ایجنڈہ “اکھنڈ بھارت”، پاک فوج کو آپ کی مدد چاہیے

ایجنڈہ “اکھنڈ بھارت”، پاک فوج کو آپ کی مدد چاہیے

انڈیا نے نئی دھکی دی ہے کہ 2025 تک پاکستان کو بھارت کا حصہ بنادیا جائے گا. مودی کی حامی ہندو دہشتگرد تنظیم RSS کے سینیئر رہنماء “اندریش کمار” نے بھونکتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2025 کے بعد پاکستان بھارت کا حصہ بن جائے گا۔

پلان سمجھاتے ہوئے ہندؤں کو اس نے کہا؛




“آپ لکھ لیجیے کہ آپ پانچ سات سال بعد کراچی، لاہور، راولپنڈی اور سیالکوٹ میں کہیں بھی مکان خریدیں گے اور آپ کو تجارت کا موقع حاصل ہوگا۔”

مزید بھونکتے ہوئے کہا؛

مودی نے پہلی بار کشمیر پر سخت موقف اپنایا ہے۔ کیونکہ فوج پولٹیكل ول پاور (سیاسی عزم) پر عمل کرتی ہے لہذا ہم یہ خواب لیکر بیٹھے ہیں کہ لاہور جا کر بیٹھیں گے اور کیلاش مان سروور جانے کے لیے چین سے اجازت نہیں لینی پڑے گی۔ ڈھاکہ میں ہم نے اپنے ہاتھ کی حکومت بنا چکے ہیں ۔ اب امید ہے ‘اکھنڈ بھارت’ کا خواب 2025 تک پورا ہوجائےگا.

قارئین کیا آپ جانتے ہیں “اکھنڈ بھارت” کا مطلب کیا ہے؟

اکھنڈ بھارت کا مطلب ہے کہ “ہندوتوا پروجیکٹ” کے تحت نہ صرف پاکستان کو بلکہ نیپال کو بھارت کا حصہ بنایا جائےگا.

پیارے پاکستانیوں !




اب بات مکمل واضع ہوچکی ہے کہ بھارت آنے والے وقت میں کیا کرنے والا ہے. ایک طرف 2025 تک پاکستان کو بھارت کا حصہ بنانے کے اعلان کیے جارہے ہیں تو دوسری طرف مودی اور اجیت ڈوول نے اس پر عملی کام بھیشروع کردیا ہے.

اس مقصد کیلیے سوشل میڈیا اور گراونڈ لیول پر بھارت تیزی سے کام کرتا نظر آرہا ہے. بھارتی اور اسرائیلی سوشل میڈیا مسلسل “ڈس انفارمیشن وار” میں ناکامی کے بعد یہی کہتا نظر آرہا ہے کہ اب سندھی، بلوچوں اور پشتونوں کو فنڈنگ کرکے انہیں پاکستان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا کام تیز کیا جائے…. اب بلکل ایسا ہی ہوتا نظر آرہا ہے.

مودی کے اس ایجنڈے کے بعد PTM کا “محسن داوڑ” لنڈن میں بھارتی ہندؤں اور RAW ایجنٹوں کے ساتھ فنڈ ریزنگ اور خفیہ میٹنگز کرتا نظر آرہا ہے جبکہ “علی وزیر” افغان خفیہ ایجنسی NDS سے مشاورت کرنے افغانستان یاترا کرچکا ہے. بلوچوں کو دوبارہ مسلح بغاوت پر اکسانے کیلیے را کے خفیہ ایجنٹ دوبارہ سرگرم ہوچکے ہیں جن پر ہماری ایجنسی کی گہری نظر ہے یہ سب جلد ہی کلبھوشن کی طرح پکڑے جائین گے . بلوچستان کی عوام اور سردار اب ہندوستانی RAW کے جال میں کبھی نہیں پھنسیں گے کیونکہ اب پورا بلوچستان پاکستان سے شدید محبت کرتا ہے. باقی رہا سندھو دیش تو اس ایجنڈے پر گامزن تحریکوں کو میں خود دیکھ لوں گا.




آپ کس طرح مدد کرسکتے ہیں؟

آپ سوشل میڈیا پر افواج مخالف یا ISI مخالفت میں کی گئی کسی بھی پوسٹ کو شیئر مت کریں کیونکہ دشمن اب گھناؤنا پروپیگنڈہ کرنے والا ہے، بلوچوں، سندھیوں اور پشتونوں کے ساتھ زیادتی کا واویلا جعلی تصاویر سے ہندو بنیا پہلے بھی کرچکا ہے جس میں انسے منہ کی کھانی پڑی تھی.

حال ہی میں بھارتی میجر پونیا بلوچوں کے نام پر پروپیگنڈہ کرتے ہوئے اتنا اندھا ہوگیا کہ غلطی سے ہمارے SSG کمانڈوز کی ٹرینگ وڈیو یہ کہہ کر شیئر کردی کہ دیکھو پاک فوج بلوچوں پر ظلم کر رہی ہے. اس بارے چند دن پہلے میں نے پوسٹ بھی لگائی تھی جسکے بعد اس میجر پر پوری دنیا ہنسنے لگی ہے.

پیارے پاکستانیوں!

ایسے کئی جعلی وڈیوز اور تصاویر منظور پشتین بھی اپنی تحریک کے آغاز مین خوب شیئر کرچکا اور کروا چکا تھا. جس میں پاکستانیوں نے اسے بھی ہر جگہ ننگا کرسیا.

اب آپ نے کرنا یہ ہے کہ ایسی کسی بھی تصویر یا وڈیو کو شیئر نہیں کرنا ہے بلکہ جہاں بھی افواج مخالف یا ریاست مخالف کوئی پوسٹ نظر آئی تو آپ نے بطور سوشل میڈیا سپاہی بن کر اپنی دھرتی کا قرض چکانا ہے اور اس پوسٹ پر جاکر جوابی حملے کرکے دشمنوں کی کتے والی کرنی ہے.

یاد رکھیں یہ “ففتھ جنریشن وار” ہے. یہ جنگ بارڈر کے بجائے فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر لڑی جاتی ہے.




ہمیں دشمن کے ایسے ہر پروپیگنڈہ کا منہ توڑ جواب دینے کیلیے خود کو ہر وقت تیار رکھنا ہوگا. بھارتی بنیا اپنی زمینی فوج، ایئرفورس اور نیوی کے زریعے حملے کی کوششوں میں پہلے ہی ناکام ہوچکا ہے اسلیے اب اسکے پاس صرف بغاوت کروانے کا ہی آپشن بچا ہے.

اب ہندو بنیا PTM، BLA اور سندھو دیش وغیرہ جیسی دہشتگرد و پراکسی تنظیموں کے زریعے پاکستان میں اندرونی بغاوتیں شروع کرنے پر تیزی سے کام کرتا نظر آرہا ہے. اس مقصد کے لیے بنیا سوشل میڈیا پر “پروپیگنڈہ وار” شروع کرچکا ہے جسے ہم “ففتھ جنریشن وار” یا ” ڈس انفارمیشن وار” بھی کہتے ہیں.

یہ جنگ بارڈر پر بندوقوں کے بجائے سوشل میڈیا پر موبائل اور لیپ ٹاپ کے زریعے لڑی جاتی ہے. اس قسم کی جنگ کا مقابلا پاک فوج اکیلے نہیں کرسکتی. اس کام میں افواج کو آپکی مدد چاہیے تاکہ ڈس انفارمیشن میں بھی ہندو بنیے کو ناکوں چنے چبوائے جاسکیں.

تحریر : یاسررسول

نوٹ : اپنے اکاونٹ کو اپنا جنگی مورچہ بنالیجیے. آپ کی تحاریر دشمن پر میزائل گرانے سے کم نہیں. اپنی وال ہر زیادہ سے زیادہ لکھیے اور جہاں دشمن پروہیگنڈہ کرکے وہاں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر جوابی حملہ شروع کردیں. کیا آپ تیار ہیں ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں