188

ہم پاکستان کا موقف کب سنیں گے. تحریر: شبیر بونیری

تحریر شبیر بونیری

ہم دونوں جس آفس میں بیٹھے ہوئے تھے وہاں یہ گمان مشکل تھا کہ تڑپتی دھوپ کی روشنیاں اندر آکر گرم شغلے چھوڑ کر گھٹن پیدا کردے گی اور یوں ہمیں رمضان المبارک کا بیسواں روزہ بھوک و پیاس کی مشکلات میں مبتلا کردے گا اور وجہ جس کی یہ تھی کہ پورا کمرہ اے سی کے یخ بستہ ہواؤں کی لپیٹ میں تھا ۔ وہ جس کے ساتھ میری بیٹھک ہوئی خیبر پختون خواہ کے صف اوّل کے سیاسی رہنما تھے اور جس لمحے ہم دونوں پشاور میں اس کے آفس میں ملکی حالات پر بحث کر رہے تھے عین اسی وقت پورے ملکی میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ میران شاہ کے علاقے بویا میں پاک آرمی اور پی ٹی ایم کے درمیان لڑائی ہوئی ہے جس میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ مجھے جیسے ہی وٹس ایپ گروپس میں خبر ملی شدید دھچکا لگا ۔ اعصاب پر قابو پانے کے بعد میں نے اس سے پوچھا ۔

آپ کا کیا خیال ہے ۔ یہ جو تناؤ کا ماحول بنا ہے اور یہ جو مسائل دن بہ دن پیدا ہورہے ہیں ان کا حل کیا ہوگا اور پاکستان کی سالمیت کی خاطر آپ کیارائے رکھتے ہیں ۔

وہ لگاتار فون کالز سے جیسے ہی فارغ ہوا ۔ میری طرف دیکھ کر مُسکرایا اور گویا ہوا ۔




میں قبل ازوقت کچھ نہیں کہہ سکتا اور اپنی پارٹی کا موقف جانے بغیر میرا کچھ کہنا بالکل ہی بے کار ہوگا ۔ یہ سن کر میں نے دوبارہ پوچھا لیکن آپ اپنی بھی کوئی رائے تو رکھتے ہونگے ۔

کرسی میں کروٹ بدل کر وہ زیر لب مسکرایا اور دوبارہ کہنے لگا ۔ میری اپنی کوئی رائے نہیں ہوسکتی ۔ میں وہی کروں گا جو میری پارٹی کرے گی اور وہی کہوں گا جو مجھے کہنے کی اجازت ہوگی ۔

زمین کچھ لمحات پہلے ویسے ہی پاؤں تلے سے کھسک گئی تھی موصوف کا جواب سن کر میں خود کو کسی تیز طوفان کی ذد میں محسوس کر رہا تھا ۔ اطمینان نہ پاکر دوبارہ پوچھا ۔

آپ کیا سمجھتے ہیں اجتماعی فائدوں اور ملکی مفاد کی خاطر ہمیں کیا کرنا چاہیئے ۔

وہ کرسی سے اٹھے اور جانے کا قصد کرکے کہنے لگے ۔ یہاں اجتماعی فائدوں کا کوئی نہیں سوچتا ۔ اجتماعیت کا رجحان دیکھ کر چلنا ہوتا ہے جس میں سیاست کی بقاء ہوتی ہے ۔ ملک کا کچھ نہیں ہوتا یہ مسائل پوری دنیا میں ہوتے رہتے ہیں ہمارا مسئلہ بس یہ ہے کہ ہم بات کا بتنگڑ بنادیتے ہیں جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں ۔ میں نے پوچھا لیکن سر آپ کا موقف؟

دروازہ کھول کر جب وہ نکل رہے تھے تو اس کے یہ آخری الفاظ میری سماعتوں میں قیامت برپا کررہے تھے ۔




”میں کوئی موقف نہیں رکھتا ۔موقف وہ ہوتا ہے جو پارٹی کا ہو اور میری پارٹی کا موقف جب آئیگا تو آپ میرا بھی موقف جان سکیں گے” اور شام تاریکیاں جب کائنات کو اپنی گود میں لے رہی تھیں عین اس وقت میں اس کا اور اس کی پارٹی کا موقف جان چکا تھا جس میں اور کچھ نہیں تھا بس سیاسی مفادات کے لئے بچھایا ہوا شطرنج کا منحوس کھیل تھا جس میں آج تک صرف سیاسی پارٹیوں کا موقف ہی جیت گیا ہے ۔

اناء کی جنگ ہم جیت تو گئے لیکن

پھر اس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے

کے مصداق ہم اتنے الجھنوں میں پھنس گئے ہیں کہ خود اپنی ذہنیت کی بقاء بھی مشکل نظر آرہی ہے ۔ کمی ہے تو بس احساس کی جو ہم شائد کھبی نہ کرپائے ۔

تلخ تجربات سے سیکھنا ہمارا شیوہ کھبی نہیں رہا ۔ آپ اندازہ لگا لیجیئے مذکورہ واقعہ جیسے ہی رونما ہوا ہر کوئی اپنی رائے دے رہا تھا اور اپنی رائے کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ہر حد سے گزر رہا تھا ۔ احتجاجی نعروں میں نفرت کی آمیزش تھی اور پاکستان دشمن نعروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جارہا تھا ۔

سیاسی قائدین میں کوئی ایسا نہیں تھا جو تھوڑی بہت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا اور یہ سوچتا کہ پاکستان کا موقف کیا ہے اور کس طرح مل کر ہمیں ملک کی خاطر ایک ہوکر متفقہ لائحہ عمل اپنانا ہے ۔

ہمارے سامنے تو ابھی ابھی بہت سارے واقعات رونما ہوئے جن کی وجہ سے ایسے ہی سیاسی بقاء کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ملک کو داؤ پر لگا دیا گیا۔ ذاتی اناء کو تسکین دینے کی خاطر ماضی قریب میں ہمارے ہمسائے میں کیا صرف ذاتی موقف کو جتوایا نہیں گیا ؟ نور محمّد ترہ کئی، حفیظ اللہ امین اور ببرک کارمل نے بھی تو صرف اپنے موقف کی خاطر پورے افغانستان کو آگ کے سپرد کیا تھا ۔ اب بھی وہاں اس آگ کے شغلے بھڑک رہے ہیں ۔

ہم نے اپنی پوری تاریخ میں کھبی بھی پاکستان کا موقف نہیں سنا اور نہ کھبی کوشش کی کہ پاکستان کی سالمیت کو داؤ پر لگنے سے کیسے بچایا جائے ۔

کہانیاں ہزار ہیں اور ہر کہانی کا کردار ہیرو بننے کی کوشش میں مصروف صرف اپنی بقاء کی فکر میں لگا ہوا ہے ۔ مردہ ضمیری اور کیا ہوسکتی ہے جب ایک پوری عمر بیت جائے لیکن عقل ٹھکانے نہ آئے ۔ کیا زندہ ضمیر ایسے ہی چیزوں کو داؤ پر لگاتے ہیں ؟

گلہ سیاستدانوں سے اس لئے بنتا ہے کہ ان لوگوں کو کھبی بھی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے سے فرصت نہیں ملتی ۔ یہ اگر اس ملک کی خاطر ایک ہوگئے اور پاکستان کے موقف کو اپنا موقف سمجھنا شروع کردیا تو کھبی بھی وطن مخالف ایجنڈے کامیاب نہیں ہوسکتے ۔

پی ٹی ایم اور فوج کے درمیان جو تناؤ ہے اس کو سیاستدان ہی ختم کرسکتے ہیں کیونکہ دونوں طرف غصّہ ہے جس کی وجہ سے شائد کوئی خود پہل نہ کریں ۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ اقتدار کے محل ہوتے ہیں جن کے اندر بیٹھ کر افہام و تفہیم سے مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں پہلے پارٹی کا موقف معلوم کیا جاتا ہے اور اس کے بعد پارٹی رہنما اور ورکرز مل کر اس موقف کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں جس میں لمحے بھر کے لئے یہ سوچا تک نہیں جاتا کہ پاکستان کاکس موقف میں فائدہ ہے ۔

ہم نے کھبی بھی انتہائی بحران میں پاکستان کا موقف نہیں سنا ۔ ہم پاکستان کا موقف اگر سنیں گے تو یقین جانئیے اس دن ہمارا موقف خود بہ خود دنیا مان جائیگی ۔

نہیں سن پارہے ہم پاکستان کا موقف اور یہی وجہ ہے کہ روز نیا بحران سامنے ہوتا ہے جس سے نکلنے کی تگ و دو میں ہم اور بہت کچھ کھو دیتے ہیں ۔

” ہم پاکستان کا موقف کب سنیں گے “



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں