1,801

آئی ایس آئی اور را کی دلچسپ دماغی جنگ

کلبھوشن یادوو کا کیس انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں چل رہا ہے، میرا نہیں خیال کہ اب یہ راز بتا دینے میں کوئی حرج ہے. پاکستان کا ایک طبقہ اس وقت بہت زیادہ تنقید کر رہا تھا جب کلبھوشن یادوو کی فیملی کو اس سے ملنے کی اجازت دی گئی. ہر وہ بندا جس کے دل میں فوج کے خلاف بغض بھرا تھا، تب اچھلتا تھا کہ پاکستان کے دشمن کو فوج کیوں اس کے گھر والوں سے ملوا رہی ہے. پاکستانیوں کو اس پراپیگنڈہ کے زریعے بھڑکانے کی بہت کوشش کی گئی. اب بین الااقوامی عدالت انصاف میں کلبھوشن کا کیس چل رہا ہے تو چلیں اس راز سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ آئی ایس آئی نے کیسے پاکستان میں بیٹھ کر بھارت کے ہاتھ پیر باندھے

پاکستان میں جب آئی ایس آئی نے کمانڈر کلبھوشن یادوو کو گرفتار کیا تو اس وقت تک وہ صرف مبارک حسین پٹیل تھا. یعنی وہ پاسپورٹ نمبر ایل نو چھ تین صفر سات دو دو پر پاکستان داخل ہوا اور اس پاسپورٹ کے مطابق وہ کلبھوشن یادوو نہیں بلکہ مبارک حسین پٹیل تھا. وہ اسی نام کے ساتھ بھارتی ویزہ لے کر ایران میں رہ رہا تھا اور بزنس کے سلسلے میں پاکستان آیا تھا.




پکڑے جانے پر کلبھوشن یادوو انکار کر دیتا کہ وہ کلبھوشن یادوو نہیں بلکہ مبارک حسین پٹیل ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے کلبھوشن یادوو ثابت نہیں کر سکتی تھی. گو کہ اس کی گرفتاری کے ساتھ ہی آئی ایس آئی بلوچستان میں اس کا پورا نیٹ ورک پکڑ چکی تھی مگر وہ ان سے اپنے تعلقات کا انکار کر کے ڈٹ جاتا تو بھی پاکستان کےلیے مشکلات پیدا ہو جاتیں. پر یہ آئی ایس آئی تھی جو بغیر مارے پیٹے بھی اعتراف کروا لیا کرتی ہے. لہٰذا گرفتاری کے بعد کلبھوشن یادوو نے اپنی مرضی کے ساتھ اقرار کر لیا کہ وہ کلبھوشن یادوو ہے.

اس اعتراف سے پہلے آئی ایس آئی کے شاطر ترین دماغ یہ بات جان چکے تھے کہ کلبھوشن کے معاملے پر انڈیا اتنی جلدی شکست تسلیم نہیں کرے گا. نہ صرف یہ بلکہ انڈیا بین الاقوامی عدالت انصاف تک دوڑ لگائے گا. آئی ایس آئی والے یہ بھی جانتے تھے کہ بھارت کلبھوشن یادوو کے وجود سے ہی انکار کر سکتا ہے. اور اس بات پہ اصرار کرے گا کہ کلبھوشن یادوو نام کا کوئی بھارتی شہری نہیں ہے. بلکہ مبارک حسین پٹیل کو پاکستان نے پکڑا ہے، اور تشدد کے زریعے اس سے یہ بیان زبردستی دلوایا گیا ہے کہ وہ کلبھوشن یادوو ہے.




عین اِس دوران جب آئی ایس آئی کے افسران آپس میں بھارت کے اس فتنے کا توڑ کرنے کےلیے دماغ لڑا رہے تھے، وہاں سرحد کے اس پار بھارتی خفیہ ایجنسی را کے کارندے کلبھوشن یادوو کو مبارک حسین پٹیل بنا کر پاکستان کو جھوٹا ثابت کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے. منصوبہ بے داغ تھا جس کے مطابق کلبھوشن یادوو سے تعلق رکھنے والے تمام دستاویزی ثبوتوں اور شواہد کو مٹایا جاتا، اس کے ساتھ ہی اس کے گھر والوں کو چپ کروایا جاتاکہ معاملہ ملک کا ہے یوں سمجھو کلبھوشن کبھی تھا ہی نہیں. اس کے بعد بھارتی فوج بھارت میں موجود کسی بھی عام پاکستانی کو پکڑتی اور اعلان کر دیتی کہ ہم نے پاکستانی جاسوس پکڑا ہے. بالکل ویسے ہی جیسے وہ ہمارے کبوتر پکڑ کر جاسوس بنا دیتے ہیں.

اس کے بعد جب پاکستان یہ کہتا کہ ہمارے عام شہری کو پکڑ کر بھارت نے جاسوس بنایا ہے ،تو منصوبے کے عین مطابق، بھارت دنیا کے سامنے چلا اٹھتا کہ یہی تو ہم بھی کہہ رہے ہیں کہ مبارک حسین پٹیل ہمارا عام شہری ہے جسے پاکستان نے پکڑ کر جاسوس بنا دیا ہے. یوں معاملہ دنیا کی نظر میں مشکوک ہوتا اور عالمی برادری اسے پاک بھارت دشمنی سمجھ کر نظر انداز کر دیتی. کلبھوشن مرتا یا جیتا بھارت کی عزت بچ جاتی. یا اس سازش کے کامیاب ہونے کی صورت میں بھارت بین الاقوامی عدالت انصاف میں پاکستان کےلیے بہت مشکلات کھڑی کرتا. 3 مارچ 2016 کو کلبھوشن کی گرفتاری ہوئی۔ اس کے بعد تیرہ دفعہ بھارت نے زبانی اور تحریری درخواست کی کہ ہمارے کاؤنصلر کو مبارک حسین پٹیل تک رسائی دی جائے۔ تا کہ پتہ لگے کہ کلبھوشن واقعی بھارتی شہری ہے یا پاکستان جھوٹ بول رہا ہے۔

ہر دفعہ پاکستان کی جانب سے ایک ہی جواب دیا جاتا رہا کہ جب آپ کو یہ ہی نہیں پتہ کہ پکڑا جانے والا بھارتی شہری ہے یا نہیں تو بھارتی کاؤنصلر کو رسائی کیوں دی جائے؟
بھارت کی اس سازش کو ناکام بنانا وہ چیلنج تھا جس سے نبٹنا آئی ایس آئی کےلیے ایک بڑا ٹاسک تھا. اور اسے آئی ایس آئی نے اس طرح پورا کیا کہ بھارت اپنے بال نوچنے پر مجبور ہو گیا۔ کلبھوشن یادوو کے اعتراف کے بعد اسے کہا گیا کہ تمہارے ساتھ کوئی ظلم نہیں ہو گا. تمہارا کیس سرکاری سطح پر بھارت کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے. البتہ کسی کی زندگی موت کا کوئی پتہ نہیں، اس لیے تم چاہو تو اپنے گھر والوں سے مل سکتے ہو. پاکستان تمہیں پابند نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے بھارت کو آفر کر دی کہ بھارت چاہے تو کلبھوشن کے گھر والے اس سے مل سکتے ہیں کاؤنصلر کی رسائی ہم نہیں دیں گے۔ بھارت نے ابتدا میں فیملی بھیجنے سے انکار کیا لیکن بعد ازاں کلبھوشن کی ناراضگی کے خوف سے فیملی بھیج دی۔




کلبھوشن کی فیملی پاکستان آئی اور اس نے کلبھوشن یادوو سے ملاقات کی۔ اور اس کے ساتھ ہی بھارت کےلیے وہ دروازہ ہمیشہ ہمیشہ بند ہو گیا جس کے زریعے وہ کلبھوشن کو حسین مبارک پٹیل بنا کر پیش کرتا۔ کیوں کہ آنے والی فیملی کلبھوشن یادوو کو مبارک حسین پٹیل سمجھ کر نہیں ملی تھی بلکہ کلبھوشن یادوو کو ملی تھی۔ ان کی ریکارڈنگز اور گفتگو میں ہر جگہ لفظ کلبھوشن ہی استعمال ہوا تھا۔ اب پاکستان کے پاس کلبھوشن کو کلھبوشن ثابت کرنے کا سب سے مضبوط جواز موجود تھا۔

آج بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں بھارت مجبور ہے کہ اسے کلبھوشن یادوو کہے۔ کیوں کہ بھارت نے خود اپنے شہریوں کو جس بندے سے ملاقات کےلیے بھیجا وہ کلبھوشن تھا۔ پاکستان آ کر کلبھوشن یادوو کی ماں اور بیوی اس سے ملی تھیں حسین مبارک پٹیل کی نہیں۔ آج جب عالمی عدالتِ انصاف میں بار بار ہمارا وکیل بھارتی وکیل سے یہ سوال پوچھتا ہے کہ کلبھوشن یادوو اگر جاسوس نہیں تو بتاؤ حسین مبارک پٹیل بن کر پاکستان کیوں آیا تو بھارتی وکیل بغلیں جھانکنے لگتا ہے۔ آئی ایس آئی یہ ملاقات والا کھیل نہ کھیلتی تو بھارت آج بھی ضد کر رہا ہوتا کہ یہ شخص حسین مبارک پٹیل ہے کلبھوشن یادوو نہیں۔ کیوں کہ کلبھوشن کے پاس موجود حسین مبارک پٹیل والا پاسپورٹ بھی بالکل اصلی تھا۔




اب بھارت یہ تو مانتا ہے کہ یہ بندا کلبھوشن یادوو ہے لیکن حسین مبارک پٹیل کے پاسپورٹ والے سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں۔ اور یہی سوال کلبھوشن یادوو کا پھانسی کے پھندے پہ لٹکائے گا۔
تحریر: سنگین علی زادہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں