے۔
آپ اُستاد ہیں طالبعلموں کو دل سے محنت سے پڑھائیں ایک بہترین نسل تیار کریں انہیں پاکستانیت اور اسلام سے محبت اور وفاداری کا درس دیں۔ آپ عالم ہیں لوگوں کو تفرقے سے نکال کرمتحد کریں انہیں حقیقی جہاد اور اسلام اور پاکستان کا درس دیں ، انہیں وطن اور مذہب کا آپس میں تعلق پڑھائیں۔

آپ کاروبار کرتے ہیں باقاعدگی سے ٹیکس دیں ملکی ترقی کا حصہ بنیں، آپ کہیں جاب کرتے ہیں ایمانداری سے جاب کریں دیکھیں اس کا پاکستان کی بہتری میں اثر پڑتا ہے یانہیں، آپ صاحبِ اختیار ہیں لوگوں کی خدمت کریں دیکھیں کتنے لوگ پاکستان کی طرف،پاکستان کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں۔

ہر وہ کام ہروہ مقصد جو پاکستان کو ترقی کی طرف بہتری کی طرف لے جائے وہ آئی ایس آئی کا ہی کام ہے۔

شاید میری باتیں کچھ دوستوں کے لیے مایوس کُن ہوں لیکن نہ آئی ایس آئی نظر آتی ہے نہ آپ نظر آئیں گے لیکن مقصد پسِ پردہ دونوں کا ایک ہوگا تو کتنا آسان ہے نہ آئی ایس آئی کا حصہ بننا۔

پھر جس کو اللہ پاک موقع دے ذہانت دے آگے بڑھیں راستے کھلے ہیں آئی ایس آئی میں جائیں آرمی میں جائیں لیکن تب تک انتطار نہ کریں خود ہی پاکستان کے لیے کچھ کرنے کی ٹھان لیں آپ آئی ایس آئی ہی ہوں گے۔

کوئی بھی بات بُری لگی ہو معذرت چاہتا ہوں لیکن آپ اس نظریہ سے آگے بڑھیں گے خدا کی قسم آپ جہاں بھی ہوں گے جس شعبہ جس انداز میں بھی کام کریں گے آپ خود کو آئی ایس آئی کا حصہ ہی محسوس کریں گےکہ دنیا نہیں دیکھ رہی مگر میرا مقصد میرا کام میرے ملک کے کام آرہا ہے۔

پھرکون کون دُوست ہے جو آج سے ہی آئی ایس آئی ایجنٹ بن رہا ہے؟ 🙂 فزیکلی آئی ایس آئی کی شمیولیت میں تو تعلیم اور عمر کی قید بھی ہوتی ہے لیکن یہ تحریر 22 کروڑ پاکستانیوں کے لیے ہے نہ تعلیم کی قید نہ عمر کی مرد خواتین سب کے لیے یکساں اور لاتعداد مواقعے.

میں اکثر ایک فقرہ کہتا ہوں کہ آئی ایس آئی ایک ادارے کا نہیں بلکہ ایک ارادے کا نام ہے اداروں کو جوائن کیا جاتا ہے جبکہ ارادوں کا ساتھ دیاجاتا ہے۔

تحریر: #انوکھاسپاہی

How to Apply for ISI Pakistan job
آئی ایس آئی کا ایجنٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں