2,605

پاک فضائیہ نے جوابی کاروائی کیوں نہیں کی تفصیل جانئے

پاکستانی ائیرفورس کو یہ کہا جاتا ہے کہ دشمن کے طیاروں کو اس وقت ہٹ کیا جائے جب دشمن اس رینج میں ہو کہ ان کا ملبہ پاکستان میں گِرے نہ کہ بھارت کی حدود میں کیونکہ بھارت کو اس پہ ڈرامے اور رونے دھونے کا موقع مل جائے گا کہ پاکستان نے سرحد کی خلاف ورزی ہے. رات ایسا ہی ہوا ہے پاکستان ائیرفورس نے انڈین طیاروں کو ریڈار پر دیکھ لیا تھا جس کے بعد پاکستان ائیرفورس کا رسپانس ٹائم 5 سے 7 منٹ ہی تھا.

دشمن نے پاکستانی طیاروں کو آتے دیکھ واپسی اختیار کی اور جلدی میں ہی ویرانے میں اپنا پےلوڈ پھینک کر چلے گئے. پےلوڈ طیارے کے ساتھ اضافی آئل ٹینک وغیرہ ہوتے ہیں جسے طیارے کو ہلکا کرنے کے لیے گرادیا جاتا ہے.




یہ اد لیے کیا گیا تاکہ ڈرامہ کیا جاسکے. جس مقدار میں انڈینز نے پےلوڈ ساتھ لیا ہوا تھا اس سے صاف ظاہر تھا کہ انڈین کسی ہدف کو نشانہ بنانے آئے تھے جس میں ناکام رہے.

اس میں کامیابی ناکامی اور ائیرفورس کے سونے جاگنے کی بات ہی نہیں طیارے ہم چاہیں تو سارا انڈین سرحد میں گھسا کے چکر لگاتے رہیں اور طیارے کافی اونچائی پر ہوتے ہیں اس لیے یہ کہنا کہ پاکستانی ائیرفورس نے اینگیج کیوں نہیں کیا ہٹ کیوں نہیں کیا تو اس یہ صاف وجہ یہی تھی کہ طیارے کا ملبہ انڈین کی سرحد میں گرنے کا خدشہ تھا اور انڈیا کا رونا دھونا تیار تھا.




پاکستانی قوم جذباتی ہونے کی بجائے حقائق کا ادارک رکھیں اور اپنی افواج پر یقین رکھیں ان شاءاللہ.یہی موقع ہوتا ہے جب دشمن آپکو مایوس کرتا ہے افواہیں پھیلا کر.
تحریر عبدالجبار دریشک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں