زرداری حامد میر 220

حامد میر کا زرداری کے ساتھ انٹرویو کیوں روک دیا گیا

حامد میر کی چیخیں !

اس وقت میڈیا پر بحث چھڑی ہوئی ہے کہ حامد میر کا زرداری کے ساتھ انٹرویو کیوں روک دیا گیا؟ میڈیائی لفافے اسے صحافت پر کاری ضرب قرار دے کر عوام کو تصویر کا صرف ایک رخ دکھا رہے ہیں۔ عین ممکن ہے منظورپشتین اور انڈیا امریکہ سے بھی حامد میر سے یکجہتی کا بیان آجائے۔

مسئلہ کیا ہے ؟

آصف زرداری اس وقت نیب کی گرفتاری میں ہے، ضمانت پر رہا بھی نہیں ہے، یوں سمجھیں ایک مستقل تفتیشی قیدی ہے۔ اسے اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے پروڈوکشن آرڈر کے نام پر اسمبلی لایا جاتا ہے۔ وہ اسمبلی میں جس صحافی سے ملنا چاہے مل سکتا ہے،سیاستدانوں سے گفتگو کرسکتا ہے لیکن جب اسمبلی اجلاس ختم ہوجائے تو وہ نیب کی تحویل میں رہتا ہے۔ کسی سے نہیں مل سکتا، کسی کو انٹرویو نہیں دے سکتا۔ یعنی ایک پکا مجرم ہے، اپنی اولاد سے بھی نیب کی اجازت کے بغیر نہیں مل سکتا۔

اس دوران حامد میر کس حیثیت سے زرداری کا انٹرویو کر رہا تھا ؟

نیب کی جانب سے گرفتار مجرمان کے انٹریو کرنے کا کونسا آئین اسے اختیار دیتا ہے؟

اگر مجرمان کو انٹریو کی اجازت دی جائے تو کیا سب مگرمچھ جیل میں بیٹھ کر باہر کے حالات پر اثرانداز نہیں ہوسکتے؟

کیا حامد میر کو پتا ہے عدالتیں جوڈہشل ریمانڈ دیتی ہی کیوں دیتی ہے، اس لیے دیتی ہیں کہ مجرم کو گرفتار کرکے اس سے تمام معاملات کی مکمل تفتیش کی جاسکے اور دوران تفتیش اسے کسی سے ملنے نہ دیا جائے۔ گرفتاری کے دوران مجرم کو اس لیے کسی سے ملنے نہیں دیا جاتا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے تفتیش پر اثرانداز نہ ہوسکے یا بھاگ نہ جائے۔

ایک اور مثال :

زرداری کی بہن فریال ٹالپر بھی گرفتار ہیں، وہ ہاؤس اریسٹ ہیں، اپنے گھر میں ہی قید، وہ گھر میں شوہر اور بچوں کے علاوہ اپنے وکیل سے بھی نیب کی اجازت کے بغیر نہیں مل سکتیں، وہ کسی کو انٹرویو بھی نہیں دے سکتیں۔ تو جناب زرداری کیسے انٹرویو دے سکتا ہے؟

حامد میر کو کس پاگل کتے نے کاٹا تھا کہ یہ تمام حقائق بھول کر کرپشن کے بادشاہ زرداری کا انٹرویو کرنے نکل پڑا۔ کیا اس نے نیب سے اجازت لی تھی ؟

آج اگر زرداری کا انٹرویو چلا دیا جاتا تو کیا کل حامد میر عزیر بلوچ، بابا لاڈلہ، الطاف حسین اور نواز شریف کا بھی انٹریو کرنے جاتا؟

قصہ مختصر حامد میر غدار کے پاؤں پر کلہاڑی ماری گئی ہے، اب یہ گلا پھاڑ کر چلا رہا ہے، درد سے کراہ رہا ہے مگر عوام اطمنان رکھے اس دفعہ اس غدار کی مدد کے لیے نہ تو نواز شریف موجود ہے نہ زرداری اور نہ ہی کسی اور میں اتنا دم ہے کہ اسکی مدد کو آئیں سوائے صحافتی لفافوں اور طوائفوں کے۔

تحریر : یاسررسول

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں