ہم دونوں برآمدے میں بیٹھے ہوئے تھے اور باہر جنوری کی سرد ہواؤں کے ساتھ بارش برس رہی تھی ۔ ٹھنڈ کافی ذیادہ تھی لیکن میں اُس کی باتوں میں کچھ ایسا گُھم ہوا تھا کہ آس پاس سے بے خبر صرف اُس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھا ۔ میں نے اُس سے پوچھا " آپ نے درس و تدریس کا شعبہ کیوں منتخب کیا ؟ اُس نے برستی بارش کی طرف دیکھا ، چادر سے خود کو ڈھانپا اور مُسکرا کر جواب دیا " حضرت عمر ؓ میرے آئیڈیل ہیں اور میں خلیفہ دوم کی یہ خواہش کھبی بھی نہیں بُھلا سکتا جو آپ نے ایک دفعہ ظاہر کرکے کف افسوس مل لی تھی کہ کاش میں استاد ہوتا ،تو اُس رُتبے کا حقدار بنتا جو رُتبہ استاد کو ہمارے دین اور آقاﷺ نے دیا ہے ۔ ''  یہ رُتبہ کتنا بڑا ہے اور اس سے منسلک لوگ معاشرے کو کہاں سے کہاں پہنچاسکتے ہیں یہ بتانے سے پہلے آپ جمیل الرحمٰن کی کہانی ملاحضہ کیجیئے - جمیل الرحمٰن ضلع بونیر کا رہائشی ہے اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتا ہے ۔ جون 1964 ء کو بونیر کے انتہائی پسماندہ گاؤں باجکٹہ میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی سکول کبل سے آپ نے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ مطالعہ پاکستان میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور پھر جاکر خود کو درس و تدریس کے شعبے سے منسلک کیا - یہ شعبہ اس کے لئے کتنا اہم ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جس بھی سرکاری سکول میں آپ کی ٹرانسفر ہوتی ہے وہاں حالات پلٹا کھاتے ہیں اور پورا سیٹ اپ تبدیل ہوجاتا ہے ۔ ہم پوری قوم وسائل کا رونا رورہے ہیں اور اس شعبے سے منسلک جتنے بھی لوگ ہیں خاص طور پر گورنمنٹ سیکٹر میں وہ تو بالکل حرکت بھی نہیں کرتے کیونکہ ان کے پاس ہمیشہ وسائل کا فقدان جو ہوتا ہے ۔ بونیر تو ویسے بھی پسماندہ علاقہ ہے لیکن یہاں چغرزی کا علاقہ اس جدید دور میں بھی بنیادی ضروریات سے محروم ہے ۔   میں پچھلے دنوں اسی چغرزی کے علاقے پاندھیڑ گیا اور وہاں گورنمنٹ ہائی سکول کا دورہ کیا جہاں جمیل الرحمٰن صاحب ہیڈ ماسٹر ہیں ۔ جیسے ہی میں سکول کے احاطے میں بمع اپنی ٹیم داخل ہوا میری حیرانی کی انتہا نہ رہی کیونکہ سکول کی عمارت عالیشان بنگلے کا منظر دے رہی تھی ۔ چُھٹی کا دن تھا لیکن طالب علم موجود تھے اور امتحان کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے ۔ ان کے اساتذہ بھی ان کے ساتھ موجود تھے اور ان کی مدد کر رہے تھے ۔ میں زندگی میں پہلی دفعہ کسی سرکاری سکول میں ہاسٹل کی اتنی بہترین سہولت دیکھ رہا تھا ۔ میں جیسے ہی ایک کمرے کے اندر گیا میری نظریں سامنے سیکیورٹی کیمرے پر پڑی ۔ میری حیرانی دیکھ کر جمیل الرحمٰن صاحب نے مجھے بتایا کہ یہ سیکیورٹی کیمرے پورے سکول کے ہر کمرے میں نصب ہیں اور میں ان تمام کیمروں کو اپنے دفتر سے مانیٹر کرتا ہوں ۔استاد کس وقت کیا کر رہا ہوتا مجھے لمحے لمحے کی خبر ہوتی ہے ۔ وہاں سے میں مذکورہ سکول کے امتحانی ہال میں داخل ہوا جو بہت ہی سلیقے سے بنایا گیا تھا اور یہاں بھی چاروں طرف سیکیورٹی کیمرے نصب تھے ۔ اس ہال میں ایک بہترین چبوترہ لگایا گیا ہے جہاں دوران امتحان اساتذہ کرام پورے ہال کو مانیٹر کررہے ہوتے ہیں ۔ میں نے اس سرکاری سکول میں ایک بہترین کمپیوٹر لیبارٹری بھی دیکھی ۔ تیس کمپیوٹرز پر مشتمل اس لیبارٹری میں بچّوں کو جب استاد پڑھاتے ہیں تو سامنے دیوار پر لگی بہترین کرسٹل ایل ای ڈی سکرین پر ان کو سب کچھ نظر آرہا ہوتا ہے ۔ یہ اگرچہ ایک عام سی بات ہے لیکن میں حیران اس وجہ سے ہوا کہ سرکاری سکولوں میں ایسی دیکھ بال میں نے کھبی نہیں دیکھی ۔ جمیل الرحمٰن صاحب نے اپنے دفتر کے بالکل سامنے ایک بورڈ لگایا ہوا ہے جس پرسرکاری اخراجات کی پوری تفصیل موجود ہے ۔ ضلع بونیر کے ناظم اعلیٰ نے اس سکول کو چوبیس لاکھ روپے دیئے تھے جس میں آٹھ ہزار پانچ سو فٹ سنی گرے ماربل پورے سکول میں لگایا گیا ہے ۔ انہی پیسوں میں ایک بہترین ہیڈماسٹر آفس ، پورے سکول کے لئے سولر سسٹم ، گلے سڑے پرانے کھڑکیوں کی جگہ تیرہ نئی کھڑکیاں اور نو نئے دروازے بنائے گئے ہیں جبکہ   بچّوں کی سہولت کے لئے سکول کے ایک عمارت سے دوسرے عمارت تک جانے کے لئے ایک پُل پر کام زیر توجّہ ہے ۔ آپ جمیل الرحمٰن صاحب کا کمال دیکھیئے کہ آپ نے سابقہ سکول میں چار لاکھ سرکاری خرچے پر تین کمرے بنائے تھے جبکہ ایک کمرے کا سرکاری ریٹ تقریباً آٹھ لاکھ ہے ۔ آپ حیران رہ جائیں گے کہ وسائل کے حوالے سے ان کا اپروچ حیران کردینے والا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ سارے کام اللہ بناتا ہے اللہ ہی آسانیاں پیدا کرتا ہے بس انسان دو کام کریں ۔ اپنی نیت صاف رکھیں اور مسلسل جدوجہد کریں ۔ ہماری ٹیم کے ساتھ یہاں ناظم اعلیٰ بونیر ڈاکٹر عبید اللہ صاحب کی بھی ملاقات ہوئی ۔ ڈاکٹر صاحب بھی جمیل الرحمٰن صاحب کے حوالے سے کافی بہترین تاثرات رکھتے تھے ۔ اس نے اِس علاقے کے لوگوں کو خوش قسمت قرار دیا جو یہاں جمیل الرحمٰن صاحب جیسے لوگ اس علاقے کے لوگوں کے لئے دن رات اتنی محنت کر رہے ہیں ۔ اب ہم آتے ہیں کہ یہ اپروچ ہر استاد یا سرکاری سکول کے ہر ہیڈماسٹر کے پاس کیوں نہیں ۔ بنیادی چیز جو میں نے جمیل الرحمٰن صاحب کی زندگی اور جاب میں نوٹ کی وہ یہ تھی کہ آپ اللہ کی رضا کو بالائے طاق نہیں رکھتے ۔ آپ جو بھی کرتے ہیں جو بھی سوچتے ہیں اُس میں اللہ کی ذات اور رضا شامل ہوتی ہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہماری زندگی میں بحیثیت قوم موجود نہیں ۔ میں نے یہی بات اُس سے پوچھی کہ بونیر کے اور سکولوں میں اتنی محنت کیوں نہیں ہوتی تو یہی بات اُس نے بھی کہی کہ ہم اگر اللہ کے ساتھ اپنے معاملات چاہے وہ نجی ہوں یا اجتماعی ہوں سیدھے رکھیں تو ہم ہر مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں - دوسری جو سب سے اہم بات میں نے اس سے سیکھی وہ یہ تھی کہ سکول میں جتنے بھی بچّے پڑھنے کے لئے آتے ہیں اُن کے حوالے سے وہ یہ کہتے ہیں کہ انہی بچّوں کی وجہ سے ہمیں تنخوائیں ملتی ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنا رزق پاتے ہیں اور اپنے ہی اولاد کو زندگی کی ہر سہولت فراہم کردیتے ہیں سو ہمارے لئے ان بچّوں سے ذیادہ اہم اور کچھ نہیں ۔ آپ اگر اس بے مثال ، محنتی اور جان لڑانے والے انسان کی کاوشوں کا قریب سے انداذہ لگانا چاہتے ہیں تو آپ ایک دفعہ ضرور اس سکول کا دورہ کرلیں جہاں جا کر میری طرح آپ کو بھی اندازہ ہوجائیگا کہ پرائیویٹ سکول اور سرکاری سکول میں فرق ہوتا ہے تو وہ صرف کام کرنے والے کی اپروچ کا ہوتا ہے ۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ڈسٹرکٹ ایدمینسٹریشن نے پچھلے دنوں آپ کو بہترین ہیڈماسٹر کا ایوارڈ دیا جوکہ قابل تحسین ہے ۔ استاد کے رتبے کا تعّین اسلام نے آج سے چودہ صدیاں پہلے ہی کیا ہے اور اس رتبے ہی کی وجہ سے آقاﷺ نے خود کو بھی استاد ہی گردانا ہے ۔ یہ رُتبہ اور اس رُتبے کا کمال اتنا بڑا ہے کہ تاریخ عالم کے بڑے بڑے قوم استاد ہی کی وجہ سے بڑے بنے ہیں ۔ ہماری پستی کی واحد وجہ اگر صرف یہی ٹہرادی جائے کہ ہم نہ خود کو استاد بناسکتے ہیں اور نہ استاد کی قدرومنزلت جان سکتے ہیں تو غلط نہیں ہوگا ۔ میں پورے پاکستان کی بات تو نہیں کرسکتا لیکن یہ میری خواہش ہوگی اگر ضلع بونیر کے ارباب اختیار سرکاری اور نجی سکولوں کے اساتذہ اور ہیڈماسٹرز کو صرف دو دنوں کے لئے اس سکول کا دورہ کرائیں تو مجھے یقین ہے کہ وہ سیکھ جائیں گے کہ کام کیسے کیا جاتا ہے ۔ جمیل الرحمٰن صاحب جیسے لوگ ہمارے معاشرے کے وہ ہیرے ہیں جو پس پردہ رہ کر ہی بہت کچھ کررہے ہیں اور جو کچھ نہیں کر رہے وہ ہر دم ہر لمحہ نظروں کے سامنے ہوتے ہیں ۔   ہم جب وہاں سے واپس آرہے تھے تو میں نے ایک دفعہ پیچھے پلٹ کر دیکھا تو جمیل الرحمٰن صاحب خود وہ دستر خوان صاف کر رہے تھے جس پر چند لمحے پہلے ہم سب نے کھانا کھایا تھا ۔ 174

کاش میں استاد ہوتا – تحریر شبیر بونیری

ہم دونوں برآمدے میں بیٹھے ہوئے تھے اور باہر جنوری کی سرد ہواؤں کے ساتھ بارش برس رہی تھی ۔ ٹھنڈ کافی ذیادہ تھی لیکن میں اُس کی باتوں میں کچھ ایسا گُھم ہوا تھا کہ آس پاس سے بے خبر صرف اُس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھا ۔ میں نے اُس سے پوچھا ” آپ نے درس و تدریس کا شعبہ کیوں منتخب کیا ؟

اُس نے برستی بارش کی طرف دیکھا ، چادر سے خود کو ڈھانپا اور مُسکرا کر جواب دیا ” حضرت عمر ؓ میرے آئیڈیل ہیں اور میں خلیفہ دوم کی یہ خواہش کھبی بھی نہیں بُھلا سکتا جو آپ نے ایک دفعہ ظاہر کرکے کف افسوس مل لی تھی کہ کاش میں استاد ہوتا ،تو اُس رُتبے کا حقدار بنتا جو رُتبہ استاد کو ہمارے دین اور آقاﷺ نے دیا ہے ۔ ”




 یہ رُتبہ کتنا بڑا ہے اور اس سے منسلک لوگ معاشرے کو کہاں سے کہاں پہنچاسکتے ہیں یہ بتانے سے پہلے آپ جمیل الرحمٰن کی کہانی ملاحضہ کیجیئے –

جمیل الرحمٰن ضلع بونیر کا رہائشی ہے اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتا ہے ۔ جون 1964 ء کو بونیر کے انتہائی پسماندہ گاؤں باجکٹہ میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی سکول کبل سے آپ نے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ مطالعہ پاکستان میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور پھر جاکر خود کو درس و تدریس کے شعبے سے منسلک کیا – یہ شعبہ اس کے لئے کتنا اہم ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جس بھی سرکاری سکول میں آپ کی ٹرانسفر ہوتی ہے وہاں حالات پلٹا کھاتے ہیں اور پورا سیٹ اپ تبدیل ہوجاتا ہے ۔ ہم پوری قوم وسائل کا رونا رورہے ہیں اور اس شعبے سے منسلک جتنے بھی لوگ ہیں خاص طور پر گورنمنٹ سیکٹر میں وہ تو بالکل حرکت بھی نہیں کرتے کیونکہ ان کے پاس ہمیشہ وسائل کا فقدان جو ہوتا ہے ۔

بونیر تو ویسے بھی پسماندہ علاقہ ہے لیکن یہاں چغرزی کا علاقہ اس جدید دور میں بھی بنیادی ضروریات سے محروم ہے ۔

میں پچھلے دنوں اسی چغرزی کے علاقے پاندھیڑ گیا اور وہاں گورنمنٹ ہائی سکول کا دورہ کیا جہاں جمیل الرحمٰن صاحب ہیڈ ماسٹر ہیں ۔ جیسے ہی میں سکول کے احاطے میں بمع اپنی ٹیم داخل ہوا میری حیرانی کی انتہا نہ رہی کیونکہ سکول کی عمارت عالیشان بنگلے کا منظر دے رہی تھی ۔




چُھٹی کا دن تھا لیکن طالب علم موجود تھے اور امتحان کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے ۔ ان کے اساتذہ بھی ان کے ساتھ موجود تھے اور ان کی مدد کر رہے تھے ۔ میں زندگی میں پہلی دفعہ کسی سرکاری سکول میں ہاسٹل کی اتنی بہترین سہولت دیکھ رہا تھا ۔ میں جیسے ہی ایک کمرے کے اندر گیا میری نظریں سامنے سیکیورٹی کیمرے پر پڑی ۔ میری حیرانی دیکھ کر جمیل الرحمٰن صاحب نے مجھے بتایا کہ یہ سیکیورٹی کیمرے پورے سکول کے ہر کمرے میں نصب ہیں اور میں ان تمام کیمروں کو اپنے دفتر سے مانیٹر کرتا ہوں ۔استاد کس وقت کیا کر رہا ہوتا مجھے لمحے لمحے کی خبر ہوتی ہے ۔ وہاں سے میں مذکورہ سکول کے امتحانی ہال میں داخل ہوا جو بہت ہی سلیقے سے بنایا گیا تھا اور یہاں بھی چاروں طرف سیکیورٹی کیمرے نصب تھے ۔ اس ہال میں ایک بہترین چبوترہ لگایا گیا ہے جہاں دوران امتحان اساتذہ کرام پورے ہال کو مانیٹر کررہے ہوتے ہیں ۔

میں نے اس سرکاری سکول میں ایک بہترین کمپیوٹر لیبارٹری بھی دیکھی ۔ تیس کمپیوٹرز پر مشتمل اس لیبارٹری میں بچّوں کو جب استاد پڑھاتے ہیں تو سامنے دیوار پر لگی بہترین کرسٹل ایل ای ڈی سکرین پر ان کو سب کچھ نظر آرہا ہوتا ہے ۔ یہ اگرچہ ایک عام سی بات ہے لیکن میں حیران اس وجہ سے ہوا کہ سرکاری سکولوں میں ایسی دیکھ بال میں نے کھبی نہیں دیکھی ۔

جمیل الرحمٰن صاحب نے اپنے دفتر کے بالکل سامنے ایک بورڈ لگایا ہوا ہے جس پرسرکاری اخراجات کی پوری تفصیل موجود ہے ۔ ضلع بونیر کے ناظم اعلیٰ نے اس سکول کو چوبیس لاکھ روپے دیئے تھے جس میں آٹھ ہزار پانچ سو فٹ سنی گرے ماربل پورے سکول میں لگایا گیا ہے ۔ انہی پیسوں میں ایک بہترین ہیڈماسٹر آفس ، پورے سکول کے لئے سولر سسٹم ، گلے سڑے پرانے کھڑکیوں کی جگہ تیرہ نئی کھڑکیاں اور نو نئے دروازے بنائے گئے ہیں جبکہ   بچّوں کی سہولت کے لئے سکول کے ایک عمارت سے دوسرے عمارت تک جانے کے لئے ایک پُل پر کام زیر توجّہ ہے ۔




آپ جمیل الرحمٰن صاحب کا کمال دیکھیئے کہ آپ نے سابقہ سکول میں چار لاکھ سرکاری خرچے پر تین کمرے بنائے تھے جبکہ ایک کمرے کا سرکاری ریٹ تقریباً آٹھ لاکھ ہے ۔ آپ حیران رہ جائیں گے کہ وسائل کے حوالے سے ان کا اپروچ حیران کردینے والا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ سارے کام اللہ بناتا ہے اللہ ہی آسانیاں پیدا کرتا ہے بس انسان دو کام کریں ۔ اپنی نیت صاف رکھیں اور مسلسل جدوجہد کریں ۔

ہماری ٹیم کے ساتھ یہاں ناظم اعلیٰ بونیر ڈاکٹر عبید اللہ صاحب کی بھی ملاقات ہوئی ۔ ڈاکٹر صاحب بھی جمیل الرحمٰن صاحب کے حوالے سے کافی بہترین تاثرات رکھتے تھے ۔ اس نے اِس علاقے کے لوگوں کو خوش قسمت قرار دیا جو یہاں جمیل الرحمٰن صاحب جیسے لوگ اس علاقے کے لوگوں کے لئے دن رات اتنی محنت کر رہے ہیں ۔

اب ہم آتے ہیں کہ یہ اپروچ ہر استاد یا سرکاری سکول کے ہر ہیڈماسٹر کے پاس کیوں نہیں ۔

بنیادی چیز جو میں نے جمیل الرحمٰن صاحب کی زندگی اور جاب میں نوٹ کی وہ یہ تھی کہ آپ اللہ کی رضا کو بالائے طاق نہیں رکھتے ۔ آپ جو بھی کرتے ہیں جو بھی سوچتے ہیں اُس میں اللہ کی ذات اور رضا شامل ہوتی ہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہماری زندگی میں بحیثیت قوم موجود نہیں ۔ میں نے یہی بات اُس سے پوچھی کہ بونیر کے اور سکولوں میں اتنی محنت کیوں نہیں ہوتی تو یہی بات اُس نے بھی کہی کہ ہم اگر اللہ کے ساتھ اپنے معاملات چاہے وہ نجی ہوں یا اجتماعی ہوں سیدھے رکھیں تو ہم ہر مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں – دوسری جو سب سے اہم بات میں نے اس سے سیکھی وہ یہ تھی کہ سکول میں جتنے بھی بچّے پڑھنے کے لئے آتے ہیں اُن کے حوالے سے وہ یہ کہتے ہیں کہ انہی بچّوں کی وجہ سے ہمیں تنخوائیں ملتی ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنا رزق پاتے ہیں اور اپنے ہی اولاد کو زندگی کی ہر سہولت فراہم کردیتے ہیں سو ہمارے لئے ان بچّوں سے ذیادہ اہم اور کچھ نہیں ۔




آپ اگر اس بے مثال ، محنتی اور جان لڑانے والے انسان کی کاوشوں کا قریب سے انداذہ لگانا چاہتے ہیں تو آپ ایک دفعہ ضرور اس سکول کا دورہ کرلیں جہاں جا کر میری طرح آپ کو بھی اندازہ ہوجائیگا کہ پرائیویٹ سکول اور سرکاری سکول میں فرق ہوتا ہے تو وہ صرف کام کرنے والے کی اپروچ کا ہوتا ہے ۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ڈسٹرکٹ ایدمینسٹریشن نے پچھلے دنوں آپ کو بہترین ہیڈماسٹر کا ایوارڈ دیا جوکہ قابل تحسین ہے ۔

استاد کے رتبے کا تعّین اسلام نے آج سے چودہ صدیاں پہلے ہی کیا ہے اور اس رتبے ہی کی وجہ سے آقاﷺ نے خود کو بھی استاد ہی گردانا ہے ۔ یہ رُتبہ اور اس رُتبے کا کمال اتنا بڑا ہے کہ تاریخ عالم کے بڑے بڑے قوم استاد ہی کی وجہ سے بڑے بنے ہیں ۔ ہماری پستی کی واحد وجہ اگر صرف یہی ٹہرادی جائے کہ ہم نہ خود کو استاد بناسکتے ہیں اور نہ استاد کی قدرومنزلت جان سکتے ہیں تو غلط نہیں ہوگا ۔

میں پورے پاکستان کی بات تو نہیں کرسکتا لیکن یہ میری خواہش ہوگی اگر ضلع بونیر کے ارباب اختیار سرکاری اور نجی سکولوں کے اساتذہ اور ہیڈماسٹرز کو صرف دو دنوں کے لئے اس سکول کا دورہ کرائیں تو مجھے یقین ہے کہ وہ سیکھ جائیں گے کہ کام کیسے کیا جاتا ہے ۔

جمیل الرحمٰن صاحب جیسے لوگ ہمارے معاشرے کے وہ ہیرے ہیں جو پس پردہ رہ کر ہی بہت کچھ کررہے ہیں اور جو کچھ نہیں کر رہے وہ ہر دم ہر لمحہ نظروں کے سامنے ہوتے ہیں ۔   ہم جب وہاں سے واپس آرہے تھے تو میں نے ایک دفعہ پیچھے پلٹ کر دیکھا تو جمیل الرحمٰن صاحب خود وہ دستر خوان صاف کر رہے تھے جس پر چند لمحے پہلے ہم سب نے کھانا کھایا تھا ۔

ہم دونوں برآمدے میں بیٹھے ہوئے تھے اور باہر جنوری کی سرد ہواؤں کے ساتھ بارش برس رہی تھی ۔ ٹھنڈ کافی ذیادہ تھی لیکن میں اُس کی باتوں میں کچھ ایسا گُھم ہوا تھا کہ آس پاس سے بے خبر صرف اُس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھا ۔ میں نے اُس سے پوچھا " آپ نے درس و تدریس کا شعبہ کیوں منتخب کیا ؟   اُس نے برستی بارش کی طرف دیکھا ، چادر سے خود کو ڈھانپا اور مُسکرا کر جواب دیا " حضرت عمر ؓ میرے آئیڈیل ہیں اور میں خلیفہ دوم کی یہ خواہش کھبی بھی نہیں بُھلا سکتا جو آپ نے ایک دفعہ ظاہر کرکے کف افسوس مل لی تھی کہ کاش میں استاد ہوتا ،تو اُس رُتبے کا حقدار بنتا جو رُتبہ استاد کو ہمارے دین اور آقاﷺ نے دیا ہے ۔ ''   یہ رُتبہ کتنا بڑا ہے اور اس سے منسلک لوگ معاشرے کو کہاں سے کہاں پہنچاسکتے ہیں یہ بتانے سے پہلے آپ جمیل الرحمٰن کی کہانی ملاحضہ کیجیئے -   جمیل الرحمٰن ضلع بونیر کا رہائشی ہے اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتا ہے ۔ جون 1964 ء کو بونیر کے انتہائی پسماندہ گاؤں باجکٹہ میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی سکول کبل سے آپ نے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ مطالعہ پاکستان میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور پھر جاکر خود کو درس و تدریس کے شعبے سے منسلک کیا - یہ شعبہ اس کے لئے کتنا اہم ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جس بھی سرکاری سکول میں آپ کی ٹرانسفر ہوتی ہے وہاں حالات پلٹا کھاتے ہیں اور پورا سیٹ اپ تبدیل ہوجاتا ہے ۔ ہم پوری قوم وسائل کا رونا رورہے ہیں اور اس شعبے سے منسلک جتنے بھی لوگ ہیں خاص طور پر گورنمنٹ سیکٹر میں وہ تو بالکل حرکت بھی نہیں کرتے کیونکہ ان کے پاس ہمیشہ وسائل کا فقدان جو ہوتا ہے ۔  بونیر تو ویسے بھی پسماندہ علاقہ ہے لیکن یہاں چغرزی کا علاقہ اس جدید دور میں بھی بنیادی ضروریات سے محروم ہے ۔    میں پچھلے دنوں اسی چغرزی کے علاقے پاندھیڑ گیا اور وہاں گورنمنٹ ہائی سکول کا دورہ کیا جہاں جمیل الرحمٰن صاحب ہیڈ ماسٹر ہیں ۔ جیسے ہی میں سکول کے احاطے میں بمع اپنی ٹیم داخل ہوا میری حیرانی کی انتہا نہ رہی کیونکہ سکول کی عمارت عالیشان بنگلے کا منظر دے رہی تھی ۔  چُھٹی کا دن تھا لیکن طالب علم موجود تھے اور امتحان کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے ۔ ان کے اساتذہ بھی ان کے ساتھ موجود تھے اور ان کی مدد کر رہے تھے ۔ میں زندگی میں پہلی دفعہ کسی سرکاری سکول میں ہاسٹل کی اتنی بہترین سہولت دیکھ رہا تھا ۔ میں جیسے ہی ایک کمرے کے اندر گیا میری نظریں سامنے سیکیورٹی کیمرے پر پڑی ۔ میری حیرانی دیکھ کر جمیل الرحمٰن صاحب نے مجھے بتایا کہ یہ سیکیورٹی کیمرے پورے سکول کے ہر کمرے میں نصب ہیں اور میں ان تمام کیمروں کو اپنے دفتر سے مانیٹر کرتا ہوں ۔استاد کس وقت کیا کر رہا ہوتا مجھے لمحے لمحے کی خبر ہوتی ہے ۔ وہاں سے میں مذکورہ سکول کے امتحانی ہال میں داخل ہوا جو بہت ہی سلیقے سے بنایا گیا تھا اور یہاں بھی چاروں طرف سیکیورٹی کیمرے نصب تھے ۔ اس ہال میں ایک بہترین چبوترہ لگایا گیا ہے جہاں دوران امتحان اساتذہ کرام پورے ہال کو مانیٹر کررہے ہوتے ہیں ۔   میں نے اس سرکاری سکول میں ایک بہترین کمپیوٹر لیبارٹری بھی دیکھی ۔ تیس کمپیوٹرز پر مشتمل اس لیبارٹری میں بچّوں کو جب استاد پڑھاتے ہیں تو سامنے دیوار پر لگی بہترین کرسٹل ایل ای ڈی سکرین پر ان کو سب کچھ نظر آرہا ہوتا ہے ۔ یہ اگرچہ ایک عام سی بات ہے لیکن میں حیران اس وجہ سے ہوا کہ سرکاری سکولوں میں ایسی دیکھ بال میں نے کھبی نہیں دیکھی ۔  جمیل الرحمٰن صاحب نے اپنے دفتر کے بالکل سامنے ایک بورڈ لگایا ہوا ہے جس پرسرکاری اخراجات کی پوری تفصیل موجود ہے ۔ ضلع بونیر کے ناظم اعلیٰ نے اس سکول کو چوبیس لاکھ روپے دیئے تھے جس میں آٹھ ہزار پانچ سو فٹ سنی گرے ماربل پورے سکول میں لگایا گیا ہے ۔ انہی پیسوں میں ایک بہترین ہیڈماسٹر آفس ، پورے سکول کے لئے سولر سسٹم ، گلے سڑے پرانے کھڑکیوں کی جگہ تیرہ نئی کھڑکیاں اور نو نئے دروازے بنائے گئے ہیں جبکہ   بچّوں کی سہولت کے لئے سکول کے ایک عمارت سے دوسرے عمارت تک جانے کے لئے ایک پُل پر کام زیر توجّہ ہے ۔   آپ جمیل الرحمٰن صاحب کا کمال دیکھیئے کہ آپ نے سابقہ سکول میں چار لاکھ سرکاری خرچے پر تین کمرے بنائے تھے جبکہ ایک کمرے کا سرکاری ریٹ تقریباً آٹھ لاکھ ہے ۔ آپ حیران رہ جائیں گے کہ وسائل کے حوالے سے ان کا اپروچ حیران کردینے والا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ سارے کام اللہ بناتا ہے اللہ ہی آسانیاں پیدا کرتا ہے بس انسان دو کام کریں ۔ اپنی نیت صاف رکھیں اور مسلسل جدوجہد کریں ۔  ہماری ٹیم کے ساتھ یہاں ناظم اعلیٰ بونیر ڈاکٹر عبید اللہ صاحب کی بھی ملاقات ہوئی ۔ ڈاکٹر صاحب بھی جمیل الرحمٰن صاحب کے حوالے سے کافی بہترین تاثرات رکھتے تھے ۔ اس نے اِس علاقے کے لوگوں کو خوش قسمت قرار دیا جو یہاں جمیل الرحمٰن صاحب جیسے لوگ اس علاقے کے لوگوں کے لئے دن رات اتنی محنت کر رہے ہیں ۔   اب ہم آتے ہیں کہ یہ اپروچ ہر استاد یا سرکاری سکول کے ہر ہیڈماسٹر کے پاس کیوں نہیں ۔  بنیادی چیز جو میں نے جمیل الرحمٰن صاحب کی زندگی اور جاب میں نوٹ کی وہ یہ تھی کہ آپ اللہ کی رضا کو بالائے طاق نہیں رکھتے ۔ آپ جو بھی کرتے ہیں جو بھی سوچتے ہیں اُس میں اللہ کی ذات اور رضا شامل ہوتی ہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہماری زندگی میں بحیثیت قوم موجود نہیں ۔ میں نے یہی بات اُس سے پوچھی کہ بونیر کے اور سکولوں میں اتنی محنت کیوں نہیں ہوتی تو یہی بات اُس نے بھی کہی کہ ہم اگر اللہ کے ساتھ اپنے معاملات چاہے وہ نجی ہوں یا اجتماعی ہوں سیدھے رکھیں تو ہم ہر مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں - دوسری جو سب سے اہم بات میں نے اس سے سیکھی وہ یہ تھی کہ سکول میں جتنے بھی بچّے پڑھنے کے لئے آتے ہیں اُن کے حوالے سے وہ یہ کہتے ہیں کہ انہی بچّوں کی وجہ سے ہمیں تنخوائیں ملتی ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنا رزق پاتے ہیں اور اپنے ہی اولاد کو زندگی کی ہر سہولت فراہم کردیتے ہیں سو ہمارے لئے ان بچّوں سے ذیادہ اہم اور کچھ نہیں ۔  آپ اگر اس بے مثال ، محنتی اور جان لڑانے والے انسان کی کاوشوں کا قریب سے انداذہ لگانا چاہتے ہیں تو آپ ایک دفعہ ضرور اس سکول کا دورہ کرلیں جہاں جا کر میری طرح آپ کو بھی اندازہ ہوجائیگا کہ پرائیویٹ سکول اور سرکاری سکول میں فرق ہوتا ہے تو وہ صرف کام کرنے والے کی اپروچ کا ہوتا ہے ۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ڈسٹرکٹ ایدمینسٹریشن نے پچھلے دنوں آپ کو بہترین ہیڈماسٹر کا ایوارڈ دیا جوکہ قابل تحسین ہے ۔  استاد کے رتبے کا تعّین اسلام نے آج سے چودہ صدیاں پہلے ہی کیا ہے اور اس رتبے ہی کی وجہ سے آقاﷺ نے خود کو بھی استاد ہی گردانا ہے ۔ یہ رُتبہ اور اس رُتبے کا کمال اتنا بڑا ہے کہ تاریخ عالم کے بڑے بڑے قوم استاد ہی کی وجہ سے بڑے بنے ہیں ۔ ہماری پستی کی واحد وجہ اگر صرف یہی ٹہرادی جائے کہ ہم نہ خود کو استاد بناسکتے ہیں اور نہ استاد کی قدرومنزلت جان سکتے ہیں تو غلط نہیں ہوگا ۔  میں پورے پاکستان کی بات تو نہیں کرسکتا لیکن یہ میری خواہش ہوگی اگر ضلع بونیر کے ارباب اختیار سرکاری اور نجی سکولوں کے اساتذہ اور ہیڈماسٹرز کو صرف دو دنوں کے لئے اس سکول کا دورہ کرائیں تو مجھے یقین ہے کہ وہ سیکھ جائیں گے کہ کام کیسے کیا جاتا ہے ۔   جمیل الرحمٰن صاحب جیسے لوگ ہمارے معاشرے کے وہ ہیرے ہیں جو پس پردہ رہ کر ہی بہت کچھ کررہے ہیں اور جو کچھ نہیں کر رہے وہ ہر دم ہر لمحہ نظروں کے سامنے ہوتے ہیں ۔   ہم جب وہاں سے واپس آرہے تھے تو میں نے ایک دفعہ پیچھے پلٹ کر دیکھا تو جمیل الرحمٰن صاحب خود وہ دستر خوان صاف کر رہے تھے جس پر چند لمحے پہلے ہم سب نے کھانا کھایا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں