کشمیر پر بھارت کا مضبوط قبضہ۔اب پاکستان یہ کام کرے ورنہ کشمیر گیا

انڈیا نے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کردی کیا پاکستان کے کشمیر کی حیثیت تبدیل ہوئی نہیں بالکل نہیں.
کل بھی کشمیر انڈیا کے قبضے میں تھا آج بھی ہے کل بھی پاکستان کے لیے کشمیر مقبوضہ تھا آج بھی ہے.
کشمیر انڈیا کے لیے بدلہ ہے پاکستان کے لیے نہیں.

کشمیر کے حوالے سے آپ سب کی تنقید و تشویش اپنی جگہ درست ہے سچی بات یہ ہے کہ ہمارے لوگ انڈین میڈیا کو دیکھ دیکھ کر اس قدر متاثر ہوچکے ہیں کہ جیسے انڈین جنرلز، اینکرز بڑی بڑی بڑکیں مار کر جنگی حکمتِ عملی میڈیا پر بیٹھ کر بناتے ہیں لیکن ہماری طرف سب کچھ حالات ایسے ہیں کہ ہماری فوج ایک پروفیشنل اور سلجھی ہوئی فورس ہے جہاں بڑکیں مارنے کا تصور نہیں خاموشی سے کام کیا جاتا ہے کیونکہ جب آپ دشمن کو اپنی پلاننگ ہی بتا دو تو دشمن سے مقابلے کا تو تصور ہی زائل ہوجاتا ہے.

رہی بات کشمیر کی تو اب میں یہاں آپکو سب کچھ من وعن بتانے سے تو قاصر ہوں کہ کشمیر میں اور کشمیر کے لیے کیا ہورہا ہے. نہ میں بتا سکوں گا اور نہ ہی شاید آپ ہضم کرسکیں..
بس اتنا ضرور یاد رکھیے گا کہ انڈیا کے ساتھ ہماری جنگ صرف اور صرف کشمیر کی وجہ سے ہے غزوہِ ہند کشمیر کے لیے ہی لڑی جانی ہے.

پاکستان ستر سال سے انڈیا کی پراکسیز کی زد میں ہے اور وجہ صرف صرف ایک ہی ہے کشمیر بلکہ کشمیر کو بیچ میں سے نکال دیں تو پاکستان کا آدھا مقصد اور تصورِ غزوہِ ہند تو یہیں ختم ہوجاتا ہے اور غزوہِ ہند کا تصور نہ تو آپکا دیا گیا ہے نہ ہی میرا یہ تصور یہ بشارت میرے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کا دیا گیا ہے تو یہ کہنا بس کشمیر ہاتھ سے گیا تو یہ بالکل غلط ہے کشمیر ہاتھ سے ان شاءاللہ جا ہی نہیں سکتا بھارت نے کشمیر کی آئینی حیثیت ضرور تبدیل ہوئی ہے جغرافیائی حیثیت اور پاکستان سے رشتہ نہیں.

پاکستان کے لیے کشمیر کل بھی مقبوضہ تھا آج بھی مقبوضہ ہے اور آزادی تک مقبوضہ رہے گا.
اب آتے ہیں دوسری بات پہ کہ ہم صرف احتجاج ہی کرسکتے ہیں بالکل احتجاج بھی ضروری ہے تاکہ باقی دنیا تو دیکھ سکے کہ جن کشمیریوں کو وہ ساری عمر دہشتگرد سمجھتے رہے انہیں خبر ہونی چاہیے کہ کون غلط کون صحیح ہے؟
ایک ملک کے تین لیول پہ کام ہوتے ہیں.

حکومت کا کام ہوتا ہے معاملات کو دیکھنا، انہیں دنیا تک پہنچانا، اس پہ دنیا کو اعتماد میں لینا. ہر مسلہ کو پہلے پر امن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرنا. ہر مسلہ کے لیے کوئی لائحہِ عمل تیار کرنا. اپنی عوام کے ساتھ ساتھ دنیا کا بھی سوچنا، جس کو دنیا فرشتہ سمجھتی رہی اسے دنیا کے سامنے بےنقاب کرنا.

2.عوام کا کام ہوتا ہے کہ اپنی حکومت کے فیصلوں میں حکومت کا ساتھ اور حکومت کی پشت پناہی کرنا خاص کر غیر سیاسی معاملات میں. احتجاج زندہ لوگ کرتے ہیں مردہ نہیں، آواز زندہ لوگ اٹھاتے ہیں مردہ ضمیر نہیں. ظلم کے خلاف اواز آٹھانا عوام کا فرض ہے. چلیں جہاد ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن ظلم کو ظلم کہنا عوام کی ذمہ داری نہیں کیا. کیا مظلوم بہن بھائیوں کے ساتھ ہمدردی اور محبت کا اظہار ضروری نہیں؟ ہسپتال میں علاج تو ڈاکٹر کرتے ہیں تو گھر والے ساتھ کیوں ہوتے ہیں سوچ لیں جواب مل جائے گا.

فوج. بالکل ایک تیسرا کام ہوتا ہے فوج کا جس نے معرکہ لڑنا ہے لیکن کیسے لڑنا ہے کیا؟
کیا ایسے ہی منہ اٹھا کر جنگ کے لیے چل دیا جاتا ہے جبکہ فوج کو اس بات کا مکمل طور پر اندازہ ہے کہ دشمن نے کیسے اسے گھیرے ہوئے ہے.

فوج کے لڑنے سے پہلے کام ہوتا ہے مارخوروں کا جو پل پل کی خبر دیتے ہیں، وہ یہ بتاتے ہیں کہ دشمن جنگ کیوں چاہ رہا ہے، وہ یہ بتاتے ہیں کہ دشمن کے پشت پناہ کون ہیں؟ کہاں کہاں سے دشمن کو مدد مل رہی ہے، دشمن کی مرضی پہ جنگ کرنے سے آپ کو کیا نقصان ہے. بھئی وہ مارخود دشمن کے قدم قدم پر نظر رکھے بیٹھے ہوتے ہیں.
ایک ملک جس کا مقابلہ ایک ایسے ملک سے جس کی پشت پر 50 ملکوں کی حکومتیں اور فوج کھڑی ہو کیا ادارے اس چیز کو نہیں دیکھ رہے ہوتے؟ کیا مارخوروں نے یہ رپورٹ نہیں دی کہ آپکو جنگ میں جلد سے جلد الجھا کر آپکے ملک کے اندر کیسے حالات پیدا کیے جانے ہیں؟ بھئی یہ سب کچھ دیکھا جاتا ہے دشمن چاہتا ہے اپ جلد بازی کریں تاکہ آپ نہ صرف کشمیر سے ہاتھ دھوئیں بلکہ اپنے ملک سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں.

پاکستان کی مشرقی سرحد پہ ایک جبکہ افغان سائیڈ پر 50 ملکوں کی فوج اور ان گنت خفیہ ایجنسیاں کس لیے بیٹھی ہیں؟
جب آپکے برادر اسلامی ملک کی فوج آپ پر فائرنگ اور شیلنگ کر رہی ہے تو کیا وہاں اس نے انڈیا کو نہیں بٹھایا ہوگا؟ کیا وہاں اسرائیل موجود نہیں ہوگا؟ جا کہ دیکھیں فارہ ائیربیس میں کتنے اسرائیلی کمانڈوز ہیں. جائیں دیکھیں بگرام ائیربیس میں کتنے اسرائیلی کمانڈوز موجود ہیں اور کس انتظار میں ہیں.

میں لکھتا جاوں اپ پڑھتے پڑھتے تھک جائیں گے. جا کہ دیکھیں جنرلز کی ٹیبلز پہ مارخوروں کی پل پل کی رپوٹوں سے میزیں بھری ہیں کس لیے کیونکہ جو اپ نہیں دیکھ رہے وہ دیکھ رہے ہیں.
چند ماہ پہلے اجیت دول خفیہ طور پر بھارت گیا تھا وہاں وہ کیا کچھ کرکے آیا اداروں کو خبر ہے آپکو نہیں. اسرائیل کیا کررہا ہے بھارت میں آپکو پتہ ہے؟ اسرائیل کیا کررہا ہے افغانستان میں آپکو پتہ ہے؟ آپکو شاید کچھ نہیں پتہ کہ کیا ہورہا ہے.

بھارت نے صرف پاکستان کے خلاف لڑنا ہے مگر پاکستان نے بھارت، افغانستان، اسرائیل، امریکہ اور 50 ملکوں کی دوسری افواج سے لڑنا ہے تو کیا آپ کو یہ لگتا ہے ایسی صورتحال میں آپ دشمنوں کے سامنے آ کر دوبدو جنگ لڑیں گے؟
جہاں امریکہ اسرائیل بھارت کو بھڑکا رہے ہیں کہ پاکستان کے خلاف جنگ کردو تاکہ پاکستان اس آگ میں کود پڑے اور ہم بھی اپنا بدلہ لے لیں کیا آپکو لگتا ہے کہ انڈیا ان ساری طاقتوں کی مرضی اور پشت پناہی کے بغیر اتنا بڑا قدم اٹھاسکتا ہے؟

پاکستان اور پاک فوج ایسی جنگوں کے ماہر ہیں کہ میں نے تو کچھ نہیں کہا، میں نے تو کچھ نہیں کیا اور بہت کچھ کرجاتا ہے.
روس کے وقت پاکستان کہیں نظر نہیں آیا روس کے 12 ٹکڑے ہوگئے، امریکہ کے وقت پاکستان کہیں نہیں تھا امریکہ دھاڑیں مار رہا ہے کوئی ایک بھی پاکستانی فوجی گیا وہاں؟ نہیں”

کشمیر تازہ ترین خبریں
کشمہر بنے گا پاکستان

اپنا تبصرہ بھیجیں