263

کل بھوشن پر جیت مبارک ہو!

پاکستان کے تمام تر اعتراضات مسترد کرنے کے باؤجود میرے حساب سے یہ فیصلہ پاکستان کے حق میں آیا ہے۔

کونسلر ایکسس دینے اور فیصلے پر نظر ثانی سے ہماری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔
ویسے بھی کل بھوشن یادیو جو کہ اجیت ڈاؤول کا قریبی عزیز بھی ہے ہمارا ٹرمپ کارڈ ہے۔ ہمارا دماغ نہیں خراب کہ اس کو جلدی سے پھانسی چڑھا کر ضائع کریں۔

فیصلے میں بھارت کو پوری طرح خوش کرنے کی کوشش کی گئی اور نہایت جانب داری سے کام لیا گیا۔

مثلاً

کل بھوشن کے اصل پاسپورٹ کے پاکستانی مطالبے پر عالمی عدالت کے عالمی جج صاحب فرماتے ہیں کہ ” اس سے ہم نے یہ مراد لی کہ پاکستان تصدیق کرنا چاہتا تھا کہ کل بھوشن انڈین شہری ہے یا نہیں، لیکن چونکہ دونوں ممالک مانتے ہیں کہ کل بھوشن انڈین شہری ہے تو یہ اعتراض بے معنی ہوا”

جناب عالمی جج صاحب اس سے پاکستان کا مقصد یہ تھا کہ انڈیا جو شناخت کل بھوشن کی بتا رہا ہے وہ جعلی ہے اور اگر اصل ہے تو اس کو مطلوبہ شناخت والا پاسپورٹ فراہم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے تھا۔

عالمی عدالت میں چونکہ فیڈر پینے والے بچے بیٹھے ہیں اس لیے ان کو یہ موٹی سی بات سمجھ نہ آئی!

پورے فیصلے میں صرف یہ کوشش کی گئی کہ اپنے سر سے بوجھ اتار کر انڈیا کو خوش کرتے ہوئے دوبارہ پاکستان کو ہی فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے۔

عالمی عدالت خود کسی صورت کل بھوشن کو دہشت گرد قرار نہ دیتی کیونکہ اس طرح انڈین ریاست بطور سٹیٹ دہشت گرد قرار پاتی جیسا کہ میں نے فیصلے سے پہلے پوسٹ میں لکھا۔

لیکن یہ فیصلہ ہماری جیت ہے۔
مبارک ہو۔ 🙂

تحریر شاہدخان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں