162

بچے سکول لانا استاد کی ذمہ داری نہیں ہے

Abdul Jabbar Khan Columns

جب ٹھنڈے کمروں اور میز پر پڑھی پانی کی بند بوتلوں کو پینے والی افسر شاہی پالیساں بناتی ہے تو اسے صرف اس بات کا پتہ ہوتا ہے کہ بس یہ نظام جو ان لوگوں نے بنایا ہے ہر حال میں چلنا چاہیے لیکن چلنا کیسے چاہیے یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے۔

ہمارے تمام تر شعبہ جات اور محکموں کا یہی حال ہے جہاں پالیساں ریسرچ کے بعد بنانے کی بجائے رات کو دیکھے گئے خوابوں کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہیں۔

کسی بھی ملک کی ترقی میں تعلیمی کا اہم کردار ہوتا ہے یہ شعبہ ایک نرسری کو تن آوار پھل دار درخت بناتا ہے اس میں شعبہ میں 99.99 فیصد استاد کردار اہم ہوتا ہے لیکن کچھ عرصے سے اس شعبہ کے پالیسی میکرز نے استاد کو عزت دینے کی بجائے اس کی تذلیل شروع کر رکھی ہے

آج ایک دوست نے وائس ایپ پر خبر شئیر کی جسے پڑھ کر دلی طور پر دکھ ہوا راجن پور کے دیہی علاقے فتح پور کے قریب دو خواتین معلمات بچوں کی تعداد پوری کرنے کے لیے سکول کی قریبی بستی میں گئیں جہاں ان بچاری خواتین پر بستی کے کتوں نے حملہ کر دیا۔ جس سے ایک معلمہ نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو بچایا لیکن دوسری معلمہ کو کتے نے کاٹ کر زخمی کردیا۔




بچاری معلمہ کافی دیر چلاتی رہی بالاآخر باپردہ خاتون نے اپنا برقعہ اتار کر کتے پر پھنک دیا اور جلدی قریب گھر کی طرف دوڑ پڑی اتنی دیر میں بستی کے لوگ بھی آگئے۔

اب سوال یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں اکیلی خواتین ٹیچر گھر گھر بچے اکھٹے کرنے کے لیے باحالت مجبوری اور محکمے کے پریشر سے جاتی ہیں وہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے، ان کو جان کی فکر کے ساتھ اپنی عزت کا تحفظ بھی کرنا پڑتا ہے۔

ایسے واقعات کئی مرتبہ ہو چکے ہیں کہ دیہاتوں میں ٹیچرز کو تو سکول جاتے ہوئے آوارہ کتے کاٹ لیتے ہیں لیکن بچے اکھٹے کرنے کے لیے ان کو بستی بستی چکر لگانا پڑتا ہے۔

استاد کے احترام کے علاوہ یہ خواتین کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جہاں انہوں کام کی جگہ پر مکمل تحفظ کی ضمانت ریاست فراہم کرتی ہے تو پھر یہ خواتین معلمات سے ناانصافی نہیں کہ انہیں اکیلا دور دور علاقوں میں بچے جمع کرنے کے لیے پریشر ڈالا جائے۔

محکمہ تعلیم کے حکام سکولز میں بچوں کا ہجوم دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بچوں کی دی جانے والی تعلیم ، سہولیات ، اور تربیت پر فوکس نہیں کیا جاتا۔

ہمارے ہاں کاٹن سیزان میں دیہی سکولوں میں بچوں کی تعداد آدھی رہے جاتی ہے سکول جانے والی بچیاں اپنی ماں اور رشتے دار خواتین کے ساتھ کپاس کی چنائی پر چلی جاتی ہیں۔ یہ عمل سکول کی تعداد کو متاثر کرتا ہے،




استاد لاکھ کوشش کر لے والدین اپنی مرضی سے ہی بچوں کو سکول بھجواتے ہیں اس کے لیے قانون بنانے کی ضرورت ہے جو والدین بچوں کو سکول نہ بھجوائیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔

بچوں کو سکول لانے میں بلدیاتی نمائندے اور کونسلرز و چیرمین کی مدد لی جائے وہ لوگوں کو قائل کریں ۔ بستی کا نمبر دار ، مسجد کا امام بھی اس کام میں مدد کرے۔

محمکہ تعلیم کو اس بات سے غرض نہیں کہ سکول کا تعلیمی معیار کیا چیک کرنے والے فوجی، اے ای اوز تعداد پر دھیان دیتے ہیں۔ لیکن کبھی یہ نہیں پوچھا جاتا کہ بچوں کو کیا پڑھایا ہے اور جو پڑھایا گیا اس کا ٹیسٹ بھی لے کر چیک کرلیں۔ لیکن اتنی زحمت کوئی نہیں کرتا۔

کے پی کے میں اے ای اوز پورا دن سکول میں گزارتے ہیں استاد کے ساتھ تدریسی عمل میں شامل رہتے ہیں اور کلاسز کو پڑھاتے ہیں لیکن پنجاب میں صورت حال کچھ اور ہے




اسمبلیوں میں موجود خواتین اس اہم مسئلے کو ضرور اٹھائیں انہیں اسمبلوں میں اس لیے مخصوص نشستیں دی گئی ہیں کہ وہ اپنی خواتین کے حق کے لیے آواز بلند کر سکیں۔ دوسری جانب خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظمیں اور انسانی حقوق کمیشن بھی ان خواتین کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائے بچے جمع کرنا استا کا کام نہیں ہے استاد کا کام صرف پڑھانا ہے۔

عبدالجبار دریشک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں