674

شکرگڑھ ظفروال پسرور چونڈہ سیالکوٹ میں دھماکوں کی آوازیں

سافٹ الرٹ:
شکرگڑھ ظفروال پسرور چونڈہ سیالکوٹ میں دھماکوں کی آوازیں ہمارے F16 کی آوازیں تھیں۔ انڈیا کل سے خلاف ورزی کر رہا تھا سیز فائر کی۔ آج پھر ظفروال سیکٹر پر فائرنگ ہوئ تو پاکستان کی فضائیہ نے لاہور سے پرواز کی اور سبزپیر والے علاقہ میں ایف 16 نے 2 ایئر بلاسٹ کیے ہیں ۔




ان ایئر بلاسٹ کی آواز دھماکے سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دورانِ پرواز جب جنگی طیارہ ساؤنڈ بیریئر توڑتا ہے تو دھماکے کی زبردست آواز پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب کوئی دھماکہ نہیں ہوتا ہے۔ ماضی میں اڑی کیمپ دھماکوں کے بعد جب بھارت نے جنگ کی دھمکی دی تھی تو ایف سولہ نے سب سے پہلے چیلنج قبول کیا تھا۔ اور اسلام آباد کی سڑکوں پر ایف سولہ طیارے اتار کر اپنے جنگی فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو پیغام دیا تھا کہ آ جاؤ ہم ہر دم تیار ہیں۔ اسلام آباد کی حدود میں جنگی طیاروں نے ساؤنڈ بیریئرز توڑے تھے تو شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا کہ شاید یہ دھماکے یا بمباری ہو رہی ہے۔ بالکل اسی طرح آج بھی سبز پیر کے علاقہ میں جنگی طیاروں نے ساؤنڈ بیریئرز توڑے ہیں۔




ہم اللہ کے فضل و کرم سے ایک آہنی اعصاب اور مضبوط ارادوں والی قوم ہیں۔ نا تو جنگ سے گھبراتے ہیں اور نا ہی جنگ کا ماحول ہمارے لیے نیا ہے۔ بلکہ ہم پچھلے سترہ سالوں سے حالتِ جنگ میں ہی ہیں۔ لہٰذا نا تو دھماکوں کی آواز ہمارے لیے نئی ہے اور نا ہی فضائیہ کے شاہینوں کا بھارت کو جواب دینا کوئی نئی بات ہے۔ اس لیے کسی بھی قسم کی جنگ کی افواہ پہ توجہ نہیں دینی۔




نا ہی سیالکوٹ اور ناروال اضلاع کے علاقوں میں مقیم عوام کسی بے صبری کا مظاہرہ کریں۔ ماضی میں بھارت جعلی سرجیکل سٹرائیکس کا دعوی کر چکا ہے۔
ممکن ہے کہ اس دفعہ بھی بھارت کسی ایئر سٹرائیک کا شوشہ چھوڑ دے۔ لہٰذا دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ کسی بھارتی حملے یا جعلی بھارتی ایئرسٹرائیک کی خبر سن کر اسی وقت آگے نہیں پھیلانی۔ نا ہی افواہوں پہ کان دھرنے ہیں۔ ہمارے جوان تینوں محاذوں پہ الرٹ اور بھارت کو سبق دینے کی قسم کھا کر بالکل تیار کھڑے ہیں۔

بھارت غلطی سے بھی سرحد کراس کرنے کا نہیں سوچے گا۔ وہ بھی اس حالت میں جب کہ اس کے دو طیارے دورانِ مشق آپس میں ٹکرا کے تباہ ہو چکے ہیں۔ لہٰذا ابھی ٹھنڈ پروگرام چل رہا ہے عوام بھی سکون میں رہیں اور اس پیغام سے دوسروں کو بھی آگاہ کر دیں تا کہ بھارت اس مرتبہ کوئی بھی افواہ پھیلانے میں ناکام رہے۔
تحریر: سنگین علی زادہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں