نئی سروس رائفل کی تلاش – پاکستان اے کے 103 کیوں خریر رہا ہے؟

پاک فوج کے جتنے بھی دفاعی پروجیکٹ جاری ہیں وہ انتہائ خفیہ رکھے جاتے ہیں، انہی پروجیکٹس میں سے ایک نئ سروس رائفل سلیکٹ کرنے کا پروجیکٹ بھی ہے۔

نئی سروس رائفل کی تلاش کے لیے گزشتہ کئ سال سے نئ رائفلز کے ٹرائل ہو رہے ہیں ، لیکن تاحال آفیشیل ذرائع سے کسی رائفل کی سلیکشن کے بارے کوئ معلومات فراہم نہیں کی گئ۔

لیکن چند روز پہلے مجھے ایک اطلاع ملی کہ پاکستان نے ایک لاکھ چالیس ہزار اے کے-103 رائفلز خریدنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اگرچہ یہ صرف ایک دعوی’ ہے لیکن آفیشیل ذرائع سے تصدیق ہونے تک ہم اس خبر کو سچ نہیں مان سکتے۔
آئیے پہلے اس AK-103 رائفل کے بارے مختصر جان لیں۔

اے کے-103رائفل پاکستانی رائفل ٹی-56 کی طرح 7.62×39ایم ایم کلیبر کی حامل رائفل ہے جس کا خالی وزن 3.3کلوگرام ہوتا ہے۔
اس رائفل کی بہترین بات اسکی 500میٹر کی افیکٹیو رینج ہے۔اس کے اوپر لگی ریل کی مدد سے اس پر کئ طرح کی سکوپس اور رات کو دیکھنے والے آلات لگائے جا سکتے ہیں۔

اس وقت تقریبا” ہر ملک کی خواہش ہے کہ وہ روس سے اے کے-103 رائفل خرید لے،ان ممالک میں بھارت سرفہرست ہے جس نے لاکھوں کی تعداد میں یہ رائفل آرڈر کی ہے۔ ایران اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی اپنی افواج کے لیے اسے خرید چکے ہیں جبکہ فلپائن بھی اسے خردینے کی خواہش کا اظہار کر چکا ہے۔

اگر پاک فوج اس رائفل کو خرید لیتا ہے تو پاکستان کے پاس پڑی ٹی-56 کی گولیاں اس میں بھی استعمال ہو سکیں گی۔
پاکستان اس رائفل کے حصول کے بعد ٹی-56ایس ایم جی کو ریٹائر کر دے گا ۔۔جبکہ جی تھری کی جگہ پاکستان آرمی ملکی ساختہ pk-18 رائفل کے ٹرائل شروع کر چکی ہے۔

پاکستان آرمی کو جلدازجلد یہ کام پورا کر لینا چاہیے کیونکہ پاک فوج کے سپاہیوں کے زیراستعمال جی تھری رائفل کا زمانہ اب گزر چکا ہے۔

HAS THE PAKISTAN ARMY SELECTED THE AK-103?

تحریر-#سعیدغالب

اپنا تبصرہ بھیجیں