ماضی کے بادشاہ جوتوں کے سامنے بے اوقات ٹھہرتے ہیں تحریر عبدالجبار دریشک 235

ماضی کے بادشاہ جوتوں کے سامنے بے اوقات ٹھہرتے ہیں تحریر عبدالجبار دریشک

وقت کبھی نہیں روکتا وہ ہمیشہ اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے۔ وقت جاندار کو اور بے جان دونوں کو اس کی اوقات یاد دلا دیتا ہے وقت تو سورج کو بھی غروب کر دیتا ہے اور چاند کو بھی گھٹا دیتا ہے۔

کبھی جو تخت نشین بادشاہ تھے جن کے دروازے پر لوگ فریادی بن کر جاتے تھے آج وہی بادشاہ فریادی بن گئے ہیں کیوں ؟ کیونکہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا

یہ طاقت ،یہ شہرت ، یہ عہدے ، یہ اختیارات ،بس عارضی تسکین ہیں جب یہ چلے جاتے ہیں تو بس ایک بے اختیار سا جسم ہوتا ہے جو نہ چند قدم چل سکتا ہے نہ ہی کچھ اپنی مرضی سے کر سکتا ہے نہ کھا سکتا ہے نہ پی سکتا ہے، بس ایک بے اوقات حثیت رہے جاتی ہے




پھر اس دور کے وقت کے بادشاہ کی مرضی وہ اسے کسی گھر کے کونے میں سجا کر رکھے یا اٹھا کرباہر پھینک دے۔ پھر ایک دن یوں بھی آتا ہے کوئی ان سب کو اٹھاتا ہے جس میں ماضی کے بادشاہ بھی ہوتے ہیں فریادی بھی ہوتے ہیں مظلوم بھی ظالم بھی مہنگے بھی سستےبھی ، سچے بھی جھوٹے بھی سب کو سٹرک کے کنار رکھ کر ان کی اوقات چیک کرتا ہے کہ ان کی آخری سانس کی قیمت کیا لگتی ہے

پھر وقت تو ظالم ہے اور اس وقت میں رہنے والے اس سے بھی بڑے ظالم ہیں جو ماضی کے بادشاہ کی بجائے جوتے کی قدر کرتے ہیں چلو پاؤں کے کام تو آئے گا۔ بادشاہ کو تو پاؤں میں بھی جگہ نہیں ملتی

اس دنیا میں آپ نے بڑے بڑے تیس مار خاں دیکھے ہوں گے، بڑے بڑے دولت والے ، جسمانی طاقت والے ، عہدے اور اختیارات والے آفیسر اور بیوروکریٹ دیکھے ہوں گے جن کے قلم کی نوک کے نیچے لوگوں کی قسمت کے فیصلے ہوتے ہوں گے۔جب لوگ ان سے ڈرتے تھے تو وہ دل تسکین لیتے تھے کہ اس کے بس دنیا کی بہت بڑی طاقت ہے۔ لیکن جب عمر کے ایک ایسے حصے میں پہنچے جب نہ عہدہ رہا نہ وہ طاقت پھر بے بسی ہوتی ہے یا وہ ہوتے ہیں پھر وہ وقت کو پیچھے لے جانے کی کوشش کرتے ہیں پر وقت ایک پل کی بھی مہلت نہیں دیتا پھر یوں ہوتا کہ




ماضی کے بادشاہ جوتوں کے سامنے بے اوقات ٹھہرتے ہیں

عبدالجبار دریشک

ماضی کے بادشاہ جوتوں کے سامنے بے اوقات ٹھہرتے ہیں تحریر عبدالجبار دریشک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں