297

ڈرنے اور لچک دیکھانے کی ضرورت نہیں اسی طرح جرت دیکھاتے رہیں

Abdul Jabbar Khan Columns

پاکستان امریکا کے لیے مزید کرائے کی بندوق کے طور پر استعمال نہیں ہوگا، امریکا سے بھی چین جیسے تعلقات چاہتے ہیں، پاکستان امریکا کی جنگ بہت لڑ چکا، اب وہ کریں گے جو ہمارے ملک کے مفاد میں ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان کا واشنگٹن پوسٹ کو دیا گیا انٹرویو جس میں انہوں نے یہی بیان دیا،

میرے نزدیک وزیر اعظم عمران خان نے ٹھیک کہا ہے کیونکہ پاکستانی قوم کو ہمیشہ دوسرے ممالک نے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا جہاں قربانی دینی ہو اپنا خون بہانا ہو پاکستانی کا خون انہیں سستے میں میسر آجاتا رہا ہے ۔




ہمارے سامنے بہت سارے ممالک کی مثالیں ہیں جن کو امریکا نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا پھر مقاصد پورے ہونے کے بعد ان ممالک کو تباہ بھی اپنے ہاتھوں سے کیا ایران کو کبھی عراق کے لیے استعمال کیا تو کبھی عراق کو ایران کے خلاف پھر عراق کو اپنے ہاتھ سے تباہ کیا۔

ایسے ہی شام، لیبیا ، مصر ،تیونس میں امریکا نے ہی کھیل رچایا، امریکا کی نفسیات دیکھی جائے تو یہ ہمیشہ دھمیکی زبان میں بات کرتا ہے اور ڈرنے والے کو اور زیادہ ڈراتا لیکن سامنا کرنے والے سے خود گھبرا جاتا ہے

امریکا سے 90 کلومیٹر دور کیوبا کا امریکا نے کچھ بگاڑا .؟ شمالی کوریا کا کیا اکھاڑ لیا ؟ امریکا نے ، ایران پر پابندیاں لگائی گئیں دھمکیاں دی گئیں لیکن امریکا کی جرت نہ ہوئی کہ وہ ایران کا کچھ بگاڑ سکے۔




کاش اس وقت ہمارے حکمرانوں نے سوچا ہوتا کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں ہمیں پتھر کے زمانے میں لے جانے والے خود جل مریے گا آج تک جو بھی حکمران آیا ہے اس نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے امریکا کے معاملات کو تحفظ دیا ہے.

اب خود امریکا کی یہ پوزیشن ہو گئی ہے کہ اس نے اپنے آپ کو بچانا ہے تو دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی نہ دے امریکا کے پاس اتنا بجٹ نہیں کہ وہ مزید محاذوں پر لڑ سکے امریکا کسی طرح افغان جنگ سے رسوا چہرے کی بجائے فرضی کامیابی کا ماسک لگا کر نکلنا چاہتا ہے

کل تک جو طالبان دہشت گرد تھے آج امریکا ان کے ساتھ کیوں مذاکرات کے تیار ہو گیا ہے روس اور چین زخمی درندے کو مارنا تو نہیں چاہتے اسے دوڑا دوڑا کر لاچار اور بے بس کرنا چاہتے ہیں




اس تمام صورت حال میں پاکستان کا امریکا کے ساتھ برابری کے ساتھ چلنا ہی فائدے مند رہے گا ڈرنے اور لچک دیکھانے سے اپنے آپ کو کمزور کرنے والی بات ہوگی۔

عبدالجبار دریشک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں