554

غزوہ ہند کی تیاری کیسے کی جائے

غزوہ ہند کی تیاری کیسے کی جائے

سب سے پہلے قانونی طور پر ہتھیاروں کا لائسنس لیں، پھر گن ڈیلر سے ہتھیار خریدیں، مہنگی گن نہیں تو کوئی پاکستانی یا چائنیز سستا پستول تو خرید ہی سکتے ہیں جو آپ کو 20 سے 50 ہزار کی رینج میں مل جائے گا. موبائل خریدنے کے لیے 20 ہزار نکل آتے ہیں لیکن ہتھیار کا کہو تو کہتے ہیں پیسے کہاں سے آئیں. جب جنگ ہوگی تو یہ موبائل کام آئے گا یا ہتھیار؟

لائسنس اور ہتھیار خریدنے کے بعد کسی رجسٹرڈ گن کلب کی ممبرشپ لیجیے اور وہاں ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت اور نشانے بازی کی مشق کیجیے. مہنگے گن کلب جوائن نہیں کرسکتے تو پھر کسی دور دراز پہاڑی علاقے میں جاکر نشانہ بازی کی مشق کیجیے.




اگر آپ اسلام آباد یا راولپنڈی کے آس پاس سے ہیں تو سابق آئی ایس آئی آفیسر اور افغان جنگ کے غازی سید زید حامد سے رابطہ کیجیے، سید صاحب آجکل گورنمنٹ اور نجی سکیورٹی کمپنیوں کے افسران اور غزوہ ہند کے مجاہدین کو راولپنڈی میں ہتھیاروں کی ٹریننگ دے رہے ہیں، آپ ذاتی طور پر ان سے ان کی ای میل ایڈریس SyedZaidZamanHamid@gmail.com پر رابطہ کرسکتے ہیں. نہایت کم فیس میں مختلف جدید آٹومیٹک اور سیمی آٹومیٹک ہتھیاروں پر زبردست انداز میں تربیت فراہم کر رہے ہیں، ان کی تربیت کی وڈیوز بھی یوٹیوب پر موجود ہیں ان سے بھی فائدہ اٹھائیے.

ہتھیاروں کے علاوہ آپ کو ہاتھ سے لڑنا مارنا بھی آنا چاہیے، اس مقصد کے لیے کراٹے یا مارشل آرٹ سیکھنا اور اس کی پریکٹس کرنا ضروری ہے. گھر بیٹھے یوٹیوب پر وڈیوز دیکھ کر بھی سیکھ سکتے ہیں لیکن پریکٹس کرنے سے ہی تجربہ ہوتا ہے اور تجربے کے لیے کسی ماہر استاد کی نگرانی میں ریکٹس کرنا ضروری ہے.

اگر آپ غریب ہیں، ہتھیار نہیں خرید سکتے اور کراٹے سیکھنے کے بھی پیسے نہیں ہیں تو پھر بھی ہمت مت ماریے کیونکہ مومن کبھی ہار نہیں مانتا، سنگ بازی یعنی پتھر سے مارنا سیکھیے، غلیل میں پتھر ڈال کر نشانے بازی کی مشق کیجیے. یاد رہے آجکل ہمارے فلسطینی اور کشمیری بھائی بہنیں اسی سنگ بازی سے مشرک افواج کو جہنم واصل کر رہے ہیں.




سنگ بازی کے ساتھ ساتھ تیر کمان چلانا بھی سیکھیے اور تلوار چلانا اور خنجر مارنے کی تربیت بھی حاصل کیجیے.

دشمن کو جان سے مارنا ہے یا زخمی کرنا ہے، جسم کے کونسے حصے پر مارنے سے دشمن حواس باختہ ہوگا، کونسے پر مارنے سے بیہوش ہوگا، کونسے پر مارنے سے مر جائے گا. مثال کے طور پر اگر کسی کو گردے کی جگہ یعنی پیٹ کے دائیں یا بائیں حصے پر زور سے مکا ماریں تو اس کا سانس پھول جائے گاجس سے اس کی گردن بھی نیچے ہوجائے گی اور آپ اسے فورا دبوچ سکیں گے. اس طرح کی تمام ٹیکنکس سیکھنے کے لیے آپ کو کسی ماہر مارشل آرٹ استاد سے رہنمائی لینی ضروری ہے.

اس کے علاوہ….

فرسٹ ایڈ کی تربیت بھی حاصل کیجیے، دوران جنگ آپ زخمی بھی ہوسکتے ہیں یا آپ کو گولی بھی لگ سکتی ہے اس لیے فرسٹ ایڈ کٹ کا سامان ہر وقت اپنے پاس رکھیے اور کسی ڈاکٹر سےاس کی تربیت بھی لیجیے، فرسٹ ایڈ کٹ میں “پین کلرز” یعنی درد بھگانے والی اودیات، سر درد و بخار کی گولیاں، خون روکنے کے لیے سپرے یا کریم اور زخموں کی مرہم پٹی کا مکمل سامان موجود ہونا چاہیے. یہ سامان آپ کو اپنی ٹیم یا شہریوں کی مرہم پٹی کے لیے بھی کام آئے گا.

دیہاتی زندگی گزارنے کی کوشش کیجیے، شہری آسائشوں کو چھوڑنے کی کوشش کریں، اپنا اناج خود اگانا سیکھیں، حالت جنگ میں کھانا پینا نہیں ملے گا، درخت کے پتے کھاکر زندہ رہنا پڑے گا یا پھر سانپ بچھو کھاکر زندگی کو قائم رکھنا پڑے گا…. کسی خالی پلاٹ پر گھر میں ہی آلو، پیاز، ٹماٹر، مرچیں، دھنیہ، گوبی وغیرہ آسانی سے اگائی جاسکتی ہے. یہ ایک طرح سے آپ کے فارغ وقت کا بہترین مشغلہ بھی ہوگا اور آپ اناج اگانا بھی سیکھ لیں گے. اگر کل کو جنگ ہوتی ہے تو آپ کسی بھی ویران جگہ پر اپنا اناج اگاکر اپنا اور اپنے بیوی بچوں یا ماں باپ کا پیٹ تو پال سکیں گے وگرنہ بھوکا مرنا پڑسکتا ہے. اس لیے پہلے سے ہی ان چیزوں کی مشق کرلیجیے.




جب ہتھیار چلانا سیکھ لیں، سنگ بازی کے ماہر ہوجائیں، تیر و تلوار میں تربیت یافتہ ہوجائیں تو پھر یہ سب اپنے بھائی بہنوں کو بھی سکھائیے اور دوستوں کے ساتھ مل کر باقائدہ اپنی یونٹ بنالیں. سب دوستوں کو بھی مکمل تربیت یافتہ کرکے ان سے اپنے شہر کی حفاظت کا حلف لیں اور شہر کے مختلف حصے آپس میں بانٹ لیں، اپنی چوکیوں کی نشاندہی کرلیں اور گوریلا جنگ کی صورت میں چھپنے اور مار کر بھاگ جانے کے لیے اپنی سرنگیں وغیرہ پہلے سے تیار رکھیں.

جب جنگ شروع ہو تو آپ نے شہر کے مختلف علاقوں میں گھات لگاکر یا چوکیاں بناکر دشمن کو جہنم واصل کرنا ہے.

دوران جنگ افواج پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی لیکن افواج چونکہ سرحدوں کی حفاظت پر زیادہ زور دیتی ہے اور چونکہ یہ پانچویں نسل کی جنگ (ففتھ جنریشن وار) کا دور ہے اس لیے اگر جنگ ہوتی ہے تو دشمن شہری خون ریزی برپا کرے گا، اپنے سیاسی اور پراکسی دہشت گرد تنظیموں کے زریعے یا سیاستدانوں کے زریعے شہروں میں افراتفری، خون ریزی، ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ واریت پھیلانے کی پوری پوری کوشش کرے گا. اس لیے یہاں آپ کی زمہ داری شروع ہوگی، آپ نے شہروں اور شہریوں کو پرامن رکھنا ہے، ہر طرح کی افراتفری کو روک کر عوام کو دشمن کے خلاف متحد رکھنا ہے، اس دوران آپ اپنی نفری بڑھاتے جائیے، جیسے ہی جنگ لگی اور آپ کی ٹیم تربیت یافتہ ہوئی تو پاک فوج آپ کو اسلحہ بھی فراہم کرے گی جس سے آپ افواج پاکستان کے ساتھ مل کر دشمن کو دل کھول کر جہنم واصل کریں گے.




یاد رہے اسرائیل اور انڈیا میں بچے بچے کو گن چلانا سکھایا جارہا ہے کیونکہ صیہونی اور ہندو جانتے ہیں کہ آج نہیں تو کل ان کی جنگ اسلام کے قلعے پاکستان سے ضرور ہونی ہے اس لیے وہ اپنی نئی نسل کو بچپن سے ہی گن چلانا سکھا رہے ہیں اور دوسری طرف ہم ہیں کہ تیس چالیس ہزار کا موبائل فون خرید لیں گے لیکن جب گن لینے کا کوئی کہے تو کہیں گے کہ یار پیسے نہیں ہیں.

اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ دشمن کے خلاف خود کو ہر وقت تیار رکھو، دشمن پر مسلسل نظر رکھو، اپنا جنگی ساز و سامان تیار رکھو، چوبیس گھنٹے اسلامی مملکت کے سرحدوں کی حفاظت کرو اور جب دشمن حملہ آور ہو تو انہیں گردن سے کاٹو.

جس دن جنگ لگے ہمیں گھر کو چھوڑ دینا ہے، ہتھیار اٹھاکے اپنے مورچے پر جانا ہے، اللہ اکبر اور لبیک غزوہ ہند کا نعرہ بلند کرنا ہے اور دشمن کی گردن کو اس کے سر سے کاٹ کر ہندوستان کو بت پرستی سے پاک کرنا ہے.




لبیک غزوہ ہند

تحریر : یاسررسول

دوستوں کے ساتھ شیئر کرکے آج سے ہی غزوہ ہند کی تیاری شروع کیجیے. جزاک اللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں