کرتارپور راہدری قادیانی منصوبہ، راء کی سازش، یا کشمیر کا سُودا؟

کرتارپور راہدری قادیانی منصوبہ، راء کی سازش، کشمیر کا سُودا اور ایسی کئی خرافات جو آجکل مختلف مقامات پر سننے میں آرہی ہیں.

شروعات ایک چھوٹی سی مثال سے کرتا ہوں میں الحمدللہ ایک مسلمان ہوں مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ آپکی ایک خواہش ایسی جو آپ چاہتے ہیں کہ مرنے سے پہلے پوری ہو تو وہ بالاتردد یہی ہوگی کہ خانہِ خدا کی ذریات اور دربارِ نبوی صلی اللہ علیہِ وآلہِ وسلم پر حاضری.اب میری جگہ خود کو رکھیں کیا آپ کی یہی خواہش نہیں ہوگی؟ یقیناً ہوگی ہم سب کی ہو گی.

اب ایک چھوٹی سی بات اور فرض کرلیں کہ خانہ کعبہ یا روضہِ رسول صلی اللہ علیہِ وآلہِ وسلم ہماری نظروں کے سامنے ہوں مگر خدانخواستہ کم پر پابندی ہو ہمیں قید کرلیا جائے تو آپ کیسا محسوس کریں گے میں اگر اپنا سوچوں تو یوں محسوس ہوگا جیسے میری پیاس کی شدت سے جان جارہی ہے اور مجھے دریا کے پاس لا کر قید کرلیا گیا ہو اور میں تڑپ سکتا ہوں مگر اپنی پیاس نہیں بجھاسکتا کچھ ایسا ہی سکھوں کے ساتھ تھا.

بے شک 1947 میں سکھوں نے پاکستان آنے والوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے، مسلمانوں کا بے دریغ قتلِ عام کیا اور بھارت کے ساتھ شامل ہو گئے لیکن پھر وقت نے پلٹا کھایا اور 1984 میں بھارت نے سکھوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں.

وہ سکھ جنہیں بھارت ہندو کہتا رہا کہ ہمارا مذہب ایک ہے ہم ایک ہیں انہیں سکھوں کو انڈیا نے خون میں نہلا دیا اور سکھوں کو اسی دن احساس ہوا کہ ہندووں کے لیے مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا اور آج انکے ساتھ وہی سب کچھ ہوا کیونکہ ہندوتوا کا نظریہ آج سے نہیں پاکستان بننے کے وقت سے موجود تھا تو یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ جب نچلی ذات کے ہندووں کو جھیلنا ہندوتوا تو برداشت نہیں تو وہ سکھوں کو کیونکر برداشت کرنے لگے. اسی دن سے سکھوں نے بھی بھارت میں خود کو اقلیت قرار دیکر اپنے الگ وطن کی بنیاد ڈال دی اور خالصتان کے لیے کوشش شروع کردی.

ہندووں کے ہاتھ قتلِ عام کے بعد سکھوں کے دلوں میں پاکستان سے محبت اور مسلمانوں سے انسیت پیدا ہوئی وہ جانتے تھے کہ پاکستان بننا کس لیے اہم تھا جبکہ وہ خود انہی ہندووں کی جنونیت کے شکار ہوگئے تھے. یہ ہے مختصر سا سکھوں سے بھارت کے تعلق کا تعارف.

اب آتے ہیں کرتارپور بارڈر کی طرف، جیسا کہ میں نے اوپر کہا کہ جیسی اہمیت ہماری نظروں میں خانہِ کعبہ اور روضہِ رسول صلی اللہ علیہِ وآلہِ وسلم کی ویسے ہی سکھوں کے لیے کرتارپور گرونانک جی جنم ستھان بھی ویسے ہی مقدس تھا 70 سال سے یہ جنم ستھان سکھوں کے لیے ایک حسرت بن چکا تھا کہ کبھی وہ اپنے مقدس مقام پر قدم رکھیں.

بھارت میں رہنے والے سکھ مذہب کے لوگ بھارت میں ہی ٹھہر کر دوربین سے کرتارپور میں گرونانک جی کے جنم استھان کی زیارت کرتے یہاں آپ ایک بار پھر خود کو انکی جگہ رکھ کر سوچیں کہ اگر یہی جتن ہمیں اپنے مقدس مقامات کے لیے کرنے پڑتے نظروں کے سامنے خانہِ خدا اور روضہِ رسول صلی اللہ علیہِ وآلہِ وسلم ہوتے اور ہم چاہ کر بھی ان مقامات کی زیارت کو نہ جاسکتے تو ہمارے جذبات کیا ہوتے؟
جب سعودی ولی عہد پاکستان تشریف لائے تھے تو ہم سب اس امید میں تھے کہ وہ حج و عمرہ میں پاکستانیوں کا کوٹہ بڑھانے اور آسانیاں پیدا کرنے کے حوالے سے ضرور بات کریں تو ہمیں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے لیے بھی ایسے ہی سوچنا چاہیے.

پاکستان نے اسلامی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان میں محبت کا پیغام لائے نوجوت سنگھ سدھو کو کرتاپور راہداری کھولنے کا تحفہ دے دیا جس میں کوئی قباحت نہیں تھی یہ بات نہ عمران خان کی ہے نہ ہی جنرل قمر باجوہ یا خالصتان کی یہ بات ہے اسلامی اقدار کی اسلام کے حکم کی.

جب اللہ پاک اور حضور پاک صلی اللہ علیہِ وآلہِ وسلم نے ہمیشہ ہمیں اس بات تلقین کی کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے حققوق کی حفاظت کرنا، انکے مقدس مقامات کی حفاظت اور ایسے حالات پیدا کرنا جو کہ اقلیتوں کے کیے سازگار ہوں وہ ریاست کی ذمہ داری اور یہ بات میں نہیں کہہ رہا اسلام کہہ رہا ہے تو کرتارپور راہداری کھولنا سکھ اقلیت کو انکی عبادت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا اسلام کے عین حکم کے مطابق ہے وہ اقلیت ہیں اور پاکستان ایک اسلامی ریاست جس کی ذمہ داری ہے اقلیتوں کا خیال رکھنا.

اب آتے ہیں اگلی بات پر کشمیر اور کرتارپور راہداری پر تو جو بھی دوست کرتارپور اور کشمیر کو آپس میں جوڑ رہے ہیں کہ ہم نے کرتارپور کھول دیا انڈیا نے کشمیر میں یہ کردیا وہ کردیا.

کشمیر اور سکھ برادری کو ایک جگہ رکھیں اور بھارت کو دوسری طرف. دونوں کے حالات ایک جیسے ہی ہیں کشمیر بھی اس وقت بھارت حکومتی کی مرضی کے پابند ہیں اور سکھ بھی تو جیسے ہم کشمیر کو کہہ رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر ویسے ہی سکھ بھی بھارت کو قابض کہتے ہیں تو یہ سکھوں کے لیے ہے نہ کہ بھارت کے لیے.

سکھ بھی کشمیریوں کی طرح ہی محکوم ہیں، کشمیریوں کی طرح پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں. آج اگر کشمیری پاکستان آئیں گے تو فی الحال انکی مجبوری ہے کہ بھارت کی مرضی سے ہی آئیں گے یہی حال سکھوں کا ہے کہ انہیں بھارت حکومت کے ہی دستخط چاہیے تھے. کشمیری اور سکھ دونوں بھارت کے خلاف ہیں یہ بات بھی آپ لوگ رد کرجاتے ہیں.

اب ایک اہم بات پہ آجاتا ہوں جو کہ سمجھنے کی ہے جب 5 اگست کو بھارت نے کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کیا تھا تب ہزاروں کشمیری بہنیں بیٹیاں بھارت میں محصور ہو کر رہ گئی تھیں جن کے متعلق بی جے پی کے دہشتگردوں نے غلیظ منصوبے بناتے ہوئے ان سے ذیادتی اور جبراً شادی کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیری لڑکیوں سے شادی کریں گے انکا ریپ کریں گے.

تو ذہن پہ زور دیجئے کہ اس وقت سکھوں نے ہی پریس کانفرنس کی تھی کہ ہم جان پر کھیل کر کشمیری خواتین کی عزتوں کی حفاظت کریں گے، اس وقت وہ سکھ ہی تھے جنہوں نے لاکھوں روپے کا چندہ اکٹھا کرکے کشمیری بہنوں کو بحفاظت کشمیر انکے گھروں تک پہنچایا تھا. کئی سکھ بھارتی فوجی اس وجہ سے نوکری چھوڑ گئے کہ ہم پاکستان سے نہیں لڑیں گے کئی سکھ فوجی خودکشی کرچکے کہ ہم گرونانک کی بستی کی طرف گولی نہیں چلاسکتے.

دنیا بھر میں موجود سکھ پاکستان سے محبت کا دم بھرتے ہیں اور جہاں جہاں خالصتان کا ذکر ہوتا ہے وہاں وہاں وہ کشمیر کی تحریکِ آزادی کو بھی جوڑ کے رکھتے ہیں تو یہاں آپ کیوں نہیں دیکھتے کہ سکھ کشمیروں کی حفاظت بھی کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں بھارتی مظالم کے خلاف کشمیریوں ساتھ کھڑے ہیں آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کرتارپور بھارت کے لیے ہے بالکل بھی نہیں کرتاپور سکھوں کے لیے خالصتان کے باسیوں کے لیے ہے اور عین میرے اللہ کے حکم کے مطابق ریاست نے اقلیتوں کو انکی عبادت گاہ تک رسائی آسان کردی جس کی سب سے ذیادہ تکلیف بھارت کو ہی ہو رہی ہے.

بھارتی حکمرانوں سے میڈیا تک سب ہی تپے ہوئے ہیں.
پھر کہا جارہا ہے کہ یہ منصبوبہ قادیانیوں کی سازش پے تو اس پہ بھی پہلے ان لوگوں کو جواب دے دوں جنہوں نے یہ پروپگنڈہ شروع کردیا اور وجہ سکھ نہیں بلکہ عمران خان ہے جبکہ ان بدبختوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے تھے کہ یہ منصوبہ عمران خان کی ذات کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ہے لیکن کریڈٹ کریڈٹ کی گیم کھیلنے والے بھلا اس بات سے کہاں واقف انہوں اب بھی لگ رہا ہوگا کریڈٹ عمران خان کو مل جائے گا تو اس لیے پروپگنڈہ شروع کیا ہوا ہے بھائی اللہ گواہ ہے یہ ایک مذہب سے جڑا معاملہ ہے جو کہ سکھوں کا ہے اس میں نہ کوئی سازش ہے نہ قادیانی مرزائی جیسی کوئی بات کرنا ہی عقل و فہم سے عاری شخص کا کام ہے.

ویسے جو بھی آج قادیانی قادیانی کررہے ہیں انہیں یہ بات بتا دوں کہ کرتارپور سے قادیانیوں کا لینا دینا نہیں مگر ووٹوں کے لیے الیکشن کے نزدیک پاکستان کے آئین سے ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کی شق ختم کرنے کا تعلق براہ راست بلکہ تھا ہی قادیانیوں سے تاکہ ختمِ نبوت کی شرط ختم کر قادیانیوں کو اقیلت سے اکثریت میں بدلا جائے تب تو سارے چپ تھے کسی کی زبان سے ایک لفظ نہیں نکلا حکومت اور اتحادی قادیانی ووٹ بینک کے لیے ختم نبوت پر شب خون مار رہے تھے اور سب خاموش رہے مگر اب ایک اچھا کام ہونے جا رہا ہے تو انہیں سکھوں میں قادیانی نظر آرہے ہیں. بات رہی عمران خان کی تو عمران خان نے ساری دنیا کے سامنے دھڑلے سے یہ بات کہہ دی تھی کہ اسلام صرف ایک ہے ہمارے نبی صلی اللی علیہ وآلہِ وسلم لائے تھے اس کے علاوہ کوئی دین نہیں اور یہی بات قادیانیوں کا رد ہے.

جو سکھ پاکستان کی طرف منہ کرکے ماتھا ٹیکتے ہیں وہ اس ملک کو کبھی نقصان نہیں پہنچائیں گے ان شاءاللہ سکھ دنیا میں کہیں بھی ہو اس کے دل میں پاکستان کے لیے احترام موجود ہے.

چلیں قادیانی کھیل کے بعد پھر کہا گیا کہ پاکستان نے پاسپورٹ شرط ختم کردی تو دہشتگردوں کو گھسا رہے ہیں اور اللہ جانے کیا عجیب عجیب باتیں کررہے ہیں تو ذرا یہاں بھی عقل استعمال کرلیں کہ بھارت سے آنے والے سکھ یاتری پاسپورٹ کے لیے بھارتی حکومت کے محتاج رہتے جنہوں نے پاکستان آنا ہوتا انہیں بھارتی پاسپورٹ کی ضرورت پڑتی اور اسکے بعد بھارت حکومت جو پہلے ہی کرتارپور معاہدے سے خوش نہیں وہ حکومت انہیں کیسے اور کتنے جتن کے بعد پاسپورٹ دیتی آپ سوچ بھی نہیں سکتے اور اسی پاسپورٹ بنوانے کے چکر میں کئی لوگ بیچارے بھارت کے ہاتھوں استعمال ہوجاتے.

تو آخر میں ایک بار پھر سے اپنی بات کو دھرا دوں کہ کرتارپور معاہدہ بھارت کے لیے نہیں بلکہ سکھوں کے لیے ہے. کشمیر جس طرح بھارت سے تنگ ہے ویسے ہی سکھ بھی ہندتوا کی مار جھیل رہے ہیں ان دونوں کا ٹکراؤ نہ کریں کیونکہ سکھ بیچارے کشمیر کے لیے ہر فورم پر کھڑے ہیں. سکھوں کے دل میں پاکستان کے لیے نفرتوں کے بیج بونے اور کرتاپور راہداری کو متنازعہ بنانا صرف اور صرف بھارت کے مفاد میں ہے.

غیرمسلموں کو آسانیاں اور انکی عبادتگاہوں کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے مسلم ریاست پر ڈالا ہے تو سکھ بھی اسی میں آتے ہیں. اس سے پاکستان کو معاشی طور پر بھی فائدہ ہے، اسلام کا پُرامن اور مذاہب کے حوالے سے احترام کا پہلو بھی اجاگر ہوگا یہی سکھ جب پاکستان سے خوش ہوکر جائیں گے تو پاکستان کو بطورِ اسلامی ریاست سراہا جائے گا جس سے اسلام کا پرامن تشخص سامنے آئے گا.

پاکستان پہ لگا انتہاء پسند اور دہشتگردی کا لیبل بھی ہٹنے میں مدد ملے گی. اب جو دوست یہ کہے گا کہ پاکستان تو یہ کررہا ہے اور بھارت تو پیارے بھارت میں ہندوتوا کے پیروکار ہیں چانکیہ اور گوڈسے کے پیروکار ہیں لیکن آپ پاکستان میں اسلام کے پیروکار ہیں آپ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہِ وآلہِ وسلم کے پیروکار ہیں اپنا اور بھارت کا مقابلہ نہ کریں اور بغضِ عمران میں پاکستان اور اسلام کا روشن ہوتا تشخص مسخ نہ کریں. جزاک اللّہ

کرتارپور کوریڈور Kartarpur koridor
غیرمسلموں کو آسانیاں اور انکی عبادتگاہوں کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے مسلم ریاست پر ڈالا ہے تو سکھ بھی اسی میں آتے ہیں. اس سے پاکستان کو معاشی طور پر بھی فائدہ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں