بھارتی وزارت دفاع کے ترجمان نے بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود میں دراندازی کی کاروائی سے لاعلمی کا اعلان کر دیا

بھارتی وزارت دفاع کے ترجمان نے بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود میں دراندازی کی کاروائی سے لاعلمی کا اعلان کر دیا –

بھارتی فضائیہ کی طرف سے پاکستان کے متعدد شہروں پر بھارتی فائٹر طیاروں کے مبینہ حملے اور 1000 کلو گرام بم گرائے جانے کا مضحکہ خیز دعویٰ کیا جا رہا ہے ،
جبکہ حقیقت میں بھارتی فضائیہ نے بین الاقوامی سرحدوں سے متعلقہ مسلمہ قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود میں چار سے پانچ میل کے اندر آئے ہی تھے کہ پاک فضائیہ کے شاہینوں کی بروقت کاروائی پر بوکھلاہٹ اور بدحواسی کے بھونڈے انداز میں جلد بازی میں اپنے ہتھیار اسی مقام پر ، درختوں کے جھنڈ ہر ڈراپ کئے اور پسپا ہو گئے –




لیکن سب سے زیادہ اہم ترین بات تو یہ ہے کہ بھارتی وزارت دفاع کی طرف سے اس مجرمانہ کارروائی سے قطعی لاعلمی کا اظہار کر کے یہ ثابت کر دیا کہ یا تو بھارتی حکومت اور ریاست (کیونکہ وزارت دفاع دراصل ریاست کی اساس ہی ہوتی ہے ) اپنی فضائیہ کی کاروائیوں کو ریاستی طور پر تسلیم کرنے سے منکر ہو چکی ہے ،

دوسرے لفظوں میں بھارت کو کہ دنیا میں بڑی جمہوریہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ، لیکن گزشتہ شب تین بجے بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے سے یہ بات ساری دنیا پر واضح ہو چکی ہے کہ بھارت میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اس قدر فلاپ ہو چکا ہے کہ بھارتی فضائیہ تک بھی انڈین حکومت کے کنٹرول سے باغی ہو کر جنونی دہشت گردوں کے کنٹرول میں جا چکی ہے۔




اگر ایسا ہی ہوا تو یہ بات نہ صرف برصغیر پاک و ہند کے امن و سلامتی کے لئے ، بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لئے ایک سنگین ترین خطرناک صورتحال بن چکی ہے کہ ایک ایٹمی ملک بھارت کے اندر دہشت گردوں کا کنٹرول بھارتی فضائیہ پر اس قدر شدید ترین ہو چکا ہے کہ وہ بھارت کی ریاست ( وزارت دفاع ) کی لاعلمی میں کسی بھی ملک پر ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ کر کے دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں کی سرگرم جنگ میں جھونک سکتے ہیں –

اپنا تبصرہ بھیجیں