تیل کے بعد کافی کی پیداوار 208

اس وقت تیل کے بعد کافی کی پیدوار کا منافع سب سے زیادہ ہے

تیل کے بعد کافی کی پیداوار

Abdul Jabbar Khan Columns

ہمارے ہاں سردیاں آتے ہی کافی کا استعمال بڑھ جاتا ہے ویسے تو چائے کو اکثر اس لیے استعمال کیا جاتا ہے اس سے تھکاوٹ دور ہوتی ہے طبعیت میں تازگی آجاتی ہے اور دفتر دوکان سفر یا پھر گھر سب جگہ چائے کی چسکی موڈ کو خوشگوار بنا دیتی ہے بات تروتازگی چست کی ہو تو چائے کی نسبت کافی جلد ذہنی و جسمانی طور پر چست بناتی ہے فوری سستی و تھکاوٹ کو دور کرتی ہے سردیوں میں اس کے استعمال سے سردی کم لگنے کے ساتھ رات دیر تک کام کرنے اور جاگنے میں بھی جسم اور ذہن کوفٹ کر دیتی ہے کافی کے بہت سارے فائدے ہیں لیکن میں یہاں سعودی عرب میں کافی فیسٹول کے بارے اور کافی کی پیدوار و اقسام کے بارے بتاؤں گا

سعودی عرب کے صوبے جازان کے پہاڑی علاقے میں اس سال چھٹا کافی فیسٹول شروع ہوچکا ہے ۔ سعودی عرب میں کافی فیسٹول کا مقصد الدائر بنی مالک اور دیگر پہاڑی ضلعوں کے علاوہ پورے صوبے کے حوالے سے زراعتی، سیاحتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے امکانات کا تعارف پیش کرنا ہے تاکہ یہاں کی زرعی پیدوار کو مزید فروغ مل سکے۔ جاران کے علاقے میں کافی کے 75 ہزار سے زیادہ پودے ہیں جب کہ پیشہ وارانہ طور پر کافی کی پیداوار میں مصروف عمل کاشت کاروں کی تعداد 700 سے زیادہ ہے۔




باقاعدہ کافی کی کاشت سولہویں صدی سے ہونے کے آثار ملتے ہیں آج اس وقت دنیا کے 120 ممالک میں کافی کاشت کی جاتی ہے یہ بات یقیناً حیرانی کا باعث ہے تیل کی آمدن کے بعد اگر کسی چیز کا منافع زیادہ تو وہ ہے کافی کا ہے ۔

کافی کی پودے دو اقسام کے ہوتے ہیں

عرابیکا

روبسٹا

روبسٹا کافی کا مزہ زیادہ تیز ہے۔‏ عام طور پر اس سے اِنسٹنٹ کافی تیار کی جاتی ہے۔‏ روبسٹا کے پودے کا قد عموماً 40 فٹ تک ہوتا ہے،‏جبکہ یہ عرابیکا کے پودے سے دُگنا ہے۔‏ روبسٹا کی پھلیوں میں کیفین کی مقدار 2.7 ہوتی ہے جبکہ عرابیکا میں یہ صرف 1.5 ہوتی ہے۔‏ ایک اندازے مطابق دنیا میں اس وقت تقریباً 120 ممالک میں ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ کافی کے باغات ہیں اور اسی طرح ان باغات میں کافی کے 15 ارب سے زیادہ پودے موجود ہیں۔‏




کافی پیدوار کے حوالے سے برازیل ، ویتنام ، کولمنیا ، انڈنیشیاء ، اتھوپیا، بھارت ، میسکیو، سعودی عرب، کینیا ،مصر ، سری لنکا وغیرہ سہرفہرست ہیں ، اس وقت جتنی کافی کی پیدوار ہے اس میں وقت کے ساتھ ساتھ کمی واقع ہورہی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ 2012 گوئٹے مال میں سخت گرمی سے کافی کے پتے خراب ہونے کے باعث اس کی پیداوار میں 85 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ افریقہ کے غریب ممالک کافی کی پیدوار سے اچھی آمدن حاصل کر رہے ہیں اور کافی پیدوار سے لے کر اس کی پروسیسنگ تک بڑی تعداد میں مقامی آبادی کو روزگار میسر آ رہا ہے۔ صرف تنزانیہ میں 2.4 کروڑ افراد صنعت سے وابستہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دُنیا بھر میں کافی کی تجارت سے سالانہ 70 ارب ڈالر کمائے جاتے ہیں۔

کافی کی پیدوار جہاں دنیا کے 120 ممالک میں ہورہی ہے وہیں اس پیدوار میں پاکستان کا نام ان 120 ممالک کی لسٹ میں شامل نہیں، حالانک ہمارے ہاں ہر قسم کی زمین موجود ہے موسمی اعتبار سے ہمارے پاس خوش قسمتی سے چار موسم ہیں۔ لیکن اس باوجود ہمارا حصہ اس پیدوار میں شامل نہیں




تیل کی آمدن کے بعد کافی کامنافع ہے تو حکومت ، محمکہ زراعت ،ایکلچر یونیورسٹیز ، ریسرچ سنٹر کافی کی کاشت کے تجربات کروائیں اگر کاشت کامیاب ہوجاتی ہے اس کی فارمنگ کروا کر اچھا خاصہ زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے چکوال میں زیتون کو پہاڑوں پر کاشت کر کے انہیں ڈرپ ایری گیشن کے ذریعے سیراب کیا گیا ہے جو ایک کامیاب تجربہ رہا ہے ایسے ہی کافی کی کاشت کامیاب ہو جائے گی۔

عبدالجبار دریشک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں