187

کابل یونیورسٹی کا ہاسٹل پختون طلبہ کیلئے بند، وجہ جانئے

زیر نظر تصاویر تبلیغی جماعت کی نہیں ہیں بلکہ یہ کابل یونیورسٹی کے ان پختون طلبہ کی تصاویر ہیں جنہیں نومبر کے پہلے ہفتے میں کابل یونیورسٹی کے ہاسٹل سے زبردستی بے دخل کیا گیا ہے اوریہ لوگ اس شدید سردی میں کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور تھے ۔۔تاہم افغان فورسز نے انہیں چند روز قبل کابل کے فٹ پاتھوں پر شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنا نے کے بعد یہ کہہ کر کابل سے نکال دیا ہے کہ اگر انہوں نے احتجاج کیا تو انہیں دہشت گرد قراردیکر جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ خبر جاری ہے۔۔۔

کابل یونیورسٹی

جی ہاں یہ سب کچھ اس افغانستان کے دارالحکومت میں ہوا جہاں کے باسی پاکستان میں پختون پرظلم کا واویلا کرتے نہیں تھکتے ۔۔۔آج کی تازہ خبر کے مطابق کابل یونیورسٹی کا ہاسٹل اب مستقبل طورپر پورا تعلیمی سال بند رہے گا۔





پوھنتون کابل

معاملہ کیا تھا ۔۔مختصر سی بات یہ ہے کہ یونیورسٹی میں ایک غیرپختون گروپ محرم الحرام کاپروگرام کررہا تھا یونیورسٹی انتظامیہ کے منع کرنے کے باوجود بھی گروپ نے زبردستی پروگرام منعقد کیا ۔۔صرف ایک نہیں بلکہ محرم کے تمام پروگرام ۔۔جس سے طلبہ نے آرام اورپڑھائی میں خلل کی شکایت کی۔۔معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچا اورانجام کار ایک طالبعلم کی موت پر منتج ہوگیا۔

University of kabul

کابل یونیورسٹی پر اس وقت ایک غیر پختون گروپ کے ایک مسلح لشکر کی اجارہ داری ہے ۔۔ اس گروپ نے پختون طلبہ کے یونیورسٹی داخلے پر پہرے بٹھاکر پابندی عائد کررکھی ہے ۔۔۔ اس تمام تر لڑائی کو کابل حکومت کی انتظامیہ اور وزارت تعلیم براہ راست دیکھ رہی ہے ۔۔لیکن یہ ادارے بے بس ہیں ۔۔
اس معاملے سے ہم بے خبر اس لئے ہیں کہ یہ افغانستان میں ہورہا ہے اس ملک میں جس کے ادارے پاکستانی پختونوں کے غم میں پریشان ہونے کے باعث اپنے ملک کے پختونوں سے بے خبر ہیں




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں