Buner tv

فلمیں معاشرے پر اثرات چھوڑتی ہیں- تحریر عبدالجبار دریشک

والٹ ڈزنی 5 دسمبر 1901 کو شکاگو امریکہ میں پیدا ہوا سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد والٹ ڈزنی نے آرٹ کی تعلیم حاصل کی اور پہلی جنگ عظیم میں ریڈکراس تنظیم میں ایمبولینس چلایا کرتا تھا۔ والٹ ڈزنی ایک تخلیق کار شخص تھا اس لیے ایمنولنس کی نوکری چھوڑ کر فلموں کی ایک فرم کے لیے سلائیڈز تیار کرنے کے کام کا آغاز کر دیا۔ والٹ ڈزنی نے اپنے اسی فن کی وجہ سے کارٹون کا مشہور کردار مکی ماؤس تخلیق کیا۔ جس کے بعد والٹ ڈزنی نے 1923 میں ڈزنی فلم کے نام سے کمپنی بنائی۔

فلمیں معاشرے پر اثرات چھوڑتی ہیں

والٹ ڈزنی کی کمپنی ڈزنی نے ابتداء میں بچوں کے لیے کارٹون فلمیں بنایا کرتی تھی جن میں ان کی مشہور فلموں میں فینٹیسیا، سینڈریلا، لیڈی اینڈ ٹریمپ، سلیپنگ بیوٹی اور جنگل بُک شامل ہیں۔ جبکہ ان فلموں کو بنانے والٹ ڈزنی کو اپنے سے بھی بڑا تخلیق کار اولی جانسٹن ملا جس کے فن کی وجہ سے ڈزنی کمپنی نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔

فلمیں معاشرے پر اثرات چھوڑتی ہیں

اولی جانسٹن نے 1942 میں ایک بامبی نامی ہرن کے بچے کے کردار کو اپنے آرٹ کی شکل میں تخلیق کیا۔ جبکہ بامبی کو لفظوں میں تخلیق کرنے والا مشہور مصنف فلکسن سلٹن تھا جس نے بامبی ہرن کی کہانی لکھی تھی بامبی ایک ہرن کا بچہ تھا جس کی ماں کو شکاریوں نے شکار کر لیا تھا۔ بامبی اتنی مشہور ہوئی کہ اب تک اس کردار کی کئی فلمیں بنائی جا چکی ہیں۔ بامبی جانور کے شکار کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے بنائی گئی کارٹون فلم تھی جس میں بچوں کو جانوروں سے پیار کرنے کے بارے سبق دیا گیا ہے۔

والٹ ڈزنی بچوں سے بہت پیار کرتا تھا اور وہ اپنے بچوں اکثر پارک لے جایا کرتا تھا تو وہاں جا کر والٹ کو پریشانی اور مایوسی ہوتی کہ یہاں تو بچوں کے لیے کوئی جگہ مخصوص نہیں ہے جہاں وہ کھیل سکیں تب والٹ ڈزنی کے ذہن میں ڈزنی لینڈ بنانے کا خیال آیا کہ جہاں سب کچھ بچوں کے لیے ہی ہو، لیکن بڑے بھی بچوں کے ساتھ انجوائے کر سکیں۔




والٹ ڈزنی نے 1953 میں امریکا کی مشہور ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کے گرد و نواح میں160ایکڑ اراضی خریدی اور اس پر ایسا پارک تعمیر کروایا۔ جہاں بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی بچوں کی طرح ہی لطف اندوز ہونے لگے، آہستہ آہستہ یہ پوری دنیا کا سب سے زیادہ مشہور پارک بن گیا اور لوگ خاص طور پر ڈزنی لینڈپارک کی سیر کے لیے امریکا جانےلگے۔جب اس پارک کو لوگوں کے لیے کھولا گیا تو پہلے سال ہی10لاکھ سیاحوں نے اس پارک کی سیر کی، جودیکھتے ہی دیکھتے ہر سال دگنی ہوتی گئی۔

15 دسمبر 1996 کو والٹ ڈزنی اس دنیا سے رخصت ہوا۔ جبکہ بامبی کا تخلیق کار اولی جانسٹن بھی 14 اپریل 2008 اس دنیا سے رخصت ہو گیا، فلموں کے ان تخلیق کاروں کی تخلیق نے انسانوں پر ذہنوں پر بہت سارے نقوش چھوڑے جن کے آثرات واقعی میں ہوئے 1942 میں بامبی کی آج بھی اہمیت ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابھی چند دن پہلے ایک امریکی عدالت نے ہرن کے غیر قانونی شکار کرنے والے شکاری کو ایک سال قید کی سزا کے ساتھ ہر ماہ پورے ایک سال تک بامبی فلم دیکھنے کے بھی احکامات جاری کیے تاکہ مجرم کو صرف سزا دینا ہی مقصد نہ ہو بلکہ اسے احساس بھی دلایا جائے کہ وہ آئندہ ایسا جرم نہ کرے۔

فلم اچھی ہو یا بری وہ اپنے آثرات معاشرے پر چھوڑتی ہے، وقتی طور پر تو اس اثر کو محسوس نہیں کیا جا سکتا لیکن کچھ عرصے بعد اس بات کا اندازہ ہونے لگتا ہے کہ فلم کے آثرات پڑے ہیں تو کچھ بدلہ بدلہ سا زمانہ لگتا ہے، اب جیسے ذہن ہوں گے ویسی ان کی تخلیق ہوگی۔

ہمارے ہاں بچوں کی فلمیں کم ہی بنائی جاتی ہیں جب کے ان کم فلموں میں بھی کوئی خاص سبق نہیں ملتا لیکن ان فلموں کے آثرات محسوس کیے جاسکتے ہیں اب حال ہی میں گدھے پر بنائی گئی فلم ڈونکی راجہ ، اس فلم کو دیکھنے کے بعد ہر کسی کے دل میں گدھے کے لیے عزت احترام بڑھا ہے ، گدھے کو کم تر سمجھنے والے آج سب ہی اس گدھے جیسے بننا چاہتے ہیں گدھے کی فلم کا تخلیق کار کوئی والٹ ڈزنی ، اولی جانسٹن یا ناول نگار فلکسن تو نہیں تھا وہ تو بچارہ اور کیا سوچتا اس کے ذہن پر گدھا سوار تھا اس لیے اس نے گدھے کی فلم بنا ڈالی اور اس کا آثر یہ ہوا جیسے والٹ ڈزنی نے ڈزنی لینڈ بنایا ایسے ہی لاہور میں گدھوں کا ہسپتال بنا دیا گیا۔




چلیں یہ تو اچھا ہوا لاہور میں گدھوں کا ہسپتال بنا دیا گیا ہے ہمارے جو گدھے لندن علاج کروانے جاتے تھے وہ لاہور کے گدھا ہسپتال میں علاج کروا لیا کریں گے۔ اور جو گدھے لاہور جا کر واپس نہیں آتے وہ بھی بیمار ہونے پر اسی ہسپتال میں علاج کروالیا کریں گے۔

Buner tv

عبدالجبار دریشک

اپنا تبصرہ بھیجیں