سوشل میڈیا کے بھکاری 127

سوشل میڈیاکے بھکاری تحریر: محمد پرویز بونیری

گذشتہ دنوںفیس بک پرایک وجیح وشبیہہ نوجوان کاپیغام دوستی مو صول ہوااورکچھ لمحوںبعدمیسنجرمیں گویاہوئے کہ میں انکے پروفائل پر ایک نظرڈالوں۔سومیں نے تفصیل کے ساتھ انکاپروفائل چیک کیا۔موصوف پروفائل کے اعتبارسے بڑے پائے کے شاعراورادیب معلوم ہوتے تھے۔ ایک دوجگہ انکی غزلیں ڈیزائن شدہ لگی ہوئیں تھیں،جن پر اردوکے ایک معروف ویب سائٹ کالوگوبھی لگاہواتھا، انکے دوستوں کے حلقے میں ایسے ایسے نام تھے، جوواقعی ادبی دنیاکی معروف شخصیات معلوم ہوتی تھیں، جیسے جون ایلیا، میرثانی، غالب کے طرفدار، شمائلہ رامپوری،راشدکاشمیری وغیرہ وغیرہ۔ سوہمارے نزدیک انکی ادبی حیثیت اوربھی مضبوط ہوگئی۔موصوف

نے اپنے پیغام میں کہاتھاکہ پروفائل دیکھنے کے بعدوہ مجھ سے کچھ خاص بات کرناچاہتے ہیں ،اسلئے ہمارے ذہن میں مختلف قسم کے خیالات آگئے۔ شاید موصوف ہم سے اردوادب سے متعلق استفسارفرمائیں گے اورہم اپنے محدودعلم کے مطابق انکے ذوق کی آبیاری کریں گے۔ممکن ہے موصوف اپنی غزلو ں کی اصلاح کے لئے ہماری خدمات حاصل کرناچاہتاہے جوکہ ہرگزہمارے بس کاکام نہیں ہے۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ میرے دوست مجھ سے اپنی تخلیقات کی شین قاف درست کرواناچاہتا ہے، جوکہ کسی حد تک ہماری طبیعت کاکام ہے۔بہرحال میں نے پروفائل چیک کرنے کے بعدموصوف سے کہا، ـ’’جناب فرمائیں! کیاحکم ہے ہمارے لائق‘‘۔توانہوںنے کہاکہ وہ ان دنوں شدیدبیمارہیں اوربسترپرپڑے ہوئے ہیں۔شعروشاعری کاکاروبار بندہے اوردوسراکوئی کام کربھی نہیں سکتا، اس لئے انہیں چندہزارروپے قرض حسنہ چاہئے۔

میں ایک عجیب قسم کی کیفیت سے دوچارہواکیونکہ ایسے موقعوں پر انکارکرنااپنے مزاج کے خلاف ہے ۔پھرمجھے میراورغالب جیسے نابغہ روزگارکی یادآئی، جو معاشی تنگدستی کے باعث دردرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبورہوئے تھے،لیکن فوراً مجھے چندہفتوں پہلے کاایک واقعہ یادآیا، جب ایک خاتون نے اسی طرح کاپیغام بھیجاتھا۔ محترمہ خودکواسلام آبادکی رہائشی بتارہی تھی ۔بڑے سلیقے سے میرے کام اورآمدنی کے بارے میں پوچھا۔پھرمیری ذاتی زندگی کے بارے میں سوالات شروع کئے کہ میں شادی شدہ ہوں یاغیرشادی شدہ ، جس کامیں نے جواب دیاکہ الحمدللہ شادی شدہ بھی ہوں اورصاحب اولادبھی۔پھرمحترمہ کہنے لگی کہ اسکی عمر25سال ہے اوروہ بیوہ ہوکراپنے بھائی کے گھررہائش پذیرہے۔بھائی کسی ادارے میں سرکاری ملازم ہے۔محترمہ نے فوراًدوتین عددتصاویرمسنجرکے راستے ہمیں ارسال کردیں،جن

میں ایک خوبروخاتون اورچھوٹی سی بچی تھی۔کہنے لگی کہ یہ اسکی بیٹی ہے اوراسکے بھائی کی تنخواہ میں ابھی کچھ دن باقی ہے جبکہ بیٹی کے لئے دودھ لانے والا رقم کاتقاضاکرتاہے اورمزیددودھ لانابندکردیاہے۔اسلئے میں اسے فوراً دوہزارروپے بذریعہ ایزی پیسہ ارسال کردوں۔اس وقت بھی میں ایسی ہی کیفیت سے دوچارہواتھااورپھراگلے لمحے انہیں صاف صاف الفاظ میں انکارکیاتھا۔ چنانچہ مجھے اپنے شاعربھائی بھی اسی طرح مکروفریب کے ذریعے نرم دل لوگوں سے پیسہ بٹورنے والامعلوم ہوااورمیں نے دوٹوک الفاظ میں انہیں کہہ دیاکہ ’’جناب اس بات کی کیاضمانت ہے کہ جس نام کی یہ آئی ڈی ہے، یہ تم ہی ہو اورواقعی تم اتنے

بڑے شاعرہوکر، غالب کے نقش قدم پرچل پڑے ہوکہ کسی دن تمہاری فاقہ مستی رنگ لائے گی اورپھرتم ہماری رقم واپس کردوگے‘‘۔ شاعر، ادیب اوربیوہ خواتین کے علاوہ ایک اورطبقہ نوجوان کم عمرلڑکوں کاہے۔ بہت سے بھکاری جعلی فیس اکاونٹ بناکر،اس پر کسی کم عمر خوبرولڑکے کی تصویرلگاتے ہیں، چنانچہ اس قبیل کے ایک نوجوان نے ہمیں بھی پیغام بھیجا۔خودکوکالج کے سال اول کاطالب علم ظاہرکیا ۔ اس نے اپنی آئی ڈی پر ایسی تصاویرلگائی تھیں، جن سے مردانہ پن سے زیادہ زنانہ پن ظاہرہورہاتھا۔موصوف نے شاید ہمارے بارے میں پڑھاتھاکہ ہماراتعلق پشاورسے ہے لیکن انہیں شاید یہ علم نہ تھاکہ ہم کسی عطارکے لونڈے سے

دوالینے والے نہیں ہیں۔نوجوان ہمیںسر کے لقب سے پکارتاتھااورکافی احترام کے ساتھ علمی گفتگوکرتاتھالیکن پھراچانک کسی دن اسکی بھی نیت خراب ہوگئی۔ مسنجرمیں دعاسلام کے بعد کہنے لگے کہ وہ لمبے سفرپرنکلے ہیں اورراستے میں ہی اسکی موٹرکارخراب ہوگئی ہے،جسکے لئے اسے فوراً پانچ ہزارروپے چاہئے اورجونہی وہ گھرواپس ہوں گے، وہ مجھے پیسے واپس کردیں گے ۔ میری طرف سے کوئی مثبت جوا ب نہ ملاتوخاموش ہوگئے اوراسکے بعدکبھی ہم کلام نہیں ہوئے۔پاکستان میں بھیک مانگنے کے مختلف طریقے ہیں اوریہ لوگ بہت پیشہ ورانہ مہارت سے لوگو ں کی جیبوں سے پیسہ نکالتے ہیں، لیکن سوشل میڈیاکے بھکاری

بہت تیزہوگئے ہیں اوربڑی چالاکی کے ساتھ سادہ لوح لوگوں کو لوٹ لیتے ہیں۔سوشل میڈیااگرایک طرف ہمارے لئے فائد ہ کاذریعہ ہے اوراسکے ذریعے ہم دنیاکے حالات سے آگاہی کے ساتھ ساتھ اچھے اچھے دوستوں سے ملتے ہیں اورہم قسم کے علوم سے استفادہ کرتے ہیں تودوسری طرف اسکے مضراثرات سے ہماری نئی نسل بربادی کی جانب بھی گامزن ہے۔اس وجہ سے نئی نسل میں اس بارے میں شعور پیداکرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے تاکہ وہ سوشل میڈیاکے ذریعے ایسے بھکاریوں کے بہکاوے میں نہ آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں