364

ڈالر صرف کاغذ کا ٹکرا ہو گا – تحریر عبدالجبار دریشک

روس اور چین برسوں سے ایک خاموش منصوبے پر کام کررہے ہیں جس میں دونوں ممالک مل کر دنیا پر اپنی حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے سب سے پہلے وہ امریکہ کو راستے سے ہٹا کر اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کریں گے

یہ دونوں ممالک اپنی اپنی جگہ اپنے منصوبے پر عمل کر رہے ہیں ان میں سے کوئی ایک ملک اکیلا امریکا کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا دونوں میں سے ایک معاشی طور پر دنیا میں قدم جماتا گیا جبکہ دوسرا دفاعی اور خفیہ سروس کی مدد سے آگے بڑھتا رہا اب امریکا ان دونوں کی پالیسوں کے شکنجے میں آ چکا ہے نہ تو اس کے پاس اتنا سرمایہ ہے کہ وہ مزید دنیا کے ممالک پر اپنا قبضہ جما سکے اور نہ ہی دفاعی صلاحیت اتنی نہیں ہے کہ وہ اب کسی کو ڈرا سکے اس لیے تو امریکا افغانستان اور شام سے بھاگ رہا ہے




امریکہ کی بدمعاشی ڈالر کی وجہ سے بھی قائم ہے چین اور روس اب اس منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں کہ ڈالر کی اجارہ داری کو ختم کیا جائے اس لیے یہ دونوں ممالک اپنے کاروبار ڈالڑ کی بجائے دوسری کرنسیوں میں کر رہے ہیں

روس نے اس منصوبے میں ایک بڑا قدم اٹھا ہے اس نے اپنے سو ارب ڈالر کے زرمبادلہ کو دوسری کرنسیوں میں تبدیل کر دیا اور اب وہ ان ممالک سے ان ہی کی کرنسی میں کاروبار کر گا

سینٹرل بینک کی تازہ ترین سہ ماہی کی رپورٹ کے مطابق روس کے بین الاقوامی ذخائر میں امریکی کرنسی کا حصہ مارچ اور جون 2018 کے درمیان 43.7 فیصد سے کم ہو کر تقریبا 21.9 فیصد کے درمیان ڈرامائی طور پر کم ہوا ہے۔ روس اپنی اس پالیسی پر گزشتہ ایک سال سے گامزن ہے جس سے عالمی تجارت کا انحصار امریکی ڈالر پر کم سے کم کیا جائے اور متبادل کرنسیوں میں تجارت کے فروغ سے اپنے اتحادی ممالک کو معاشی طور پر تقویت دی جائے۔




ڈالر کی تبدیلی سے یورومیں 32 فیصد اور چینی یوآن میں 14.7 فیصد ، دوسری کرنسیوں میں 14.7 فیصد ، بشمول برطانوی پونڈ 6.3 فیصد، جاپانی ین 4.5 فیصد، کینیڈین 2.3 فیصداور آسٹریلوی ڈالر1 فیصد اضافہ ہوا ہے.

غیر ملکی کرنسیوں میں سونے کی مجموعی اثاثوں اور سونے کی قیمت جولائی 2017 سے جون 2018 تک 40.4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی، جس میں 458.1 بلین ڈالر تک پہنچ گئی.

چین اور روس نے اپنے منصوبے پر ایسے عمل جاری رکھا تو بہت جلد ڈالر صرف کاغذ کا ٹکرا ہو گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں