صارف جاگ جا عبدالجبار دریشک کالمز

صارف جاگ جا تحریر عبدالجبار دریشک

Abdul Jabbar Khan Columns

صارف مصوم …سیلر چالاک
خریدار بچارہ …پیچنے والا مکار

صارف آنکھیں کھول کیا کھا رہا ہے کیا لے رہا
تیرے پیسے اصلی تو چیز لے رہا نقلی

اپنے ساتھ تو انصاف کر ….صارف جاگ جا

ہمارے معاشرے میں آج کل بھیڑ چال کا کلچر پروان چڑھ چکا ہے ایک کام جو کرے گا سارے اسی کے پیچھے پڑ جائیں گے کہ بس یہی کام کرنا ہے یہی صورتحال ہر کاروبار اور پیشے میں بنی ہوئی ہے کسی ایک کا کاروبار چل رہا ہوتا ہے تو سارے وہی کاروبار کرنا شروع کر دیتے ہیں ، بھائی اس میں تو بڑی انکم ہو گی۔

اب اس بھیٹر چال میں ہوتا کیا ہے سب اسی ایک کے نقشے قدم پر چلیں گے جو پہلے تھا سب سے آگے ہے۔ ایک بچارہ چنوں لعل کسی سٹرک کے کنار فرض کریں آئس کریم کی دوکان لگاتا ہے تو چند دنوں بعد منوں لعل بھی اسی جگہ آئس کریم ہی لگائے گا پھر کچھ دن بعد بہاری لعل بھی اسی جگہ اسلم بھی اسی جگہ

یہ سب کے سب چنوں کی نقل کریں گے جس رنگ چنوں لعل کی ڈبی ہوگی ،لوگو ہوگا، کرسیاں ، ٹیبل سب چنوں کی دوکان جیسا ہی بنا کر منوں ،بہاری اور اسلم گاہک کو چنوں کے نام کا دھوکہ دے کر اپنا سودا بیچیں گے۔

یہ تو عام سی مثال ہو گئی میں اس پوسٹ کے ساتھ بڑے بڑے برانڈز کے لوگو کی تصاویر ڈال رہا ہوں جس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کیسے بڑی کمپنیوں کا نام اور لوگو کی نقل لگا کر لوگ اپنا غیر معیاری سودا بیچتے ہیں اور عوام کو پاگل بناتے ہیں۔

یہ ایک قسم کا کاروباری ٹریک ہے کہ ایک بڑے برانڈ کا نام بنا ہوا ہے لوگ اس برانڈ کو آنکھ بند کر کے خرید لیتے ہیں تو بجائے اپنا کوئی نام بنانے کے اسی کے نام سے ملتا جلتا نام رکھ کر صارف کو دھوکہ دے کر بس اپنا مال بناؤ۔ ایسے نقلی جعلی اور نام استعمال کرنے والے کا سودا کیسے اصلی ہوسکتا ہے جب اس میں یہ اخلاقی جرت ہی نہیں کہ وہ اپنا نام بنائے مارکیٹ میں محنت کرے گاہکوں کا اعتماد حاصل کر ، بس بھیا یہ شارٹ کٹ طریقہ ہے لیکن اکثر ایسے کاروبار کرنے والے فلاپ ہوتے ہیں ایک نام سے بدنام ہونے کے بعد دوسرے نام سے کسی اور جگہ یا دوسرے شہر اپنا کاروبار منتقل کر لیتے ہیں۔




خریدار ، صارف، گاہک تو اپنے آپ کو چالاک سمجھتا ہے لیکن اس بچارے کو پتہ نہیں وہ خریدار ہے وہ ریٹ پر کمپرومائز کر لیتا ہے لیکن فروخت کرنے والا اپنا نقصان کبھی نہیں کرتا ۔

ویسے تو بہت سارے ایٹم چیزیں اور ضروریات زندگی کا سارا سامان اچھی کمپنیاں اپنا نام کوالٹی اور معیار پر بناتی ہیں لیکن مارکیٹ میں نئے آنے والے اس کا نام استعمال کرتا ہے نقلی ناموں والے گاہک کو ڈبل آفر دیتے ہیں کہ چیز کے بدلے یہ گفٹ ملے گا ، ایک کی قیمت میں دو ملیں گی وغیرہ وغیرہ

اب ذرہ یہاں بھی چالاکی ملاخط فرمائیں

آپ فوڈ ایٹم میں پیزے کی مثال لے لیں کہ ایک پیزے کے بدلے دوسرا فری ، اب پیزے والے کی چالاکی اور دھوکہ دہی دیکھیں اس نے پیز کے مشہور برانڈ پیز ہٹ ، Pizza hut کا نام استعمال کرنا ہے اس کے جیسا لوگو بنانا ہے اس سے ملتا جلتا نام رکھنا pizza hat , pizza het, thay pizza hut وغیرہ وغیرہ جیسے نام رکھ کر گاہک کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے

اگلا ان کاطریقہ واردات یہ ہے یہ لوگ ایک بدلے ایک فری کا چکر چلاتے ہیں یہ بات ذہن نشین کر لیں بڑے مشہور برانڈز ایسی آفرز سال میں شاید ایک آدھی بار دیتے ہو ورنہ نہیں دیتے ، بڑے برانڈز چھوٹے شہروں میں اپنی برانچز نہیں کھولتے وغیرہ لیکن حیرانی ہوتی ہے کہ از چھوٹے شہر میں بھی پیزا ہٹ ہے لیکن جب اس کے سپیلنگ پر غور کریں تو پہچان ہوتی ہے یہ نقلی اور جعلی برانچ ہے۔




ایک کےبدلے ایک فری کی کہانی

یہ لوگ جو پیزے فری آفر میں دیتے ہیں ایک کے بدلے ایک تو اچھے برانڈز اور معیاری پیزے کے سائز ،موٹائی ،میں فرق ہوتا ہوتا ہے ان کے سائز کم ہوتے ہیں
جیسے Standard پیزے سائز میں
Regular 8 inch
Medium 11 inch
Larrge 13 inch
کا ہوتا ہے اور ان کے یہ سائز نہیں ہوتے

اب یہ بہاری لعل منوں لعل اور اسلم اس سائز کو کم کر کے اپنے پیسے پور کر لیتے ہیں دوسرا یہ لوگ غیر معیاری اور سستا کوکنگ آئل استعمال کرتے ہیں اور اسی طرح تمام تر میڑیل ناقص استعمال کرتے ہیں

ممبر شپ کے نام پر دھوکہ

ایسے ٹپوری جھولو منوں لعل بہاری لعل گاہک کو ممبر شپ کے نام پر ماموں بناتے ہیں بڑے برانڈز میں ایسی پریکٹس نہیں کی جاتی ، ممبر شپ کے نام سے کارڈ فروخت کرتے ہیں بھائی جب ہم آپ سے چیز خرید رہے ہیں تو آپ کے ویسے ہی ممبر کہلائیں گے یہ تو بیوقوف بنانے کاطریقہ ہے کہ ممبر شپ کے پیسے دے کر گاہک پھنس جاتا ہے اور بار بار ممبر شپ کی بیڑی کی وجہ سے اسی کے پاس آتا رہتا ہے۔

ممبر شپ فروخت کرنے کے لیے خاص طور پر پیزا فاسٹ فوڈ والے سکولوں کا رخ کرتے ہیں پرنسپل کو آفر دیتے ہیں تین سو والا پیز آپ کو ہمیشہ دو سو میں ملے گا ہمیں سکول میں کارڈ فروخت کرنے دیں یہ اپنے ساتھ پرنسپل کے لیے مفت پیزا بھی لاتے ہیں، پرنسپل صاحب مفت پیزا نوچنے کے بعد انہیں سیدھا کلاس رومز تک جانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔




ایسے ہی ہمارے شہر میں کچھ عرصہ پہلے پیزا ہٹ کی جعلی دوکان کھلی تھی شہر میں کافی لوگوں کو ممبر شپ فروخت کی بعد میں پتہ چلا یہ لوگ دوماہ بعد عوام کو چونا لگا کر فرار ہو گئے ان کی ممبر شپ آفر پورے پاکستان میں پیزا ہٹ پر قابل قبول تھی یہ دعویٰ تھا ان کا حالانکہ حقیت میں ایسا کچھ نہ تھا۔

میرے ایک دوست نے بتایا کہ اس نے ایک مرتبہ کسی پیزا شاپ سے پیزا منگویا تو ڈیلوری ملنے کے ٹھیک دس منٹ بعد ایک اور بندہ پیزا ڈیلور کرنے آگیا یہ لیں سر یہ پیزا آپ کے لیے ہے وہ بھی فری میں ، دوست نے بتایا میں نے اس سے کہا بھائی جب میں نے منگوایا ہی نہیں تو فری میں کیسا اور پتہ نہیں تم کون ہو اور کہا سے آئے ہو پتہ نہیں تمہارے فری کے پیزے میں کیا ہے کوئی نشہ وغیرہ نہ ہو یہ کہے کر میرے دوست نے اسے واپس روانہ کردیا

مارکیٹ میں جگہ مقام اور ساکھ بنانے کے لیے وقت ضرور لگتا ہے جب نام بن جاتا ہے تو پھر جناب مارکیٹ میں صرف نام ہی بکتا ہے ، چوری کا نام کسی اور کا نام کب تک استعمال کیا جا سکتا ہے آج کے دور میں سب کچھ ایک کلک پر سامنے آجاتا ہے، اس جدید دور میں صارف بیوقوف بن رہا ہے تو پھر صارف کا اللہ حافظ ہے۔

مارکیٹ میں اپنا نام بنائیں ، آپ معیاری چیز بنائیں جو دل کرے اسے نام دے دیں ، جہاں دل کرے اسے پیچنا شروع کر دیں وہ مال بکے گا بس نیت صاف رکھیں ، دوسروں کی نقل کرنا شارٹ کٹ طریقہ ہے جو عارضی ہے۔




میرے ایک محترم دوست نے کچھ عرصہ پہلے ایک چھوٹے سے شہر میں پیزا شاپ بنائی تھی اس نے اس بات کا عہد کیا تھا گاہک کو معیار دینا پر نام اپنا بیچنا ہے کسی دوسرے کے نام کو استعمال کر کے گاہک کو دھوکہ نہیں دینا ، آج ماشاء اللہ میرے اس دوست کا کاروبار اچھا چل رہا اس کا اپنا ایک نام بن چکا ہے اس نے پیزا ہٹ کا نام چوری کر کے جعلی مال نہیں بنایا اس لیے وقت ضرور لگا ہے لیکن کامیابی ملی ہے۔

صارف ،گاہک ، اور خریدار کو بھی دیکھنا چاہیے جو پہلے کسی کا نام چوری کر کے کوئی چیز فروخت کر رہ ہے تو اس میں اپنا کو دم نہیں اگر دم ہوتا تو اپنے نام سے مارکیٹ میں آتا۔

صارف اب تو جاگ جا جب لٹ جائے گا تب جاگے گا

عبدالجبار دریشک

صارف جاگ جا عبدالجبار دریشک کالمز

اپنا تبصرہ بھیجیں