655

تیل نکلنے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟ کیا واقعی پاکستان سپر پاور۔۔۔؟

تیل نکلنے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟
تیل کے ان ذخائر کی دریافت کے بعد پاکستان ایک دم سے دنیا کے دس بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ پاکستان کویت سے بھی اوپر جگہ بناتے ہوئے فہرست میں پانچویں نمبر پہ پہنچ گیا ہے۔ واضح رہے کہ پوری دنیا میں تیل کے ذخائر کا 8.4 فیصد ذخیرہ کویت کے پاس ہے۔ اور کویت کے مطابق 101.50 ارب بیرلز تیل کویت کے پاس ہے۔ جبکہ پاکستان کے پاس تیل کا یہ دریافت شدہ ذخیرہ الحمد اللہ کویت سے بھی بڑا ہے۔

اس کے الحمد اللہ پاکستان کو فائدے ہی فائدے ہیں۔ ایک تو بیرونی سرمایہ کاروں کی دوڑیں لگ جائیں گی پاکستان کی جانب اور اللہ کے فضل و کرم سے معیشت مستحکم ہو گی۔ دوسرا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ فی الوقت پاکستان اپنے تیل کی کل ضروریات کا صرف پندرہ فیصد یعنی 2 کروڑ 20 لاکھ ٹن ملکی سطح پہ پیدا کر رہا تھا۔ جب کہ 85 فیصد تیل ہم باہر سے خریدتے تھے مگر اب الحمد اللہ پاکستان کو ایک لیٹر بھی باہر سے نہیں خریدنا پڑے گا۔ پچھلے مالی سال میں پاکستان کو لگ بھگ 1500 ارب روپے تیل خریدنے کےلیے ادا کرنے پڑے تھے۔ اب یہ رقم تیل خریدنے کےلیے ہمیں ادا نہیں کرنی پڑے گی۔ بلکہ الٹا ہم ان شاء اللہ دنیا کو بھی تیل فروخت کریں گے۔




1500 ارب روپ کی بچت اگر ہمیں ایک سال میں آتی ہے تو ہم دیامیر بھاشا ڈیم بھی تعمیر کر سکیں گے کیوں کہ اس کی تعمیر کےلیے پاکستان کو 1400 ارب روپے چاہیے تھے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت کا کم و بیش ساٹھ فیصد انحصار زراعت پہ ہے۔ تیل سستا ہونے کی وجہ سے زراعت کے میدان میں بھی بہتری آئے گی اور کسان خوشحال ہو گا۔ نیز اگر ایک سال کی بچت کر کے پاکستان ڈیم بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پانی جمع ہونے سے زراعت بہتر ہو گی اور بجلی سستی ہونے کی وجہ سے صنعت میں بہتری آئے گی۔

تیل کے اس ذخیرے کے بے شمار فوائد ہیں جن کے اثرات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آئیں گے۔ سرِ دست قوم کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ یہ ذخیرہ ایک دیانت دار ملکی قیادت کے ہوتے ہوئے دریافت ہوا ہے۔ اس میں اللہ کا خاص فضل اور رحمت شامل ہے کیوں کہ یہ ایگزون کمپنی دس سال پہلے تیل کی تلاش ترک کر کے چلی گئی تھی




خدا نخواستہ پی پی یا ن لیگی دور میں یہ ذخیر نکل آتا تو ساری دولت لندن میں فلیٹ بنانے اور بینک اکاؤنٹ بھرنے میں استعمال ہوتی۔ کیلا کوئی اور کھا جاتا قوم کے ہاتھ صرف چھلکے آتے۔ اس اتنی بڑی دریافت کے باوجود ہمیں اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے کےلیے بہت وقت چاہیے ہو گا۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومتیں ملک پہ 30 ہزار ارب روپے کا قرضہ چھوڑ کے گئی ہیں۔ آپ اندازہ کریں کہ محلے کے ایک گھر نے اگر تیس ہزار روپے دینا ہو تو قرض دینے والے پہ کتنی پریشانی ہوتی ہے؟ اس ذخیرے کی مدد سے اللہ نے اس قوم کا ہاتھ پکڑ لیا ہے۔ یوں سمجھیں کہ دیانت دار قیادت ملک میں آتی گئی اور اللہ کو اس ملک کے عوام پہ رحم آ گیا۔ لہٰذا اللہ کا شکر ادا کریں اور دعا کریں کہ موجودہ حکومت پوری ایمانداری سے قوم کے وسائل کو قوم کی بہتری پہ خرچ کرے اور ہمارا ملک دنیا کا سب سے خوشحال ملک بن جائے۔ آمین۔

تحریر: سنگین علی زادہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں