168

یہاں دماغ نہیں صرف زبان چلتی تھی، تحریر عبدالجبار دریشک

Abdul Jabbar Khan Columns

سارے کام زبان سے نہیں بلکہ زبان سے کچھ اوپر رکھے دماغ سے ہوتے ہیں ہم کچھ عرصہ پہلے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے کے کہ ہمیں وہ شاہکار بے کار مل گیا ہے۔ اب ہم دنیا کو بتا سکیں گے تم البرٹ آئن سٹائن کے تانے ہمیں دیتے ہو کہ اس نے ہی ساری ایجادات کی ہیں

ہمیں تمہارے اس طرح کہنے سے شرمندگی ہوتی تھی ہم انگریزوں سے جلتے ، اور رور رور کر اللہ سے دعا کرتے تھے کہ ہمارے پاس بھی البرٹ آئن سٹائن جیسا کو مسیحا پیدا ہو گا جو ہماری زندگیاں بدل دے ہمارا نام بن جائے لوگ ہمیں ہمارے ملک کی وجہ سے نہیں بلکہ ایسے آئن سٹائن کی وجہ سے پہچانتےہوں ۔




جہاں ہم اور ہماری آنے والی نسلیں اس کے بعد والی نسلیں اور نہ جانے کتنی نسلیں اس کی ریسرچ اور معاشی پلان سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔

ہم نے تو کئی سو ایکٹر پر مشتمل ایک پلاٹ بھی قبضہ مافیاء سے واگزار کروا لیا تھا کہ اس پر ایک میوزیم بنائیں گے اور اپنے اس آئن سٹائن کا دماغ اس میں رکھیں گے پھر ہر سال دنیا بھر لاکھوں لوگ صرف اس آئن سٹائن کے دماغ کی زیارت کو آئیں گے ہمیں اس کے زندہ دماغ سے جو پیسہ حاصل ہوگا سو ہو گا ہم اس کے مردہ دماغ سے بھی فائدہ اٹھائیں گے

ہم نے یہ بھی سوچا تھا اس کے دماغ کی فوٹو کاپیاں بنوا کر گھروں میں لگائیں گے بچوں کے گلے میں تعویز کی طرح لٹکائیں گے اور امتحانات میں کامیاب کی خاطر اس کے دماغ کی فوٹو کاپی کو پانی میں گھول کر پیں گے۔




ہمیں کیا پتہ تھا یہاں دماغ نہیں صرف زبان چلتی تھی

عبدالجبار دریشک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں