مرغی انڈےاور جاہل قوم، تحریر یاسر رسول

تحریر: یاسر رسول

مرغی اور انڈے پالیسی کا پٹواریوں، جیالوں اور عقل کے اندھوں نے جتنا مزاک بنایا، دیکھ کر بڑی حیرانگی ہوئی. یہ جاہلانہ پن بلکل واضع کرتا ہے کہ ہماری عوام خود ہی غربت سے نہیں نکلنا چاہتی.

میں عمران خان کا سپورٹر نہیں لیکن میں حکومت کی اس پالیسی کی بھرپور حمایت کروں گا کیونکہ یہ پالیسی یقینی طور پر ہمارے معاشرے کے غریب مسکین افراد کو دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے میں مدد دے سکتی ہے.

دیکھیں نوکری کا انتطار کرتے کرتے آپ کی جوانی ڈھل گئی لیکن آپ نے کبھی کمانے کے دوسرے ذرائع پر غور کرنا بھی گوارا نہ کیا. مغربی معاشرے میں لوگ نوکری کم جبکہ اپنا بزنس کرنے کو زیادہ ترجیع دیتے ہیں اور یہاں ہم آدھی زندگی نوکری کی تلاش میں گزاردیتے ہیں.




دنیا کا سب سے زیادہ امیر آدمی “بل گیٹس” خود کہتا ہے کہ اگر میں غریب ہوتا تو مرغیاں پالتا لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں جاہلوں نے انڈے مرغی کا مزاک اڑانا شروع کردیا. جب یہ قوم خود ہی اپنی تقدیر بدلنا نہیں چاہتی تو اللہ اس قوم پر کیوں ترس کھائے. مرتے رہو غربت میں، نہ نوکری ملے گی نہ چھوکری، یوں ہی بڈھے ہوکر مرجاؤ.

مرغیان پالنے کے لیے آپ کو لاکھوں روپیوں کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی، صرف دو تین ہزار روپے سے بھی اچھا کام شروع کیا جاسکتا ہے. حکومت 1200 روپے میں ایک مرغا اور چار مرغیاں فراہم کر رہی ہے. فی مرغی روزانہ کی بنیاد پر دو تین انڈے دے گی، تین نہ بھی دے تو دو ضرور دے گی، اس طرح کل چار مرغیوں کے 12 یا پھر 8 انڈے روزانہ ہوں گے. اب مارکیٹ حساب سے فی انڈا 8 سے 10 روپے میں بکے گا تو 12 انڈون سے روزانہ آپ 120 روپے یا 80 روپے کمالیں گے جن سے ایک غیب مسکین کے گھر میں روٹی سالن کا تو بندوبست ہوجائے گا.

اس کے علاوہ کچھ انڈوں سے چوزے بھی نکلیں گے اور یوں آپ کی مرغیاں ہر ماہ بڑھتی جائیں گی، چھے ماہ سے ایک سال میں آپ کی مرغیاں سینکڑوں میں ہوجائیں گی پھر آپ اپنا پولٹری فارم لگاسکین گے. اس چھوٹی سے شروعات سے آپ یقینی طور پر غربت سے چھٹکارا پا سکتے ہیں.




ہر ماہ ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے کماسکتے ہیں، انڈے اور مرغیاں خود بھی کھائیے، مارکیٹ میں بھی بیچیے، مرغیون سے مرغیاں بڑھاتے جائیے اور آگے چل کر دیسی مرغی کا پولٹری فارم بنالیجیے. یاد رہے مارکیٹ میں ایک اچھی دیسی مرغی 600 سے 1200 تک ملتی ہے. اگر آپ کے پاس دیسی مرغیوں کا فارم ہو تو سوچیے آپ کتنا کما سکتے ہیں.

تو میرے ہم وطنون! دیر کس بات کی، آج ہی اپنے بھائیوں یا دوستوں کے ساتھ مل کر پلان بنائیے، حکومت سے سستی مرغیاں لینے کے لیے اپنے قریبی لائیو اسٹاک آفس جاکر فارم حاصل کرکے وہیں جمع کروائیے. اور اگر حکومت کے انتظار میں نہیں بیٹھنا چاہتے تو خود ہی مارکیٹ سے یا کسی دیسی فارم سے سستی مرغیاں خرید کر بسم اللہ کیجیے.

لیکن خدارا….. یوں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر فارغ مت بیٹھیے، آگے بڑھنے کی سوچیے، نوکری کرکے غلامی کی زندگی جینے سے اپنا حق حلال کماکر خود اور اہل و عیال کو کھلائیے، یہ جہاد بھی ہے، ثواب بھی اور غربت کی زندگی سے نکل کر خوشحال بننے کا عظیم نسخہ بھی.




بھیک مانگ کر یا دوستوں اور رشتہ داروں سے ادھار لیکر جینے سے کیا یہ کام زیادہ بہتر نہیں ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں