خود اعتمادی اور ہمارے روئیے - تحریر سنبل جان صدیقی 246

خود اعتمادی اور ہمارے روئیے – تحریر سنبل جان صدیقی

تحریر سنبل جان صدیقی
کردار کی بلندی شخصیت کی مضبوطی سے تعبیر ہے۔ مثبت خیالات کے چشمے پرسکون ذہن کے گوشوں سے پھوٹتے ہیں۔ کامیابی کی عمارت خودشناسی کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے خودشناسی خوداعتمادی کو جنم دیتی ہے اور خوداعتمادی کاروان حیات کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔

خوداعتمادی ہی وہ مشعل ہے جس کی روشنی میں انسان زمانے کی تاریکیوں میں بلا خوف و خطر بڑھتا چلا جاتا ہے۔راہ میں آنے والے مصائب برداشت کرتا ہے مقصد سے روکنے والی بلاؤں کا سینہ تان کر مقابلہ کرتا ہے حوادث سے ٹکراتا ہے راستے کی اونچ نیچ سے بےپرواہ اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور پھر وہاں تک پہنچتا ہے جس کی اس نے کھبی آرزو کی تھی۔

ماضی اور حال کے نامور اور کامیاب لوگوں کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ یہ سارے لوگ مضبوط قوت ارادی کے مالک تھے۔خود پر اور اپنے ارادوں پر اعتماد نے انہیں سطح سے نکال کر ہجوم میں نمایاں کردیا ہر چند کہ ان کی زندگی میں خارجی مشکلات بہت تھی کسی کو غربت کا سامنا تھا تو کوئی زمانے کی بےحسی کا شکار کسی کو دشمنوں سے خطرہ تھا تو کسی کے اپنے ہی اس کیلئے سدراہ جغرافیائی مشکلات سے لیکر نظریاتی مزاحمت تک پر قسم کے حالات انہوں نے جھیلے لیکن جس چیز نے انہیں ثابت قدمی عطا کی وہ ان کی مضبوط قوت ارادی تھی۔اپنے اونچے عزائم اور منفرد ارادوں کے ساتھ وہ آگے بڑھے اور لاکھ مخالفت کے باوجود کامیابی نے انہیں گلے لگا لیا۔انہیں نام بخشا اور کامیاب زندگی عطا کی۔




تاریخ میں کوئی بھی مثال کم ہمت لوگوں کے حق میں نہیں ملتی۔کسی کمزور قوت ارادی کے مالک کو کامیابی کے زینے چڑھتے نہیں دیکھا۔اسے دیکھا گیا ہے تو ہمیشہ پست ناکام اور ناخوشگور زندگی کا مالک جس کی زندگی کا کل متاع عروج کی حسرتیں ہوتی ہیں جو خوابوں کے سہارے جیتا ہے اور مصائب کی راہ اختیار کرتا ہے۔اپنی ذات کے خول میں بیٹھ کر مکمل زندگی کی خواہش کرتا ہے ۔اس کی سوچیں منفی ہوجاتی ہے وہ خودترسی اور بعض اوقات انانیت کا شکار ہو جاتا ہے سکون کی تڑپ میں ہمیشہ بےسکون رہتا ہے اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کر کے اپنے حالات پہ کڑھتا رہتا ہے اور یہاں سے اس کی بےنیازی یا شاید بےحسی کا سفر شروع ہوجاتا ہے اپنے اندر کی تلخی اسے دوسروں کی مشکلات سے بےنیاز کردیتی ہے اپنے ذات کی محرومیاں سمیٹتے سمیٹتے وہ دوسروں کی جذبات سے بیگانہ ہوجاتا ہے۔ مستقل الجھن کا شکار اس کا ذہن مثبت سوچنے سے قاصر ہوجاتا ہے کیوںکہ جس کا اپنا دامن چھلنی ہو وہ دوسروں کی جھولی کیا بھرے گا جس کا اپنا چھاگل خشک ہو وہ اوروں کو کیا سیراب کریگا جو خود اندھیرے میں ہو منبع نور کیسے بنے گا خزاں رسیدہ درخت ثمربار و سایہ دار کیسے بن سکتا ہے دھویں سے سموگ تو بن سکتا ہے کہر نہیں۔

ہمارے معاشرے کا ہر دوسرا فرد اعتماد کی کمی اور شخصیت کے ادھورے پن کا شکار ہے اور اس کی جڑیں ناقص تربیت کی بنیادوں میں پیوست ہے۔والدین اور اساتذہ کا معمولی حوصلہ شکن رویہ ایک بچے کو دیمک کی طرح اندر ہی اندر کھوکھلا کردیتا ہے،اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی۔نادانستگی میں روا رکھے گئے رویے عمر بھر کا روگ بن جاتے ہیں۔ ہجوم کے سامنے لگا کوئی تھپڑ،کوئی طنز،کوئی بےعزتی ،کوئی ڈانٹ،بہن بھائی کے ساتھ کوئی موازنہ،بچے کی پسند کی کسی چیز کو حقیر سمجھنے کا رویہ ،خود کیلئے اٹھائے گئے فیصلوں میں بچے کو سمجھنے یا سمجھانے کے بجائے پتک آمیز رویہ اختیار کرنا بچے کی شخصیت کیلئے ناسور بن جاتا ہے۔والدین بچوں کی ذہنیت سے قطع نظر سب سے ایک جیسا برتاؤ اور ایک جیسے توقعات لگاتے ہیں ان پہ پورا نہ اترنے کے بعد تنقید کرتے ہیں جس سے بچے کی اپنی صلاحیتیں معدوم اور خود پہ اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔




اکثر گھروں میں دیکھا گیا ہے کہ بات عموماً اس بچے کی سنی جاتی ہے جو شوخ باتونی اور اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرنے والا ہو جو تھوڑا شرمیلا اور خاموش ہو یا جو اپنے جذبات کا اظہار نہ کرسکتا ہو وہ نظرانداز ہو جاتا ہے تنہائی پسند بن جاتا ہے اور گھروالوں سے خود کو دور محسوس کرتا ہے جس سے نامکمل پن اس کی ذات کا مستقل حصہ بن جاتا ہے اور اس کی شخصیت ادھوری رہ جاتی ہے۔

ہماری ذرا سی توجہ ذرا سی برداشت ایک انسان کی زندگی مکمل بنا سکتی ہے۔والدین کا خوبصورت رویہ کامیاب لوگوں کو جنم دے سکتا ہے اساتذہ کا میٹھا لہجہ کسی کی پوری زندگی میں مٹھاس گھول سکتا ہے کسی کا حوصلہ افزا رویہ دوسرے کی شخصیت بدل سکتا ہے۔آپ کے چند امید افزا بول کسی کو مایوسی سے نکال سکتے ہے روشنی سے روشناس کرسکتے ہیں اور سکون سے آراستہ کرسکتے ہیں۔اپنے رویوں پہ غور کریں آپ کی کسی بات سے دوسرے کی عزت نفس مجروح تو نہیں ہورہی ایسے سائیڈ پہ رہنے والے لوگوں کو ڈھونڈئے اور اپنے گفتار اور کردار سے ان کی زندگیاں بدلنے کی کوشش کریں یہی معاشرے پہ آپ کا سب سے بڑا احسان ہوگا۔

خود اعتمادی اور ہمارے روئیے - تحریر سنبل جان صدیقی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں