71

کلبھوشن کیس، کب کیا ہوا تفصیلی تحریر

آج عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ سنایا ہے۔ چونکہ پاکستانیوں کا حافظہ بہت کمزور ہے اس لیے کیس کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔ عالمی عدالت نے ہا ہے کہ کل بھوشن بھارتی دہشتگرد ہے، یعنی بھارت خود بھی دہشتگرد ملک ہے۔ عالمی عدالت کا فیصلہ اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ دہشتگردی پاکستان بھارت میں نہیں بلکہ بھارت پاکستان میں کرواتا ہے۔۔

کلبھوشن یادیو کون ہے ؟

کلبھوشن یادیو کو پاکستانی خفیہ ایجنسی ISI نے 3 مارچ 2016 کو ایران کے راستے پاکستانی علاقے بلوچستان میں داخل ہوتے وقت پکڑا۔ اس پر نظر کافی عرصے سے تھی لیکن اس کے پورے نیٹورک کا سراغ لگانے کے لیے ہماری خفیہ ایجنسی نے جان بوجھ کر اسے کئی بار ایران اور وہاں سے بھارت جانے دیا تاکہ اس کے رابطہ کاروں اور ساتھی ایجنٹوں کو ٹریس کیا جاتا رہے۔ یوں ہندوستانی RAW کا پورا نیٹوریک پکڑا گیا۔ الحمداللہ وہ سب نہ صرف ٹریس ہوئے بلکہ آپ نے دیکھا کہ بلوچستان اور کراچی میں دہشتگردی کی کاروائیاں بھی ختم ہوگئیں۔ کیونکہ یادیو کے کتوں کو یاں تو جہنم واصل کیا گیا یا پھر وہ بھی کلبھوشن کی طرح پکڑے گئے۔

پکڑے جانے کے بعد کلبھوشن یادیو پر ملٹری کورٹ میں کیس چلا۔ یہ کیس 1 سال تک چلتا رہا، کلبھوشن کو باقائدہ وکیل مہیا کیا گیا، اسے دفاع کا پورا پورا حق دیا گیا پھر 10 اپریل 2016 کو ملٹری کورٹ نے فیصلہ سنایا جس کے تحت کلبھوشن کو جاسوسی اور بلوچستان و کراچی میں دہشتگردی کی کاروائیاں کروانے کے جرم میں سزا موت سنائی گئی۔ کلبھوشن نے تمام جرائم کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ صاف صاف بتا بھی دیا کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی RAW کا جاسوس ہے، پاکستان میں دہشتگردی کروانے آتا تھا اور بلوچ علیحدگی پسندوں کو فنڈنگ دیکر ریاست اور پاک فوج پر حملے کرواتا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی RAW کے کونسے عہدیدار اسے پاکستان میں خودکش دھماکے اور بم حملے کروانے کے نئے ٹارگٹ دیتے تھے۔ کیسے بلوچستان کے نوجوانوں کو فوج کے خلاف اکساکر فوجیوں پر حملے کرنے کے لیے را سے ہدایات ملتی تھیں۔ تمام اعتراف کلبھوشن نے وڈیو بیان میں ریکارڈ کروائے ہیں۔

کلبھوشن کو جیسے ہی ملٹری عدالت نے سزا موت سنائی تو بھارت میں کھلبلی مچ گئی، اس وقت پاکستان کے وزیراعظم “میاں نواز شریف” تھے، نواز شریف کی شگر ملوں میں خود بھارتی جاسوس پکڑۓ جاچکے تھے۔ نواز شریف کے بھارتیوں سے بڑے گہرے تعلقات بھی ہیں، بھارت میں ایک بڑی سٹیل مل میں نواز شریف اور اسکے بچوں کے شیئرز ہیں اور اسٹیل کے اس بزنس میں نواز شریف کا پارٹر بھارتی خفیہ ایجسنی RAW کا رائٹ ہینڈ “سجن جندال” ہے جسے بھارت میں سٹیل ٹائیکون کہا جاتا ہے۔ لہذہ بھارتی RAW نے فورا جندال کو نواز شریف کے پاس بھیجا، نواز شریف نے جندال سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کرنے کے بجائے اپنے ذاتی گھر “مری ہاؤس” میں ملاقات کی تاکہ اس ملاقات کی تفصیلات پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کو معلوم نہ ہوسکیں۔ خیر ایجنسی کو پھر بھی معلوم ہوگیا کہ اس ملاقات میں کلبھوشن یادیو کو بچانے کے ممکنہ آپشنز پر غور کیا گیا تاکہ کسی طرح بھارتی جاسوس کی زندگی بچائی جاسکے کیونکہ پاک فوج اسے کسی بھی وقت پھانسی لٹکانے والی تھی۔ پوری قوم اس وقت کلبھوشن کو لٹکانے کے مطالبے کر رہی تھی جبکہ وزیراعظم نواز شریف بھارتیوں کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کرکے اسے رہائی دلوانے کے طریقوں پر سوچ و بچار کر رہا تھا۔

آخر جندال نے نواز شریف کو بھارتی فیصلہ سنایا کہ ہم کیس عالمی عدالت لیکر جائیں گے آپ نے بھی حامی بھرنی ہے تاکہ کلبھوشن کو بچایا جاسکے۔ نواز شریف نے بھارتی درخواست پر لبیک کہا اور یوں پاک فوج سے چھپ کر کلبھوشن یادیو کا کیس عالمی عدالت میں چلانے کی بزریہ اٹارنی جنرل آف پاکستان منظوری دے دی گئی۔

یاد رہے عالمی عدالت کوئی بھی عالمی کیس صرف اسی صورت چلاسکتی ہے جب دونوں فریق ممالک کیس چلانے پر رضامندی ظاہر کریں اور دو ممالک کے درمیان تنازعہ قرار دیں وگرنہ کیس چل ہی نہیں سکتا۔ کلبھوشن دو ممالک کے درمیان ہرگز تنازعہ نہیں تھا بلکہ وہ تو خود اپنے جرائم کا اعتراف بھی کرچکا تھا اور رنگے ہاتھوں پکڑا بھی جاچکا تھا لیکن پھر بھی میاں نواز شریف نے بم دھماکے اور دہشتگردی کی کاروائیاں کرکے سینکڑوں لوگوں اور فوجیوں کی جان لینے والے بھارتی دہشتگرد کلبھوشن کو بچانے کے لیے کیس “عالمی عدالت” میں چلانے کی منظوری دی تھی۔ شاید انہیں پاکستان سے زیادہ بھارت عزیز تھا۔

الحمداللہ آج مورخہ 17 اپریل 2019 کو عالمی عدالت کا فیصلہ آپ کے سامنے ہے۔ بھارت نہ صرف عالمی عدالت میں بھی زلیل و رسوا ہوا بلکہ بھارت کی مدد کرنے والا نواز شریف بھی اللہ کی پکڑ میں آکر اس وقت جیل میں سڑ رہا ہے۔ بیشک پاکستان پر سایہ خداء ذوالجلال ہے، جو بھی پاکستان سے غداری کرتا ہے عبرت کا نشان بنادیا جاتا ہے۔

نوٹ : میرا یوٹیوب چینل سبسکرائب کیجیے۔ www.Youtube.com/YasirRasool

تحریر: یاسررسول

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں