افسوس کہ اب پانی سر سے گزر چکا

شیطان کے بچے یہودی بہت لمبی پلاننگ کر کے کام شروع کرتے ھیں۔ کفار نے آج سے پندرہ بیس سال پہلے پاکستان میں پرائیویٹ سکولنگ سسٹم کو بہت رواج کروایا تھا۔ نئے اور انگلش میڈیم نصاب کو دیکھ کر پیسے والے لوگ بھی کھنچے چلے گئے کہ شاید ان سکولز کی تعلیم دور جدید کے تقاضوں سے ھم آہنگ ھے۔۔۔

لیکن کیا پتہ تھا کہ یہ پرائیویٹ سکولنگ سسٹم دور جدید کے تعلیمی تقاضوں سے ھم آہنگ نہیں بلکہ بڑھتی ھوئی شیطانیت اور مسلمانوں میں دین بیزاری پیدا کرنے کا کفار کا ایک حربہ ھے۔ دراصل ھمارے اسلامی اور پاکستانی معاشرت اور نظام زندگی کے خلاف ایک زہر قاتل بن کر سامنے آئے گا۔ جو ھماری معاشرتی و دینی اقدار کا علی الاعلان خون کرے گا۔۔۔

کس کو پتہ تھا کہ ٹھیک بیس سال بعد جب یہ بچے ان اداروں میں پڑھ کر معاشرے کا حصہ بنیں گے۔ تو یہی بچے دین اسلام کیلیے کفار سے خطرناک اور نقصان دہ ثابت ھوں گے۔ آج دیکھ لیجیے نتائج جدید خطوط پر چلنے کے دعوے دار، انگلش میڈیم اور سائنس کے نام پر تعلیم کے فروغ کے دعویدار ھماری نسلوں کو برباد کر چکے ھیں۔۔۔

کفار کے مشن پر کام کرنے والے جن تعلیمی اداروں کے خلاف کچھ درد دل رکھنے والے افراد بہت عرصے سے قوم کو جگانے کی کوشش کرتے رھے ھیں۔ آج انہی اداروں کے پروان چڑھے ھوئے بچے اس معاشرے اور دین اسلام کیلیے کفار سے زیادہ زہریلے ثابت ھو رہے ھیں۔ آج سوشل میڈیا پر کفار سے زیادہ ایسے لادین طرز کے ڈگری ہولڈر نوجوان دین اسلام کی گستاخیاں کر رہے ھیں۔۔۔

عرصہ دراز سے نشاندہی کی جاتی رہی کہ ‏بیکن ہاؤس، ایجوکیٹرز، سٹی سکول جیسے لبرل تعلیمی ادارے بیرونی این جی اوز کی فنڈنگ سے چل رہے ھیں۔ اور ان کا تعلیمی نصاب اور غیر نصابی سرگرمیاں بھی بہت حد تک غیر اسلامی بلکہ اسلام سے متصادم ھیں۔ آج دیکھ لیجیے ان اداروں سے نکلنے والے بچوں کی ذہنیت بالکل کفار جیسی ہو چکی ہے۔ یعنی کوئی اخلاقی، دینی اور معاشرتی حدود کے پابند نہیں ھیں۔ ان کا منشور ھے “میں جو چاھوں وہ کروں کوئی کون ھوتا ھے مجھے روک ٹوک کرنے والا”۔۔۔

ان مغربی طرز کے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل یہ نوجوان لڑکے لڑکیاں اب حیوان بن جاتے ہیں، اللہ کے دین کی حدود کا سرعام انکار بلکہ بغاوت کرنے لگے ہیں. زیر نظر سکرین شاٹ کے کردار اس ملعون نے اللہ اور اسلام کےخلاف ایک کتاب “The Curse of GOD” بھی لکھی ہے۔ آج کوئی ھے وزیر تعلیم، مشیر تعلیم، سیکرٹری تعلیم جو تعلیمی اداروں کی منہ زوری کو لگام دے کر ھماری قومی و دینی اقدار کی بربادی کو روک سکے۔۔۔؟

بدبختو! ارض پاک کیلیے جانوں کے نذرانے دینے والی پاک افواج پر تو ہر دوسرا بندا اٹھ کر بدزبانی کرتا ھے۔ ملکی نظام تعلیم سے منسلک وزیروں مشیروں اور سیکریٹریوں کو کب پکڑو گے جنھوں نے تمھاری نسلیں بگاڑ ڈالی ھیں، جنھوں نے ھمارے معاشرتی نظام کا قتل عام کر دیا ھے۔ جنھوً نے ھماری مذہبی اقدار پر ڈاکہ ڈالا ھے۔۔۔؟

Haris sultan tweet
Haris Sultan Tweet

تہذیب الحسن

رابی پیرزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں