200

قادیانی عبدالشکور کی امریکی صدر سے ملاقات کا احوال

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے16 سے 18 جولائی تک “عالمی مذھبی آزادی” کا پروگرام رکھا جس میں دنیا بھر سے مذھب کے ستائے نمائندوں کو بلایا گیا۔ پاکستان سے قادیانیوں کی نمائندی “عبدالشکور” اور شاتم ختم نبوت سلمان تاثیر کے بیٹے “شان تاثیر” نے نبھائی۔ کانفرنس کے بعد دونوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی اوول آفس میں مختصر ملاقات کی، اس ملاقات میں سلمان تاثیر قادیانی کے بیٹے “شان تاثیر قادیانی” نے انگلش ترجمے کی ذمہ داری نبھائی۔

عبدالشکور نے ٹرمپ کو کہا کہ ؛

” میں احمدیہ کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہوں، 1974 میں ہمیں غیر مسلم قرار دیا گیا.ہمارے گھروں کو لوٹ لیا گیا ہمارے کاروبار دکانیں بھی لوٹ لی گئیں.کئی گھروں کو آگ لگادی گئی. اس وقت میں اپنے بچوں کو لے کر وہاں سے ہجرت کرگیا. میں کتابوں کا کام کرتا تھا مجھے کتابیں بیچنے پر 5 سال کی سزا دی گئی. 5 سال قید بامشقت اور 6 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی گئی.

میں نے 3 سال کے بعد رہائی پائی ہے. ہم بہت پر امن ظریقے سے رہتے ہیں، میں یہاں امریکہ میں اپنے آپکو مسلمان کہہ سکتا ہوں لیکن پاکستان میں اپنے آپکو مسلمان نہیں کہہ سکتا. اگر ہم پاکستان میں اپنے آپکو مسلمان کہیں تو وہ ہمیں سزا دیتے ہیں.

عبدلشکور نے ٹرمپ کو مزید بتایا کہ:

ہماری جماعت بہت پر امن ہے، دوسرے لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں، ہمارے گھر جلاتے ہیں لیکن ہم کسی کو کچھ نہیں کہتے ہم اللہ پر چھورٹے ہیں.

(یہ ترجمہ قادیانی جماعت کی نمائندہ اخبار “ربوہ ٹائمز” سے اخذ کیا گیا ہے)

قارئین !

کیا آپ جانتے ہیں عبدالشکور کون ہے؟

عبد الشکور ایک مشہور قادیونی ہے۔ یہ کتابوں کی دوکان چلاتے تھے۔ اپنے دوکان پر جعلی ترجمے والا قادیانی بیچتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گئے جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا اور جرم ثابت ہونے پر عدالت نے اسے 3 سال جیل اور 6 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

مارچ 2019 میں عمران حکومت نے امریکی اور عالمی انسانی حقوق کی تنظمیوں کے دباؤ پر عبدالشکور کو رہا کیا۔ رہائی پاتے ہی عبدالشکور کو امریکہ نے 16 جولائی کو ہونے والی “عالمی مذھبی کانفرنس” میں مدعو کیا۔ اس دعوت پر سلمان تاثیر کا بیٹا شان تاثیر انہیں امریکہ لے گیا جس میں قادیانی کمیونٹی کی بھرپور مدد بھی شامل تھی۔

امریکہ میں “عبدالشکور قادیانی” نے پہلے سے طع شدہ منصوبے کے تحت اپنی تقریر میں پاکستان اور دین اسلام کے خلاف خوب زہر اگلا، امریکی کانفرنس میں پوری دنیا کے مذھبی نمائندوں اور انسانی حقوق کے رہنماؤں کے ذہنوں میں خوب زہر انڈیلا کہ پاکستان میں اقلیتوں بالخصوص قادیانیوں کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے، دنیا کو پاکستان اور اسلام کا جعلی چہرہ دکھایا گیا جبکہ حقیقت اسکے بلکل برعکس ہے۔

جبکہ “شان تاثیر” نے تقریر میں زیادہ زور اس بات پر دیا کہ “آسیہ ملعونہ” بےگناہ قرار دیکر آزاد تو ہوئی ہے مگر پاکستان میں اب بھی 200 سے زائد خواتین و حضرات توہین مذھب کے الزام میں جیل میں ہیں۔ شان تاثیر نے دنیا بھر کے انسانی حقوق کے نمائندوں سے کہا کہ میرے دوستو ہم نے بڑی محنت سے آسیہ ملعونہ کو آزاد کروالیا ہے لیکن اب ہمیں مزید 200 توہین مذھب کے مجرمان کو بھی پاکستان پر دباؤ بڑھاکر آزاد کروانا ہے۔ یہی بات شان تاثیر نے امریکی صدر ٹرمپ سے اوول آفیس میں مختصر ملاقات میں بھی کی جس کی وڈیو بھی موجود ہے۔

قادیانی کون ہیں ؟

قادیانی پاکستانی آئین کے تحت ایک غیر مسلم (کافر) اقلیت ہیں۔ پاکستان میں یہ خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے، دوسروں کے سامنے اپنے آپ کو مسلمان تعارف نہیں کرواسکتے، اپنے مذھب کی تبلیغ نہیں کرسکتے کیونکہ ان کا اپنا کوئی مذھب ہے ہی نہیں بلکہ یہ “دین اسلام” کے احکام کو مسخ کرتے حقیقی اسلام کا مزاک اڑاتے ہیں۔ یہ نام اسلام کا استعمال کرنا چاہتے ہیں مگر طور طریقے ان کے بلکل اسلامی احکام سے الگ ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے طور طریقوں کو ہی دنیا اصل اسلام سمجھے اور جو حقیقت میں اصل اسلام ہے وہ اس دنیا سے ختم ہوجائے۔ ان کی سرپرستی امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور عالمی صیہونی لابی کرتی ہے۔ یہ ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا نبی مانتے ہیں، یہ اپنے اس جھوٹے نبی کو امام مہدی بھی کہتے ہیں اور عیسیٰ بھی۔ یہ مکہ مدینہ کے بجائے “قادیان” (انڈیا کا ایک شہر) کو زیادہ مقدس قرار دیتے ہیں۔ حج و عمرے کے بجائے یہ لوگوں کو قادیان کی زیارت کی تاکید کرتے ہیں۔ ان کے نبی نے اپنی کتابوں میں واضع لکھا ہے کہ ان کی سرپرست “سلطنت برطانہ” ہے۔ دراصل جس وقت قادیانی جعلی اسلام متعارف کروایا گیا اس وقت پاکستان نہیں بنا تھا بلکہ اس وقت برصغیر پاک و ہند پر برطانیہ کی حکمرانی تھی، یہی وجہ ہے کہ قدیانیوں کے نبی نے برطانیہ کو اپنا سرپرست لکھا۔ (ثبوت آج بھی مرزا لعنتی کی کتابوں میں موجود ہے)۔

مسلمانوں کے ساتھ ان کا جھگڑا کیا ہے ؟

مسلمان چاہتے ہیں کہ قادیانی خود کو اقلیت مان لیں یکن قادیانی خود کو اقلیت نہیں مانتے بلکہ خود کو مسلمان اور ہم مسلمانوں کو اقلیت قرار دیتے ہیں۔

مسلمان چاہتے ہیں کہ قادیانی اپنے مذھب کا کوئی اور نام رکھ لیں مگر اپنے مذھب کو “اسلام” اور خود کو “مسلمان” ہرگز مت کہیں کیونکہ یہ صرف دین اسلام سے منسوب ہے یکن قادیانی خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور اپنے مذھب کو اسلام بھی۔

مسلمان چاہتے ہیں کہ قادیانی اپنی عبادتگاہ بیشک بنایں لیکن اسے “مسجد” کا نام نہ دیں، مسجد جیسے مینار نہ لگائیں، منبر و محراب بہ بنائیں کیونکہ یہ چیزیں صرف “دین اسلام” سے منسوب “مسجد” سے تعلق رکھتی ہے لیکن قادیانی پھر بھی اپنی عبادتگاہ کو “مسجد” کا نام دیتے ہیں، مینار بھی بنالیتے ہیں اور منبر و محراب بھی۔

مسلمانوں کے قادیانیوں کے ساتھ اور بھی بہت سے مسائل ہیں لیکن چند بنیادی باتیں یہی ہیں جو اوپر بیان کی گئیں۔ جب قادیانی پابندیوں کے باوجود بھی اپنی من مانیاں کرنے لگتے ہیں تو اسلام کے پہریدار وہی کرتے ہیں جو وہ بہتر سمجھتے ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی پر ان پر مقدمات بنائے جاتے ہیں، انہیں مساجد بنانے سے منع کیا جاتا ہے، انہیں تبلیغ کرنے سے منع کیا جاتا ہے لیکن یہ باز نہیں آتے تو ان کے خلاف ایکشن لیا جاتا ہے۔

جب جب انکے خلاف ایکشن ہوتا ہے تو یہ پوری دنیا میں پروپگنڈہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں ان کے ساتھ ظلم ہوتا ہے، چونکہ دنیا ان کی اصلیت سے ناواقف ہوتی ہے لہذہ انہیں آسانی سے مظلوم سمجھ لیتی ہے اور پاکستان کو ظالم ریاست۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں میں سوائے ضیاء الحق کے کوئی مذھبی لگاؤ کا لیڈر نہیں رہا جو دنیا کو قادیانیوں کی اصلیت سمجھا سکے۔ یاد رہے پاکستان میں سب سے پہلے 1973 میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا یا لیکن اس پابندیاں جنرل ضیاء الحق شہید نے ہی ان پر بزریعہ صدارتی آرڈیننس لگائیں جس میں ان پر تبلیغ کی پابندی، مساجد و منبر و محراب بنانے پر پابندی اور بہت سے مزید پابندیاں لگائی گئیں تاکہ اس فتنے سے اصل اسلام کو بچایا جاسکے۔ اسی پاداش میں قادیانیوں کے آقاؤں نے جنرل ضیاء الحق شہید کروایا۔

اب ضیاء الحق مرحوم تو نہیں رہے لیکن ختم نبوت کے عاشقان اب بھی زندہ ہیں۔ ہم مسلمان قادیانیوں کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

آج پاکستانی آئین کے مطابق قادیانی تبلیغ نہیں کرسکتے، اپنے عبادتگاہ بیشک بنائیں لیکن اسے “مسجد” کا نام نہیں دے سکتے۔ اپنے کتابیں یعنی قادیانی لٹریچر نہیں چھاپ سکتے، نہ ہی عوام میں بانٹ سکتے ہیں، اگر ان غیر قانونی کاموں سے کچھ کریں گ تو ان کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانی پھر بھی باز نہیں آتے کیونکہ انہیں یہود و نصاری کی بھرپور مدد حاصل ہے۔ لیکن چونکہ پاکستان میں ناموس رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عاقشان اب بھی زندہ ہیں لہذہ یہاں ان کی من مانیاں اور شرانگیزیاں نہیں چل پاتیں، یہاں یہ کوئی غیر قانونی کام کرتے نظر آئیں عاشقان رسول (صی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے خلاف مقدمات دائر کرتے ہیں۔ عبدالشکور جس نے ٹرمپ سے ملاقات کی، اس بات کی زندہ مثال ہے، شکور پابندیوں کے باجود اپنی دوکان پر “قادیانی جعلی قرآن” بیچتا رہا جس میں بیشمار تحریفیں کی ہوئی تھیں۔ لیکن آپ نے دیکھ ٹرمپ اور دنیا کے سامنے اس نے خود کو کیسے مظلوم بناکر پیش کیا۔

چونکہ دنیا قادیانیوں کی اصلیت نہیں جانتی، جو یہود و نصاریٰ جانتے ہیں وہ سب کچھ جانتے ہوئے ان کے ساتھ ہی کھڑے رہتے ہیں۔ لیکن جو نہیں جانتے وہ ان کے مگرمچھ کے آنسوں اور مظلومیت کا رونا دھونا سن کر فورا انہیں مظلوم مان لیتے ہیں، ان کی آہ و بکا کے ڈرامے دیکھ کر ان کے حق میں پاکستان سے لڑنے لگتے ہیں۔

قادیانی کمیونٹی نے عبدالشکور کے زریعے ٹرمپ کو قادیانیوں کی مظلومیت سنائی، جبکہ “سلمان تاثیر” کے بیٹے “شان تاثیر” نے ٹرمپ کو کہا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان امریکہ آرہے ہیں تو برائے مہربانی ان سے بات کرکے پاکستان میں قادیانی قوانین ختم کروائیے جس پر ٹرمپ نے اسے کہا کہ ہم پوری کوشش کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان صاحب !

ہوشیار رہنا، خبردار رہنا، قادیانیت بہت نازک ایشو ہے، اس پر سنبھل کر بولنا، مدینے کی ریاست کی بھڑکوں اور صحابہ کے ڈر جانے والی بےڈھنگی تاویلوں کے بعد کہیں غلطی سے قادیانیوں کے حق میں بھی بیان نہ دے آنا ورنہ ہم جیسے مسلمان بھی مولانا فضل الرحمٰن کے لانگ مارچ کی حمایت کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ جتنا ممکن ہوسکے یہودی ٹرمپ کے سامنے حقیقی مسلمان بن کر قادیانیوں کی اصلیت بتادینا۔ ہوسکے تو پہلے اپنی بیوی پنکی پیرنی سے قادیانیت پر ایک لیکچر ضرور سن لیں تاکہ ٹرمپ سےملاقات سے پہلے آپ کو فتہ قادیانیت کی سنگنی کا علم ہوسکے۔ ہم دعا کرتے ہیں آپ ہمیں ناامید نہیں کریں گے۔

تحریر : یاسررسول

نوٹ: مجھے ٹویٹر پر فالو کیجیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں