بھارتی میزائل حملے کی تیاریوں کا سراغ پاکستان کو کیسے چلا ؟ بھارتی ایجنسیاں چکرا گئیں

پاکستان نے 27 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تنصیبات پر حملے اور دو بھارتی طیارے مار گرانے کے بعد بھارت کی جانب سے جواب میں میزائل حملے کے لیے کی گئی تیاریوں کا پتہ ڈرونز طیاروں کے ذریعے لگایا تھا، اگرچہ اس میں کچھ حد تک دوسرے انٹیلی جنس ذرائع نے بھی مدد کی۔

پاکستان ایئرفورس کے حملے کے بعد بھارت پاکستان میں 8 مقامات پر میزائل داغنے کی تیاری کر رہا تھا۔ تاہم پاکستان کو بروقت اس کی خبر ہوگئی اور پاکستان کی جانب سے عالمی برداری بالخصوص سلامتی کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کو بھارتی منصوبوں سے آگاہ کردیا گیا۔ان ممالک نے فوری طور پر بھارت سے رابطہ کرکے حملہ روکنے کے لیے کہا۔




اپنی تمام تر تیاریاں پاکستان کو پتہ چلنے پر بھارتی حیران رہ گئے اور اگلے کئی روز تک یہ قیاس آرائیاں چلتی رہیں کہ پاکستان پر بھارت نے جس حملے کی تیاری کر رکھی تھی اس کا پاکستان کو کیسے پتہ چلا تھا۔ کون ہے آئی ایس آئی کا ایجنٹ 🙂

ہماری انٹیلیجنس نے بھارتی حدود کے اندر کیی مقامات پر ڈرونز اور جاسوسی نیٹورک پھیلا رکھا ہے جو وہاں چڑیا کے پھڑکنے کی بھی خبر دیتے رہتے ہیں، بھارتی فوج اور ایجنڈی کے اندر ہی کئی ہمارے ایجنٹ موجود ہیں مگر مودی ان پر کبھی شک نہیں کرسکتا۔ ہمارے جو ڈرونز بھارتی حدود میں جاسوسی کرتے رہے ان میں سے کچھ ڈرونز بھارت نے مار گرائے تھے تاہم اس وقت تک یہ ڈرونز اپنے کیمروں سے معلومات پاکستان میں بیس اسٹیشنز کو فراہم کر چکے تھے۔ کئی ڈرونز بحفاظت پاکستان بھی پہنچے۔



یاد رہے کہ 27 فرورری کو بھارت نے گجرات میں ایک پاکستانی ڈورنز مار گرانے کا اعلان کیا تھا جبکہ گذشتہ روز یعنی پیر کو فورٹ عباس سے کچھ فاصلے پر بھارتی سرحد کے قریب ایک ڈرون کا ملبہ ملا جس کے بعد بھارت نے اسے پیر کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تاہم ذرائع کا کہنا ہے یہ انہی ڈرونز میں سے ایک ہے جو پاکستان نے 27 فروری کوبھارت میں داخل کیے تھے۔

ڈرونز کے ذریعے بھارتی تیاریوں پر معلومات پر ہی پاکستان نے بھارتی میزائل حملے کے جواب میں اس سے تین گنا بڑے حملے کی تیاری شروع کردی تھی۔

پاکستان نے پہلی بار لانگ رینج “شاہین تھری” میزائل کھلی جگہوں پر تعینات کردیے تھے تاکہ بڑے ممالک اپنی جاسوس سٹیلائیٹس سے دیکھ لیں کہ پاکستان جوابی میزائل حملے کے لیے بلکل تیار ہے۔ ساتھ ہی پاکستانی حکام نے مختلف ممالک کو فون کرکے بتایا کہ اگر بھارت نے حملہ کیا تو پھر ہم بھی ہر ایک میزائل کےجواب میں تین میزائل داغے جائیں گے۔




میزائل حملے وے پہلے بھارت نے ہمارا دھیاں ہٹانے اور چکما دینے کے لیے اپنی بری فوج کی نقل و حرکت بھی شروع کردی تھی جب کہ اپنی بحریہ کو بھی کراچی کے قریب بھیج دیا تھا تاہم اسکا اصل منصوبہ میزائل حملے کا تھا کیونکہ اس وقت تک بھارتی افواج (بری، بحریہ اور فضائیہ) نے پاکستان میں گھسنے سے صاف انکار کردیا تھا لہٰذا میزائل حملہ ہی مودی کا واحد قابل عمل منصوبہ رہ گیا تھا لیکن پاکستانی ڈرونز نے بروقت اس کا بھی سراغ لگاکر بنیے کا منہ ایک مرتبہ پھر کالا کردیا۔

یاد رہے کہ پاکستان کئی برسوں سے ڈرون ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔ ان میں سے ایک طاقتور ڈرون نیسکام کا تیار کردہ ’براق‘ ہے۔ براق نہ صرف رات کے وقت پروازوں اور معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ میزائل حملے بھی کر سکتا ہے۔ پاکستان نے چین کے چنگ ڈو ایئرکرافٹ انڈسٹریل کمپلیکس میں تیار ہونے والے ونگ لانگ دوم ڈرونز بھی حاصل کیے ہیں جو امریکہ کے ریپیر ڈرونز سے ملتے جلتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں