اندر کا سانپ 209

اندر کا سانپ، تحریر عبدالجبار دریشک

فرعون نے حضرت موسٰی علیہ سلام کو شکست دینے کے لیے ایک بہت بڑا میلہ لگوایا جس میں فرعون نے اس دور کے ناموار جادو گروں کو اس میلے میں بلوایا کہ وہ کسی طرح حضرت موسٰی علیہ سلام کو شکست دے سکیں، جب میلہ میں تمام لوگ اور تمام جادو گر پہنچ گئے تو سب سے پہلے جادو گروں نے اپنے جادو کا آغاز کیا۔

ان جادو گروں کے ہاتھ میں رسیاں تھیں جب انہوں نے وہ رسیاں زمین پر پھینکی تو وہ سانپ بن گئیں اور مجمے میں دوڑنے لگیں اور لوگوں کے آگے جا کر یہ سانپ پھنکارنے لگے، سب حیران ہو گئے کہ یہ بہت بڑا کمال ہے۔




جب حضرت موسٰی علیہ سلام کی باری آئی تو انہوں نے اپنا عصا زمین پر پھینکا ۔ اس عصا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ سلام کے پاس تھا جس کو جنت سے فرشتے نے لاکر حضرت آدم علیہ سلام کو دیا تھا اس عصا میں دو خصوصیات تھیں جب حضرت آدم علیہ سلام کوہ آدم سری لنکا کے جنگلوں سے سفر کر رہے تھے تو رات کے وقت یہ عصا روشن ہو جاتا جس سے انہیں سفر کرنے میں آسانی رہتی۔ جبکہ دن کی اوقات میں عصا رزق کی تلاش میں مدد دیتا تھا۔

جب حضرت موسیٰ علیہ سلام نے عصا زمین پرپھنکا تو وہ ایک بہت بڑا آژدھا بن گیا جس نے جادو گروں کے تمام سانپوں کو ہڑپ کر لیا۔

حضرت موسیٰ علیہ سلام کے اس واقعہ کا ذکر قرآن پاک میں ہے اور اسی واقعہ کی وجہ سے سانپ کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے۔

سانپ کو ایک خطر ناک رینگنے والے جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے جو انسان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سانپ ہمیشہ ڈنگ مارتا ہے ڈنس لیتا ہے، لیکن جب اکثر ہم انجانے میں یہ کہے دیتے ہیں کہ فلاں کو سانپ نے کاٹا لیا ہے ارے بھائی سانپ ڈنستا ہے کتا کاٹتا ہے یہ دیکھیں جو اعلانیہ کسی پر حملہ کرے وہ کاٹتا ہے جسے کتا وغیرہ وغیرہ …..
جو ڈنستا ہے وہ بھونکتا نہیں ہے بلکہ کے خاموشی سے اپنا زہر دوسرے میں منتقل کرتا۔




ابتک ہم یہ بھی سمجھتے رہے ہیں کتا سونگنے میں مہارت رکھتا ہے لیکن کتا بچارہ تو سانپ کے آگے کچھ بھی نہیں سو کتے جمع کرلیں ایک سانپ کے برابر بھی نہیں ہو سکتے۔

سانپ میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے نتھنوں کے ذریعے ہوا اندر کھینچ سکیں اور تیزی سے اپنے شکار کی بو سونگھ سکیں۔ ایسا کرنے کے لیے انہیں ایک خصوصی عضو پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ جسے جیکب سنز آرگن یا عضو کہتے ہیں۔ یہ سانپ کے منہ کی اندر کی طرف بالائی سطح کے اندر گہرائی میں پایا جاتا ہے۔

یہ عضو بو یا باس وغیرہ کی شناخت کرتا ہے۔ اس عضو کو بو پہچانے کا کام سانپ کی زبان کرتی ہے سانپ کی زبان کی دو شاخیں ہوتی ہیں اور یہی زبان سانپ کے لیے ریڈار اور اینٹنا کا کام دیتی ہے سانپ کی زبان بو کو جیکب سنز آرگن تک پہنچاتی ہے، سانپوں کو دو شاخہ زبان حساس انٹینا کی طرح نہ صرف فضا میں سے بو کو جذب کرتی ہے بلکہ شکار کے مقام، سمت اور رفتار کے بارے میں بھی معلومات مہیا کرتی ہے اس کا کام کسی حد تک ریڈار کی طرح کا ہوتا ہے۔

دنیا میں اس وقت سانپوں اَقسام تقریباً 2,800 ہے لیکن اِن میں سے محض تقریباً 280 سانپ زہریلے ہوتے ہیں۔ ہر سال کسی زہریلے سانپ کا شکار بننے والےتقریباً 2.5 ملین انسانوں میں سے لگ بھگ ایک لاکھ کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور قسم کا سانپ ہوتا ہے جس کی شناخت آج تک سانئس نہیں کر سکی اس کے بارے میں آگےچل کر بتاتا ہو پہلے دنیا کے پانچ خظرناک ترین سانپوں کے بارے میں بھی جان لیں




انلینڈر تائپن
یہ سانپ زمین پر پائے جانے والے سانپوں میں سب سے زہریلا ہوتا ہے۔

ایسٹرن براون اسنیک
اس زہریلے سانپ کا زہر کا 14,000واں حصہ ہی کسی انسان کو ختم کرنے کے لئے کافی ہے

بلیک مامبا
بلیک مامبا افریقہ میں پایا جاتا ہے، یہ زمین پر سب سے تیز رفتار میں چلنے والا سانپ ہے۔ یہ 20 کلومیٹر فی گھنٹے کی تیزی سے کرتا ہے اپنے شکار کا پیچھا۔

فلیپین کوبرا
فلیپین کوبرا میں سب سے زیادہ زہر ہوتا ہے، اس کی خاصیت ہے کہ یہ اپنے شکار کو ڈستا نہیں بلکہ اس پر اپنا زہر تھوکتا ہے۔

ریٹل اسنیک
شمالی امریکہ میں پائے جانے والے یہ سانپ بچوں کے جھنجھے کی طرح آواز کرتے ہیں

یہ تو تھے خطرناک سانپ لیکن انڈونشیا میں انسان سانپوں کا کاروبار کرتے ہیں انہیں پالتے ہیں جب وہ بڑے ہو جاتے ہیں تو ان کی کھال اتار کر فروخت کر دیتے ہیں سانپوں کی کھال سے بہت قیمتی پرس بلیٹ اور دیگر فیشن برانڈ تیار ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ مہنگے کہلاتے ہیں۔

اب دنیا میں سانپ کا کیا حشر ہوتا ہے یہ سب جانتے ہیں چاہے وہ کتنا ہی زہریلا کیوں نہ ہو اس کا سر کچلا جاتا ہے یا اس کی کھال اتار لی جاتی ہے اس کی کھال کے ٹکر کر کے اس سے پرس بنا کر پھر انسان کی جیب میں رکھنے کے لیے دے دیا جاتا ہے

اب اس سانپ کا ذکر جس کی قسم نسل آج تک سانئس بھی نہیں بتا سکی اس کی پہچان مکمن ہی نہیں کیوں کے وہ سانپ خود انسان کے اندر ریتا ہے اور جب وہ کسی کو ڈسنتا تو تب وہ انسان سےسانپ بن جاتا ہے جس کی صرف پہچان اس ڈنگ کھانے والے کو ہوتی کہ محترم آستین کے سانپ تھے

تو بجائے اپنے اندر سانپ پالنے اس سانپ کو اپنے اندر ہی کیوں نہ مار دیا جائے بجائے دوسروں کے ہاتھوں سرکچلاونے اور کھال اتارنے سے بہتر ہے اسی زہر کو تھوک کی طرح گندگی پر پھینک دیا جائے، جب زہر نکال دیں گے تو مٹھاس کا جنم خود بخود ہو جائے گا جس کا فائدہ خود کی ذات کے ساتھ دوسروں کو بھی ہوگا۔

اندر کا سانپ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں