250

کیا واقعی پشتون پاکستان کا محروم طبقہ ہے – خیرت انگیز انکشاف

پشتون اور پاکستان!

پاکستان کا معاشی حب کراچی پاکستان میں پشتونوں کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں تقریباً 60 لاکھ پشتون آباد ہیں۔

دوسرا معاشی حب لاہور ہے جہاں تقریباً 30 لاکھ پشتون آباد ہیں۔ لاہور پاکستان بھر میں پشتونوں کا تیسرا سب سے بڑا شہر ہے۔

پاکستان کا دارلخلافہ اور سب سے خوبصورت شہر اسلام آباد ہے جہاں کی 11 لاکھ آبادی میں سے 4 لاکھ پشتون ہیں۔




آدھا کراچی، ایک تہائی لاہور، آدھا بلوچستان، آدھا اسلام اباد، پورا کے پی کے اور پورا فاٹا پشتونوں کے پاس ہے۔

یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ کے پی کے بعد پشتونوں کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے۔ 🙂

اور پنجاب میں آباد نوے فیصد پشتون پنجاب کے شہری علاقوں میں آباد ہیں۔ دوسرے لفظوں میں شہری سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔

پشتون پنجاب میں ٹرانسپورٹ، سبزی اور فروٹ، کپڑے، الیکٹرانکس، ہوٹلز اور ٹھیکیداری کے کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں۔

ان کے علاوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




پاکستان کی کل درامدات اور برآمدات میں سے تقریبا 30 ارب ڈالر کے قریب صرف چین، خلیج، افغانستان اور جاپان کے ساتھ ہوتی ہے جو کہ تقریباً سارا پشتونوں کے پاس ہے۔

پاکستان میں سالانہ 3 ارب ڈالر کے قریب سمگلنگ بھی ہوتی ہے خاص طور پر افغانستان اور ایران سے جو کہ خیر سے سارا کا سارا ہم پشتونوں نے ہی سنبھال رکھا ہے۔ 🙂

تقریباً آدھی فوج پشتون ہے اور آدھی سے زیادہ آئی ایس آئی پشتون ہے۔

قومی اداروں پر بھی پشتون چھائے ہوئے ہیں۔ او جی ڈی سی ایل جیسے اداروں میں آدھے سے زیادہ پشتون ہیں۔

وفاق کی طرف سے صوبوں کو ملنے والے فنڈز میں سے فی کس آبادی کے حساب سے بلوچستان کے بعد سب سے زیادہ حصہ کے پی کے کو ملتا ہے۔




قیام پاکستان سے آج تک سینٹ کی سب سے زیادہ سیٹیں ہمیشہ اور مستقل طور پر پشتونوں کے پاس رہی ہیں۔

پاکستان کا نظم و نسق اس وقت عملی طور پر پشتونوں ہی کے پاس ہے جو پاکستان کی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔
( اور پنجابی اور سندھی لیڈروں کو آگے لگایا ہوا ہے 🙂 )

افواج پاکستان نے جس جنگ میں سب سے زیادہ جانی قربانیاں دیں وہ پشتونوں کو دہشت گردوں سے بچانے کے لیے لڑی جانے والی جنگ ہے۔

اور یہ جو روس کے خلاف جنگ کی بات کی جاتی ہے تو یاد رکھیں روس پنجاب فتح کرنے نہیں آیا تھا بلکہ روسی دریائے اٹک تک کا علاقہ لینے کی بات کر تے تھے یعنی فاٹا، کے پی کے اور بلوچستان۔
روس کے خلاف وہ جنگ پشتونوں کی بقا کی جنگ تھی۔

یاد آیا ۔۔۔ 🙂

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پشتونوں کے ساتھ شروع میں بہت زیادتی ہوئی تھی۔
زیادتیوں کا تو نہیں علم لیکن جو علم ہے وہ بتاتا ہوں۔۔۔

یہ بات آپ کو ہر تاریخ دان بتائیگا کہ قائداعظم کے بعد جو بھی حکمران آئے ان کی پشت پر ایوب خان حکومت کر رہا تھا جو اس وقت آرمی چیف تھا۔
پھر اس نے 1958ء میں مارشل لاء لگا کر 1968ء تک براہ راست حکومت کی۔
ایوب خان پشتون تھا۔

اس کے بعد یحیی خان آیا 1971ء تک۔
وہ بھی پشتون تھا۔

اس کے بعد سندھی آیا بھٹو جس کا سب سے بڑا اتحادی مفتی محمود پشتون تھا۔




اس کے بعد جنرل ضیاء آیا وہ مہاجر تھا۔
ضیاء کے افغانستان معاملات سنبھالنے والے اکثر فوجی کمانڈرز پشتون تھے۔

اس کے بعد آنے والے حکمران؟۔

بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری۔
مشہور پشتون لیڈر فضل الرحمن صاحب ہمیشہ جن کے اتحادی رہے۔

نواز شریف۔
اسفند یار ولی اور فضل الرحمن جن کے بارے میں قسم کھاتے تھے کہ کوئی انکا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

اور پرویز مشرف۔

پرویز مشرف پنجابی نہیں بلکہ مہاجر تھا۔

اس نے پاکستان کو بڑی اور براہ راست جنگ سے بچانے امریکہ کو راستہ دیا۔
جواباً پشتون اٹھے اور ٹی ٹی پی کے نام سے بلاتفریق پشتون اور پنجابیوں کے سر کاٹنے لگے۔
جتنے دھماکے کے پی کے میں ہوئے اتنے ہی پنجاب میں بھی ہوئے۔
پھر بھی مشرف دور میں فاٹا میں کوئی بڑا آپریشن نہیں کیا گیا۔
راہ راست، راہ نجات اور ضرب عضب مشرف کے بعد لانچ کیے گئے اور پشتونوں کو کچھ دیگر خون آشام پشتونوں سے بچانے کے لیے کیے گئے۔

محرومی اور حقوق نامی زہر پشتونوں میں ان سرخوں نے انجکٹ کیا ہے جن کا قبلہ و کعبہ ہمیشہ افغانستان رہا ہے۔

پشتونوں کا جتنا خون افغانستان نے اپنی پراکسی جنگوں کے ذریعے بہایا ہے اتنا کبھی کسی نے نہیں بہایا۔
یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ پاکستان میں بسنے والے پشتونوں کے لیے دنیا میں سب سے غیر محفوظ ملک افغانستان ہے۔ جہاں جان کی ضمانت لیے بغیر وہ جا بھی نہیں سکتے۔

ویسے کیا کوئی سرخہ بتا سکتا ہےکہ افغانستان نے آج تک پشتونوں کو کیا دیا؟؟؟ 🙂

تحریر شاہدخان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں